تازہ ترین

اوسیک دروش کے زلزلہ متاثرین نے سرکاری امداد کو ناکافی قرار دیا/معقول امداد فراہم کی جائے

دروش(نمائندہ چترال ایکسپریس) دروش ٹاؤن کا نواحی گاؤں اوسیک حالیہ زلزلے سے بری طرح متاثر ہوا ہے اور متاثرین ناکافی امداد کی وجہ سے سخت نالاں ہیں۔ تفصیلات کے مطابق زلزلہ متاثرین 31اکتوبر کی رات تک امداد کی عدم فراہمی کی وجہ سے نہایت کسمپرسی کے عالم میں تھے۔ متاثرین نے جہاں انتظامیہ کی کوتاہی کی شکایت کی وہیں انہوں نے اپنے ممبران ضلع اور تحصیل کونسل سے بھی نا امید نظر آئے۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے متاثرین نے کہا کہ زلزلے کے بعد چار روز تک کوئی انہیں پوچھنے نہیں آیا اور متاثرین کھلے آسمان تلے شدید سردی کے موسم میں راتیں گزاریں۔ متاثرین نے گلہ کیا کہ حکومت کی طرف سے جو امداد ملی ہے وہ بالکل ناکافی ہے کیونکہ جس کا پورا گھر سارے سامان سمیت ملیامیٹ ہو چکا ہے اسے فوڈ پیکج کے نام پر ٹرخانا غریب عوام کی توہین ہے۔ انہوں نے کہا کہ زلزلہ زدگان کی کچھ اس طریقے سے امداد ہونی چاہئے تھی کہ کم از کم سردیوں کے یہ ایام گزارنے میں دشواری نہ ہوتی۔ میڈیاسے گفتگو کرتے ہوئے اوسیک کے رہائشیوں نے الزام لگایا کہ ٹاؤن کے اندر موجود ہونے کے باوجود ابھی تک انہیں حکومتی اداروں کی طرف سے کوئی معقول امداد نہیں ملی البتہ خوراک کے کچھ پیکٹ مل گئے ۔ اوسیک کے رہائشی عبدالواحد شاہ نے کہا کہ انکے گھر مکمل طور پر منہدم ہو چکے ہے، انکے چار دیگر بھائیوں کے گھروں میں بھی سب کچھ ختم ہو چکا ہے مگر ہمیں سر چھپانے کے لئے حکومت کی طرف سے ایک ٹینٹ نہیں ملا۔ دیگر متاثرین نے بھی اسی قسم کے بیان دئیے۔ انہوں نے کہا کہ ہونا تو یہ چاہئیے تھا کہ زلزلہ کے فوراً بعد ہم تک امداد پہنچائی جاتی مگرکئی دن گزرنے کے بعد بھی ہماری طرف مناسب توجہ نہیں دی گئی۔ اوسیک سے تعلق رکھنے والے کسان کونسلر مولانا اسمعٰیل نے کہا کہ حکومتی امداد نہ ہونے کے برابر ہے تاہم غیر سرکاری اداروں بالخصوص الخیر فاؤنڈیشن کی طرف سے کچھ امداد ملی ہے جو کہ ناکافی ہے تاہم اسمیں اضافہ کئے جانے کی امیدہے۔ دروش ٹو کے سابق ناظم حیدر عباس نے حکومت کی بے بسی پر تنقید کرتے ہوئے کہا یہ لوگ سب سے زیادہ امداد کے مستحق ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ سنا تھا کہ الخیر فاؤنڈیشن والے اوسیک کی مکمل بحالی کی ذمہ داری لے چکے ہیں تاہم اس سلسلے میں بھی کچھ کہا نہیں جا سکتا ۔ موقع پر موجود تحصیل ممبر قسوراللہ قریشی نے کہا کہ میں نے بار بار کوشش کی کہ متاثرین کی مدد کی جائے مگر ہم بے بس ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں قسوراللہ قریشی نے کہا ہمارے لئے مشکل یہ ہے کہ ابھی تک رولز آف بزنس جار ی نہیں ہوئے اور ہمیں مختلف امور کے حوالے سے آگاہی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا اسوقت سب کچھ انتظامیہ کے ہاتھ میں ہے اور ہم کچھ نہیں کر سکتے۔متاثرین میں سے بعض نے شکایت کی کہ ابھی تک ان کے پاس کوئی سرکاری یا غیر سرکاری اہلکار نہیں آیا جوانکے حالات کا جائزہ لیتے ۔ زلزلہ سے متاثرہ گھروں کو فراہم کی جانے والی امداد ناکافی اور غیر معقول ہونے کا ایک ثبوت یہ بھی ہے کہ جہاں ایک چاردیواری کے اندر چار چار، پانچ پانچ فیملی رہتے تھے امداد کے نام پر انہیں صرف ایک ٹینٹ مہیا کی گئی ہے جوکہ واقعی مذاق ہے ۔ اتوار کے روز جب میڈیا ٹیم نے علاقے کادورہ کیا تو یہ معلومات ملیں کہ الخیر فاؤنڈیشن کی طرف سے متاثرین کو کم ازکم 50ٹینٹ جبکہ دیگر اداروں کی طرف سے بھی ٹینٹ فراہم کئے گئے ہیں۔ 175گھرانوں کو راشن مہیا کی گئی ہے اور 30گھرانوں کو ہلال احمر کی طرف سے امداد فراہم کی جا چکی ہے۔ علاقے کے دورے کے دوران چترال پوسٹ کی ٹیم نے ملاحظہ کیا کہ جو گھر جزوی طور پر متاثر سمجھے جارہے ہیں وہ بھی رہائش کے بالکل قابل نہیں اور انہیں مکمل طور پر منہدم کرکے دوبارہ تعمیر کرنے کی ضرورت ہے وگرنہ مستقبل میں مزید حادثات رونما ہو سکتے ہیں۔ دوسری طرف یہ بھی دیکھا گیا کہ نقصانات کے سروے کا کام نہایت سست روی کا شکار ہے اور اس جانب مناسب توجہ نہیں دی جارہی ہے۔ متاثرین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں بھکاری نہ سمجھایا جائے بلکہ وہ قدرتی آفت کی وجہ سے اپنے گھروں سے محروم ہو گئے ہیں لہذا انہیں باعزت طریقے سے معقول امداد فراہم کی جائے تا کہ انکے مسائل اور مشکلات میں کچھ حد تک کمی ہو۔ یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ امداد کی تقسیم چاردیوار ی کی بنیاد پر نہ ہو بلکہ امداد گھرانے کی بنیا د پر دیجائے کیونکہ اکثر ایک چاردیوار ی کے اندر کئی خاندان آباد ہوتے ہیں اور انہیں صرف ایک ٹینٹ اور فوڈ پیکج فراہم کرنا قرین انصاف نہیں۔
میڈیافورم میں زلزلہ متاثرین رحمت شریف، شاہ روم، عبدالرزاق، گل ولی،اعتبار خان، عبدالولی، غلام نور، حمیداللہ اور محمد سعید وغیرہ نے اپنے مسائل بیان کئے۔



اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
اظهر المزيد

مقالات ذات صلة

اترك تعليقاً

إغلاق