مضامین

عوام کے درمیان سے ابھرنے والی قیادت — وجیہ الدین۔تحریر: فتح اللہ:

سیاست میں نام بہت ہوتے ہیں، دعوے بھی بہت کیے جاتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ یہ فرق نمایاں ہو جاتا ہے کہ کون صرف سیاست میں موجود ہے اور کون واقعی عوام کے درمیان موجود ہے۔ میرے نزدیک قیادت کا اصل امتحان جلسوں، تقریروں یا کسی مخصوص موقع پر سامنے آنے سے نہیں، بلکہ اس بات سے ہوتا ہے کہ ایک شخص عام حالات میں عوام کے ساتھ کتنا جڑا ہوا ہے، ان کے مسائل کو کتنی توجہ سے سنتا ہے اور مشکل وقت میں ان کے لیے کہاں کھڑا ہوتا ہے۔

گزشتہ تقریباً دو برسوں کے دوران مجھے بطور میڈیا پرسن وجیہ الدین، امیر جماعت اسلامی لوئر چترال کے ساتھ کام کرنے اور انہیں قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ یہ عرصہ میرے لیے محض پیشہ ورانہ تعلق کا وقت نہیں تھا بلکہ ایک سیاسی اور عوامی شخصیت کو قریب سے سمجھنے کا موقع بھی تھا۔ کیمرے کے سامنے کی شخصیت اور عام زندگی میں کسی انسان کے رویّے میں فرق ہوتا ہے، لیکن کسی رہنما کی اصل پہچان شاید وہی ہوتی ہے جو کیمرے بند ہونے کے بعد بھی قائم رہے۔

ان دو برسوں میں، میں نے وجیہ الدین کو مختلف مواقع پر دیکھا۔ کبھی کسی بڑے عوامی مسئلے کے دوران، کبھی احتجاج اور جدوجہد کے موقع پر، کبھی کسی دور دراز علاقے سے آنے والے عام شہری کے ساتھ اور کبھی اپنے دفتر میں لوگوں کے مسائل سنتے ہوئے۔ اس مشاہدے کے بعد میرے ذہن میں ان کی شخصیت کا جو نقش ابھرا، اس کی بنیاد محض سیاسی وابستگی نہیں بلکہ ان کا عوام کے ساتھ تعلق، ان کا مزاج اور مسائل کے حل کے لیے مسلسل کوشش ہے۔

چترال میں مختلف سیاسی جماعتوں، سماجی تنظیموں، سرکاری و غیر سرکاری اداروں اور دفاتر سے وابستہ لوگوں سے ملنے کا موقع ایک میڈیا ورکر کو ملتا رہتا ہے۔ اس پیشے سے وابستہ ہونے کی وجہ سے ہمیں یہ اندازہ بھی ہوتا ہے کہ کہاں لوگوں کا آنا جانا ہے، کس دفتر میں کس نوعیت کے مسائل لے کر لوگ پہنچتے ہیں اور کون سی جگہ واقعی عام آدمی کے لیے قابلِ رسائی ہے۔ میں نے اپنے مشاہدے میں بہت کم ایسے دفاتر دیکھے ہیں جہاں روزانہ کی بنیاد پر عام لوگوں کا اس قدر تسلسل کے ساتھ آنا جانا ہو، جتنا وجیہ الدین کے دفتر میں دیکھنے کو ملتا ہے۔

یہ محض سیاسی کارکنوں یا جماعت سے وابستہ افراد کا آنا نہیں ہوتا۔ روزانہ مختلف علاقوں سے لوگ اپنے ذاتی، اجتماعی اور عوامی مسائل لے کر وہاں پہنچتے ہیں۔ کوئی بجلی کے مسئلے کے لیے آتا ہے، کوئی تعلیمی معاملے پر تو کوئی پانی کے معاملے پر بات کرتا ہے، کوئی کسی دفتر یا متعلقہ ادارے تک اپنی آواز پہنچانا چاہتا ہے اور کوئی کسی ایسے مسئلے کے ساتھ آتا ہے جس کے لیے اسے رہنمائی یا مدد درکار ہوتی ہے۔

میرے مشاہدے میں ان کا دفتر صرف ملاقاتوں کی جگہ نہیں بلکہ بہت سے لوگوں کے لیے ایک ایسی جگہ بن چکا ہے جہاں وہ اپنے مسائل لے کر آتے ہیں اور کم از کم یہ یقین رکھتے ہیں کہ ان کی بات سنی جائے گی۔ بسا اوقات لوگوں کے مسائل کو متعلقہ دفاتر، ذمہ داران یا اداروں تک پہنچانے کے لیے خود ان کے ساتھ رابطہ کیا جاتا ہے، اور ضرورت پڑنے پر ان کی رہنمائی کی جاتی ہے تاکہ مسئلہ کسی نہ کسی سطح پر آگے بڑھ سکے۔

یہ کہنا آسان ہے کہ ہر مسئلہ حل ہو جاتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ کسی ایک شخص کے لیے ہر فرد کا مسئلہ حل کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ اصل بات یہ ہے کہ کسی مسئلے کو سنجیدگی سے لیا جائے، اسے نظر انداز نہ کیا جائے اور اپنی استطاعت کے مطابق اس کے حل کے لیے کوشش کی جائے۔ وجیہ الدین کے بارے میں میرا مشاہدہ یہی رہا ہے کہ ان کے پاس آنے والے لوگوں کی بات کو محض رسمی انداز میں نہیں سنا جاتا بلکہ جہاں ممکن ہو، اس کے حل کے لیے متعلقہ سطح تک پہنچنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

ان کی شخصیت کا ایک اور نمایاں پہلو ان کا نرم مزاج ہے۔ سیاست میں بعض اوقات سخت لہجے اور بلند آواز کو طاقت سمجھ لیا جاتا ہے، لیکن میں نے انہیں لوگوں کے ساتھ ایک مختلف انداز میں پیش آتے دیکھا۔ بچے ہوں، نوجوان ہوں، بزرگ ہوں یا کوئی عام شہری، ان کے ساتھ گفتگو میں احترام اور اپنائیت نمایاں ہوتی ہے۔

یہ وہ خوبی ہے جسے شاید کسی سیاسی تحریر یا تقریر میں پوری طرح بیان نہیں کیا جا سکتا۔ کسی رہنما کی اصل شخصیت اس وقت سامنے آتی ہے جب اس کے سامنے کوئی ایسا شخص بیٹھا ہو جس سے اسے کوئی سیاسی فائدہ نہ ملنے والا ہو۔ میں نے وجیہ الدین کو عام لوگوں کے ساتھ بھی اسی احترام اور نرمی سے پیش آتے دیکھا ہے۔

ان کے ساتھ کام کرتے ہوئے ایک اور چیز جس نے مجھے بارہا متاثر کیا، وہ ان کی میرٹ سے وابستگی ہے۔

ہم ایسے معاشرے میں رہتے ہیں جہاں سفارش اکثر معمول کی بات بن چکی ہے۔ دوست، رشتہ دار اور قریبی لوگ بھی بعض اوقات یہ توقع رکھتے ہیں کہ ان کی قربت کی وجہ سے ان کے لیے کوئی خاص رعایت کی جائے۔ ہم بھی ان کے قریب رہے، ہمارے بھی اپنے مسائل اور خواہشات تھیں، دوست احباب اور جاننے والوں کے معاملات بھی سامنے آتے تھے۔ لیکن میرے مشاہدے میں انہوں نے تعلق سے بڑھ کر اصول اور میرٹ کو ترجیح دینے کی کوشش کی۔

جماعت کے اندر ہو یا جماعت سے باہر، فیصلہ کرتے وقت ان کے نزدیک حق دار کا حق اور میرٹ بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ انسانی زندگی میں ہر فیصلہ آسان نہیں ہوتا اور ہر موقع پر سب کو خوش رکھنا ممکن بھی نہیں، لیکن کسی شخصیت کا اصل معیار یہی ہوتا ہے کہ وہ دباؤ، تعلقات اور خواہشات کے باوجود اپنے اصولوں کو کس حد تک قائم رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔

وجیہ الدین ایک تعلیم یافتہ اور باصلاحیت نوجوان رہنما ہیں اور ان کا تعلق ایک ایسے خاندان سے ہے جس نے چترال میں تعلیم اور سماجی شعور کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کیا ہے۔ شاید یہی پس منظر ان کی شخصیت اور عوامی سوچ میں بھی جھلکتا ہے۔

امیر جماعت اسلامی لوئر چترال کی حیثیت سے انہوں نے اپنے سیاسی اور عوامی کردار کو صرف تنظیمی سرگرمیوں تک محدود نہیں رکھا۔ چترال میں بجلی کے بحران کا مسئلہ ہو، پانی کی قلت ہو، عوام پر مالی بوجھ سے متعلق معاملات ہوں، پٹرولیم مصنوعات پر لیوی کا مسئلہ ہو یا کوئی اور اجتماعی محرومی—وہ ان معاملات پر آواز اٹھانے اور عوام کو منظم کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔

چترال ایک دور افتادہ اور جغرافیائی طور پر مشکل خطہ ہے۔ یہاں مسائل صرف ایک درخواست یا ملاقات سے ہمیشہ حل نہیں ہوتے۔ بعض معاملات میں عوامی رائے کو منظم کرنا پڑتا ہے، لوگوں کو اعتماد میں لینا پڑتا ہے اور مسلسل جدوجہد کرنا پڑتی ہے۔ ایسے مواقع پر احتجاج، دھرنا اور دیگر پُرامن عوامی ذرائع بھی استعمال ہوتے ہیں۔

وجیہ الدین کی جدوجہد کا ایک نمایاں پہلو یہ ہے کہ وہ کسی مسئلے کو صرف زیرِ بحث لانے تک محدود رکھنے کے بجائے اس کے لیے عملی کوشش کو ضروری سمجھتے ہیں۔ بجلی کے بحران کے دوران عوامی جدوجہد ہو یا دوسرے اجتماعی مسائل، انہیں میدان میں متحرک دیکھا گیا ہے۔ ان کے ساتھ عوام کی شرکت اس بات کا اظہار بھی ہے کہ لوگوں کو ان کی نیت اور جدوجہد پر اعتماد حاصل ہے۔

کسی بھی تحریک کی کامیابی کا فیصلہ صرف اس کے قائد کے دعووں سے نہیں ہوتا، بلکہ عوام کی شمولیت اور مستقل مزاجی سے ہوتا ہے۔ میرے مشاہدے میں جب وجیہ الدین کسی اجتماعی مسئلے کے لیے میدان میں نکلتے ہیں تو وہ صرف چند گھنٹوں کی سرگرمی تک محدود رہنے کے بجائے اس مسئلے کے حل تک اپنی جدوجہد جاری رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہی مستقل مزاجی ان کے سیاسی کردار کا اہم حصہ ہے۔

یہاں ایک بات خاص طور پر قابلِ غور ہے کہ وجیہ الدین اس وقت کسی منتخب اسمبلی کے رکن نہیں ہیں۔ وہ نہ ایم پی اے ہیں اور نہ ایم این اے، لیکن اس کے باوجود ان کا روزمرہ کا کردار صرف سیاسی بیانات یا تنظیمی سرگرمیوں تک محدود نہیں۔ وہ عوام کے مسائل کے ساتھ عملی طور پر جڑے ہوئے ہیں۔

میرے خیال میں یہی چیز کسی شخص کی عوامی سیاست کو پہچان دیتی ہے۔ عوامی خدمت اور عوامی قیادت کے لیے ہمیشہ کسی منتخب نشست کا انتظار نہیں کیا جاتا۔ بعض لوگ اقتدار میں آنے کے بعد عوام تک پہنچتے ہیں، جبکہ بعض لوگ اقتدار سے پہلے ہی عوام کے درمیان اپنی جگہ بنا لیتے ہیں۔

وجیہ الدین کے دفتر میں آنے والے درجنوں افراد اور مختلف مسائل کے لیے ان سے رجوع کرنے والے لوگ اس بات کی ایک تصویر ہیں کہ چترال میں لوگ انہیں ایک قابلِ رسائی عوامی شخصیت سمجھتے ہیں۔ کوئی اجتماعی مسئلہ ہو یا کسی فرد کا ذاتی معاملہ، لوگ یہ جانتے ہیں کہ کم از کم وہ اپنی بات ان تک پہنچا سکتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ ان کی شخصیت کو صرف ایک سیاسی عہدے یا جماعتی ذمہ داری کے دائرے میں دیکھنا شاید کافی نہیں ہوگا۔ ان کی اصل پہچان ان کا عوام کے ساتھ روزانہ کا رابطہ اور ان کے مسائل کے لیے مسلسل موجود رہنے کی کوشش ہے۔

ہماری سیاست کا ایک بڑا المیہ یہ بھی ہے کہ باصلاحیت اور عوام کے لیے سوچنے والے لوگوں کو آگے بڑھنے کے لیے ہمیشہ آسان راستہ نہیں ملتا۔ ہماری سیاسی روایت میں وسائل، اثر و رسوخ اور مضبوط حلقوں کا کردار اکثر نمایاں رہا ہے۔ ایسے ماحول میں وہ لوگ جو اپنی صلاحیت، کردار اور عوامی خدمت کے ذریعے آگے آنا چاہتے ہیں، ان کے لیے راستہ نسبتاً مشکل ہوتا ہے۔

لیکن کسی بھی معاشرے کا مستقبل اسی وقت بہتر ہو سکتا ہے جب عوام شخصیتوں کو صرف نام، خاندان یا وقتی نعروں کی بنیاد پر نہیں بلکہ ان کے کردار اور عملی جدوجہد کی بنیاد پر پرکھیں۔

