تازہ ترین

چترال حکومتی غلط پالیسیوں کی وجہ سے تباہ ہو چکا ہے ۔ حکومتی سرپرستی میں جنگلات کی بے دریغ کٹائی کی گئی۔سرتاج احمد خان

چترال ( نمائندہ چترال ایکسپریس)چترال سیلاب اور زلزلوں کی وجہ سے انتہائی تشویشناک صورت حال سے دوچار ہے ۔ اس لئے چترال کے اہل علم ودانش کو اس سلسلے میں سنجیدہ سوچ کے ساتھ اقدامات اُٹھانے کی ضرورت ہے ۔ اور وکلاء معاشرے کے اُس صاحب علم و بصیرت طبقے سے تعلق رکھتے ہیں ۔ جو اس سلسلے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں ۔ ان خیالات کا اظہار سابق تحصیل ناظم چترال اور “چترال بچاؤ پاکستان بچاؤ”مہم کے چیر مین سرتاج احمد خان نے چترال ڈسٹرکٹ بار سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر صدرڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن چترال صاحب نادر خان ایڈوکیٹ ،سینئر ایڈوکیٹ محمد عظیم بیگ کے علاوہ وکلاء کی بڑی تعداد موجود تھی ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ چترال حکومتی غلط پالیسیوں کی وجہ سے تباہ ہو چکا ہے ۔ حکومتی سرپرستی میں جنگلات کی بے دریغ کٹائی کی گئی ۔ اور جنگلاتی علاقے کے لوگوں کو متبادل روز گار دے کر جنگلات کا تحفظ کرنے کی بجائے اُن کی زندگی کے تمام تر انحصار کو جنگلات کے ساتھ جوڑ دیا گیا ۔ اور نتیجتا وقتی طور پر جو فوائد لوگوں کو ملے ۔ اب وہی علاقے سب سے زیادہ برباد ہوئے ہیں ۔ انہوں نے کہا ۔کہ چترال کی تباہی کی ذمہ دار صوبائی حکومت ہے ۔ جنہوں نے اپنے مفادات کیلئے چترال کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ۔ اب جنگلات کو بچانے کیلئے نہ صرف متبادل روزگار فراہم کرنے کی ضرورت ہے ۔ بلکہ ایندھن کی ضروریات پوری کرنے کیلئے حکومت کی طرف سے گولین ہائیڈل پراجیکٹ سے چترال کو تیس میگاواٹ مفت بجلی فراہم کرنی چاہیے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ حکومت چالیس فیصد رائیلٹی کی رقم جنگلات کی افزائش پر خرچ کرے ۔ ایف ڈی سی کو فارسٹ ڈسٹرکشن کارپوریشن کی بجائے فارسٹ ڈویلپمنٹ کا ادارہ بنایا جائے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ صوبائی حکومت ڈویلپمنٹ فنڈ میں چترال کے ساتھ سوتیلی ماں کا سلوک کر رہا ہے ۔ 14850مربع کلومیٹر ایریے اور رقبے کے لحاط سے صوبے کے پانچویں حصے کے ساتھ صوبائی فنانس کمیشن ترقیاتی فنڈ کے سلسلے میں امتیازی سلوک کر رہا ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ صوبائی حکومت اور ڈسٹرکٹ گورنمنٹ چترال کے حوالے سے پالیسی سازی کریں ۔ تاکہ مستقبل میں اسکو مزید تباہی سے بچایا جا سکے ۔ انہوں نے سیلاب سے متاثرہ لوگوں کو سرکاری آراضی میں بسانے کی ضرورت پر زور دیا ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ چترال کے لوگوں میں آگہی پیدا کرنے اور حکومت و بیرونی دنیا کی توجہ چترال کی طرف مبذول کرانے کیلئے کلائمیٹ چینج کی وجہ سے چترال میں رونما ہونے والے اآفات، تباہی اور مستقبل میں اس کیلئے منصوبہ بندی کے حوالے سے انٹر نیشنل کانفرنس منعقد کیا جائے گا ۔صدرر ڈسٹرکٹ بار ایسو سی ایشن صاحب نادر ایڈوکیٹ ،سینئر وکیل محمد عظیم بیگ ایڈوکیٹ نے خطاب کرتے ہوئے “چترال بچاؤ پاکستان بچاؤ “مہم کو وقت کی آواز قرار دیا ۔ اور کہا ۔ کہ ارضیاتی اور موسمیاتی ماہرین چترال کے حوالے سے کوئی اچھے مستقبل کی پیشنگوئی نہیں کرتے ۔ اور چترال زندگی گزارنے کیلئے ایک خطرناک زون بن گیا ہے ۔ تاہم حکومتی بہتر پالیسی اورتمام سٹیک ہولڈرز بشمول ممبران قومی و صوبائی اسمبلی اور ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کے نمایندگان کو شامل کرکے اس تشویشناک ایشو پر ایک اہم کانفرنس کا انعقاد کیا جانا چاہیے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ چترال ایک منفرد تہذیب و ثقافت کا حامل علاقہ ہے ۔ اس لئے اس علاقے کی حفاظت در اصل اسکے ہزروں صدیوں پر محیط کلچر کا بھی تحفظ ہے ۔ صدرڈسٹرکٹ بار اور تمام وکلا ء نے چترال بچاؤ مہم کے سولہ نکات کو علاقے کے اصل مسائل قرار دیتے ہوئے اُن کے حل کیلئے ہر قسم کے تعاون کا یقین دلایا ۔ سرتاج احمد نے بعد آزان چترال کے مسائل سے متعلق پمفلٹ صدر ڈسٹرکٹ بار اور وکلاء کے حوالے کی ۔


اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق