
سندھ کی بیٹیاں اور چترال کے برفانی پہاڑ۔۔تحریر: ناصر علی شاہ
1980ء کی ایک خاموش داستانِِ خدمت جب زخموں سے بہتا خون روکنے کے لیے توے کی سیاہی (کالک) مل دی جاتی تھی یا مٹی ڈالی جاتی تھی یہ اس تاریک دور کی بات ہے جب سندھ کی بہادر بیٹیاں اپنے گھر بار چھوڑ کر چترال کی دور دراز وادیوں میں انسانوں کا درد بانٹ رہی تھیں۔
ملازمت اپنی جگہ، مگر محض خدمت کی نیت سے اپنے گھر اور اہل و عیال سے دور جانا ناممکن نہ سہی، انتہائی کٹھن ضرور ہوتا ہے۔ سندھ کی ان بیٹیوں کی کہانی آپ کو شاید ایک عام سی داستان یا ڈیوٹی لگے، لیکن اس کی عظمت کو وہی سمجھ سکتا ہے جو 1980ء کے چترال کے حالات سے واقف ہو۔
ایک ایسا کٹھن دور تھا جہاں کھانے کو روٹی میسر نہ تھی اور پہننے کو محض ایک جوڑا، وہ اندھیروں کا زمانہ تھا لالٹین بھی صرف کھانا کھانے کی حد تک جلائی جاتی تھی۔ نہ سڑکیں اور نہ سڑکوں پر گاڑیوں کا شور تھا، نہ موبائل کی گھنٹیاں، خط لکھ بھی دیا جاتا تو ڈاکخانے والوں کے کرم سے مہینے بھر بعد پہنچتا۔
جب زندگی کا یہ عالم تھا، تو آپ تعلیم اور صحت کی سہولیات کا اندازہ خود لگا سکتے ہیں یعنی بالکل ندارد! جہاں خون بند کرنے کے لئے کپڑا تک میسر نہ ہو، وہاں زچہ و بچہ کن حالات سے گزرتے ہوں گے، یہ سوچ کر ہی روح کانپ اٹھتی ہے۔
انہی اندھیروں کو مٹانے، انسانیت کے دکھ درد کم کرنے اور صحت کی روشنیاں پھیلانے کے لیے آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کراچی کے چانسلر پرنس کریم آغا خان چہارم کی ہدایت پر خاص طور پر LHVs (لیڈی ہیلتھ وزٹرز) کو تربیت دے کر چترال بھیجا گیا، تاکہ غریب عوام کے زخموں پر مرہم رکھا جا سکے اور حاملہ خواتین و بچوں کو دیکھ بھال مل سکیں۔
انہی عظمت والی بیٹیوں میں
سے ایک ایل ایچ وی راشیدہ سلیم ڈائمنڈ بھی تھیں، جو 1980ء میں اپنا پیارا شہر کراچی چھوڑ کر چترال کے قصبے ‘چروں’ پہنچیں۔
انہوں نے بتایا کہ وہاں کے مکھی احمد علی نے ان کا سگی بہنوں کی طرح خیال رکھا اور چوکیدار پردم بھائی بھی کسی سے پیچھے نہ تھا، جبکہ چروٗں کے عام لوگ بھی بے حد مخلص تھے۔
سلیمہ ڈائمنڈ کے ساتھ ایل ایچ وی نجمہ، ایل ایچ وی اشرف (جنہیں چوئج بھیجا گیا)، ایل ایچ وی حبیبہ (جن کی بعد میں چترال ہی میں شادی ہوئی)، اور مہنور (جنہیں مداک لشٹ بھیجا گیا) شامل تھیں۔ ان میں سے متعدد خواتین کی پوسٹنگ گرم چشمہ اور یارخون جیسے انتہائی دور دراز علاقوں میں ہوئی۔ ان کا کام صرف سینٹر تک محدود نہ تھا، بلکہ وہ پیدل ہوم وزٹ (گھر گھر جا کر طبی امداد) کرتی تھیں۔ وہ کن کن بے پناہ مشکلات سے گزریں، یہ سب ان کی ذاتی ڈائری کے صفحات میں محفوظ ہے۔
یہ عظیم خواتین 1982ء کے علاقائی کشیدہ حالات اور فسادات تک مسلسل خدمت سرانجام دیتی رہیں۔ جب حالات زیادہ خراب ہوئے تو انہیں گلگت منتقل کیا گیا، جہاں سے وہ واپس اپنے وطن سندھ روانہ ہوئیں۔
ایک التماس:
آغا خان ہیلتھ سروس چترال سے پرزور گزارش ہے کہ ان محسن خواتین کے اعزاز میں ایک عالی شان تقریب کا انعقاد کیا جائے اور ان کی بے لوث خدمات کا اعتراف کیا جائے۔
(نوٹ: یہ تاریخ ساز معلومات محترمہ ایل ایچ وی راشیدہ سلیم ڈائمنڈ سے حاصل ہوئی ہیں جو الحمدللہ بقیدِ حیات ہیں۔ ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالی ان کی خدمات کو قبول فرمائے اور انہیں صحت و تندرستی کے ساتھ درازیِ عمر عطا فرمائے، آمین۔
