
وادی لاسپور: دیرینہ مسائل کے حل اور جائز مطالبات کے حق میں چھ دیہات کے عوام کا بڑا عوامی جلسہ
اپرچترال (چترال ایکسپریس)وادی لاسپور کے چھ دیہات پر مشتمل علاقے کے عوام نے اپنے درپیش دیرینہ مسائل اور جائز مطالبات کے حق میں ایک اہم اور پروقار عوامی جلسے کا انعقاد کیا۔ جلسے میں علاقے کے معزز عمائدین، سیاسی رہنماؤں اور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کے علاوہ نوجوانوں نے بڑی تعداد میں شرکت کر کے بھرپور اور فعال انداز میں اپنی موجودگی کا اظہار کیا۔
جلسے کے دوران وادی لاسپور کو درپیش بنیادی مسائل، عوامی حقوق اور علاقے کی پسپائی پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ اس موقع پر تمام شرکاء نے اتفاق کیا کہ علاقے کے اجتماعی اور درپیش مسائل کو منظم و مؤثر انداز میں متعلقہ حکام تک پہنچانے اور ان کی پیروی کے لیے جلد ایک مشترکہ
کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔
اجلاس میں ضلعی انتظامیہ کا دھیان ٹیلی مواصلات کی ابتر صورتحال کی طرف مبذول کراتے ہوئے بتایا گیا کہ وادی لاسپور میں ٹیلی نار (Telenor) کی سروس گزشتہ کئی سالوں سے عوام کے لیے شدید مشکلات کا باعث بنی ہوئی ہے۔ کمپنی کی سروس اکثر معطل رہنے کی وجہ سے طلبہ، کاروباری افراد اور عام شہری مواصلاتی رابطوں سے محروم رہتے ہیں۔ عوام نے ضلعی انتظامیہ اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) سے پرزور مطالبہ کیا کہ وہ اس سنگین مسئلے کا فوری نوٹس لے کر ٹیلی نار سروس کی مستقل اور معیاری بہتری کے لیے ہنگامی بنیادوں پر عملی اقدامات کریں۔
علاوہ ازیں، اہلینِ علاقہ نے شاہی داس سے لے کر ہرچین تک مختلف سرکاری و ترقیاتی منصوبوں اور تنصیبات کے لیے استعمال ہونے والی عوامی زمینوں کے معاوضے کا معاملہ بھی شدومد سے اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ متعدد متاثرہ خاندان عرصہ دراز سے اپنی زمینوں کے معاوضے کی ادائیگی کے منتظر ہیں، لیکن تمام تر اپیلوں کے باوجود تاحال انہیں ان کا حق نہیں دیا گیا۔ یہ نہ صرف متاثرین کے ساتھ شدید ناانصافی ہے بلکہ متعلقہ اداروں کی سنگین غفلت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
شرکائے جلسہ نے ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ متاثرہ اراضی مالکان کو ان کا جائز اور قانونی معاوضہ فوری طور پر دلانے کے لیے مؤثر و عملی اقدامات کیے جائیں۔ عوامی رہنماؤں نے واضح کیا کہ وادی لاسپور کے غیور اور پرامن لوگوں کے جائز حقوق کو مزید نظر انداز کرنے کی پالیسی کسی صورت قبول نہیں کی جائے گی۔