اگر ایک شخص آج کسی منتخب اسمبلی کی نشست کے بغیر، صرف اپنی سیاسی اور عوامی ذمہ داری کے احساس کے تحت چترال کے مسائل کے لیے اتنا متحرک رہ سکتا ہے، تو یہ سوال فطری طور پر پیدا ہوتا ہے کہ اگر مستقبل میں اسے عوام ایک بڑے منتخب کردار کے لیے منتخب کرتے ہیں تو وہ اپنی صلاحیتوں کو کس حد تک چترال کی خدمت کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔

یہ سوال مستقبل کے لیے ہے، اور اس کا جواب بھی وقت اور عوام ہی دیں گے۔

میری تحریر کا مقصد کسی شخصیت کو غیر حقیقی عظمت دینا نہیں۔ ہر انسان کی طرح ہر سیاسی رہنما میں بھی خامیاں اور کمزوریاں ہو سکتی ہیں۔ لیکن گزشتہ دو برسوں کے دوران بطور میڈیا پرسن میرے مشاہدے نے مجھے یہ ضرور سکھایا ہے کہ قیادت کا اصل اندازہ اس وقت ہوتا ہے جب کوئی شخص اختیار یا انتخابی موسم کے بغیر بھی عوام کے درمیان موجود رہے۔

میں نے وجیہ الدین کو لوگوں کے مسائل سنتے دیکھا ہے، انہیں متعلقہ اداروں اور ذمہ داران تک لے جانے کی کوشش کرتے دیکھا ہے، عوامی مسائل پر میدان میں کھڑے دیکھا ہے اور لوگوں کے ساتھ احترام سے پیش آتے دیکھا ہے۔ میں نے یہ بھی دیکھا ہے کہ تعلقات اور سفارش کے دباؤ کے باوجود وہ میرٹ کو ترجیح دینے کی کوشش کرتے ہیں۔

یہی مشاہدات میری اس رائے کی بنیاد ہیں کہ وجیہ الدین کو صرف ایک سیاسی کارکن یا جماعتی ذمہ دار کے طور پر دیکھنا ان کے کردار کی مکمل تصویر پیش نہیں کرتا۔

وہ ایک ایسی قیادت کی نمائندگی کرتے ہیں جس کی بنیاد عوام کے درمیان موجود رہنے پر ہے؛ ایسی قیادت جس میں نرمی بھی ہے اور ضرورت پڑنے پر مضبوطی بھی، لوگوں کے ساتھ محبت بھی ہے اور اصولوں پر قائم رہنے کی کوشش بھی۔

چترال جیسے علاقے کو ایسی ہی قیادت کی ضرورت ہے جو دور بیٹھ کر مسائل پر رائے قائم نہ کرے بلکہ مسائل کے درمیان جائے، لوگوں کی بات سنے، ان کے دکھ کو محسوس کرے اور ضرورت پڑنے پر ان کے ساتھ کھڑی ہو۔

قیادت شاید یہی ہے کہ آپ کے دفتر کا دروازہ صرف سیاست کے لیے نہیں بلکہ لوگوں کے مسائل کے لیے کھلا ہو؛ آپ کے پاس آنے والا شخص یہ یقین لے کر آئے کہ اس کی بات سنی جائے گی، اور آپ میدان میں صرف کامیابی کے جشن کے لیے نہیں بلکہ جدوجہد کے دنوں میں بھی موجود ہوں۔

میرے گزشتہ دو برسوں کے مشاہدے میں، وجیہ الدین کی اصل شناخت یہی ہے—ایک نرم مزاج انسان، میرٹ پر یقین رکھنے والا رہنما، اور چترال کے عوامی مسائل کے لیے مسلسل متحرک ایک ایسی قیادت، جس کی طاقت کسی منتخب منصب سے زیادہ عوام کے ساتھ اس کا تعلق ہے۔

اور شاید عوامی قیادت کی سب سے بڑی پہچان بھی یہی ہوتی ہے کہ لوگ مسئلہ آنے پر سب سے پہلے آپ کو یاد کریں، اور آپ ان کے ساتھ کھڑے ہونے کے لیے اپنا دروازہ اور اپنا راستہ دونوں کھلے رکھیں۔

زر الذهاب إلى الأعلى
Ads Blocker Image Powered by Code Help Pro

Ads Blocker Detected!!!

We have detected that you are using extensions to block ads. Please support us by disabling these ads blocker.

Powered By
100% Free SEO Tools - Tool Kits PRO

اشتہارات بند کیوں ہیں؟۔

براہِ کرم ہمارے پلیٹ فارم کو سپورٹ کرنے کے لیے اشتہارات کو روکنے والی ایپ بند کر دیں۔ آپ کی معاونت ہمارے لیے اہم ہے۔