تازہ ترین

چترال میں تیرھویں اقراء ایوارڈ تقسیم کے موقع پر ایک پُر وقار تقریب کا انعقاد

چترال ( نمائندہ چترال ایکسپریس ) ضلع ناظم چترال نے کہا ہے ۔ کہ چترال کے مسائل کا حل اور خوشحال مستقبل کا دارومدار تعلیم سے وابستہ ہے ۔ کیونکہ چترال میں کارخانے نہیں ۔ زرعی اراضی نہ ہونے کے برابر ہے ۔ اور روزگار کے دیگر ذرائع نہیں ہیں ۔ ایسے میں معیاری اور اعلی تعلیم کے حامل افراد ہی بہتر زندگی گزارنے کے قابل ہو سکتے ہیں ۔ اور چترال کے نامور سپوت قاری فیض اللہ نے ان ہی مسائل کا ادراک کرتے ہوئے چترال میں عصری علوم میں مسابقت پیدا کرنے کیلئے اقراء ایوارڈ اور اقراء نشان کا آغازکیا۔ جو کہ انتہائی کامیابی کے ساتھ 2003سے تا ہنوز جاری ہے ۔ اس سے چترال کو تعلیمی میدان میں بہت زیادہ فوائد ملے ہیں ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کے روز ضلع کونسل ہال چترال میں تیرھویں اقراء ایوارڈ تقسیم کے موقع پر ایک پُر وقار تقریب سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے DSC01564ہوئے کیا ۔جس میں ڈی ای او ایجوکیشن احسان الحق نے صدرر محفل کے فرائض انجام دیں ۔ ضلع ناظم نے قاری فیض اللہ چترالی کو چترال میں فروغ تعلیم اور اُن کی دیگر سماجی اور مذہبی خدمات پر خراج تحسین پیش کیا ۔اور اُن کے دست راست خطیب شاہی مسجد چترال مولانا خلیق الزمان کو انتہائی دیانتدارانہ طریقے سے تعلیمی انعامات کی تقسیم اور سماجی امدادی امور کی انجام دہی پر اُن کی تعریف کی ۔ ضلع ناظم نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا ۔ کہ چترال میں صاحب حیثیت لوگوں کی ایک بڑی تعداد ہونے کے باوجود قاری فیض اللہ جیسا مخیر اور ہمدرد شخصیت پیدا نہ ہو سکا ۔ جو اُن کی طرح چترال کے ذہین اور قابلیت کے حامل طلبہ کی حوصلہ افزائی کرے ۔ اس موقع پر مولانا خلیق الزمان نے خطاب کرتے ہوئے کہا ۔ کہ قاری فیض اللہ چترالی کی طرف سے میٹرک پوزیشن ہولڈر طلبہ میں 13سالوں کے دوران ستائیس لاکھ روپے بطور انعام تقسیم کئے گئے ہیں ۔ جبکہ خصوصی انعامات اس کے علاوہ ہیں ۔ ان کے علاوہ 2010،2013اور 2015کے سیلاب اور حالیہ زلزلہ میں مجموعی طور پر دس کروڑ روپے سے زیادہ کے امدادی سامان جن میں مکانات کی تعمیر کیلئے جستی چادریں ، خوراک ، بسترے اور دیگر مختلف گھریلو سامان شامل ہیں تقسیم کئے گئے ہیں ۔ کئی متاثرہ اور نئے مساجد اور مدرسوں کی تعمیر بھی کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا ۔ کہ اس بات میں کوئی صداقت نہیں ۔کہ علماء عصری علوم کے مخالف ہیں ۔ البتہ علماء عصری علوم میں مغرب کی اندھی تقلید کو مذہب کے خلاف سمجھتے ہیں ۔ علماء محبت ، بھائی چارہ اور اخوت کے داعی ہیں ۔ اور فرقہ واریت کو روح اسلام کے منافی سمجھتے ہیں ۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے تحصیل ناظم مستوج مولانا محمد یوسف اور تحصیل ناظم چترال مولانا محمد الیاس نے اس بات پر زور دیا ۔ کہ غیرنصابی سرگرمیوں کی آڑ میں طلبہ کا زیادہ وقت ٹورنامنٹ وغیرہ میں ضائع کیا جاتا ہے ۔ جس کا کوئی چیک انیڈ بیلنس نہیں ہے ۔ اس لئے ایسی سرگرمیوں کو محدود کر دیا جائے ۔ جس سے طلبہ کا وقت ضائع ہو رہا ہو ۔ امتحانی ہال کوشفاف بنانے کی کوشش کی جائے ۔ تاکہ محنتی طلبہ کی حوصلہ شکنی نہ ہو ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ ملک میں بد امنی اور دہشت گردی کی بڑی وجہ تعلیم سے دوری ہے ۔ اس موقع پر میٹرک میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلباء اور طالبات میں نقد انعامات اور اقراء نشان تقسیم کئے گئے ۔ جس میں ضلع بھر کے سرکاری سکولوں میں سے گورنمنٹ ہائی سکول کوشٹ نے تینوں پوزیشنیں حاصل کیں ۔ نتائج کے مطابق ضیاء الرحمن بن عبدالرحمن نے 930نمبروں پر پہلی پوزیشن حاصل کرکے چالیس ہزار روپے ، محمد ایوب بن عبدالواحد 926نمبروں کے ساتھ دوسری پوزیشن حاصل کرکے تیس ہزارروپے اور روبینہ مریم بنت سید نظام الدین شاہ نے 924نمبر حاصل کرکے تیسری پوزیشن کے بیس ہزار روپے نقد انعامات حاصل کئے ۔ اسی طرح پبلک سکولوں کے مقابلے میں اول پوزیشن لینگ لینڈ زسکول اینڈ کالج چترال کے دو طالبات عابدہ شیرین بنت عبداللہ 981نمبر اور اریج اعجاز بنت اعجاز محمد خان بھی 981نمبر وں کے ساتھ پہلی پوزیشن کے حقدار ٹھہرے ۔ جس کی وجہ سے نقد چالیس ہزار کااول انعام دونوں میں تقسیم کیا گیا۔ جبکہ حرا سکول ایون کی طالبہ سلطانیہ بنت عطاء الرحمن بمبوریت نے 980نمبروں کے ساتھ دوسری پوزیشن حاصل کرکے تیس ہزار اور ذیشان الیاس بن محمد الیاس فرنٹئیر پبلک سکول چترال نے 976نمبر لے کر تیسری پوزیشن کے ساتھ بیس ہزار روپے انعام حاصل کیں ۔ اقلیتی طلبہ میں کالاش کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے رمبور کے رہائشی واحد کامیاب طالب علم شکیل خان بن سیف اللہ جان دی لیگ لینڈز سکول چترال نے دس ہزار روپے کا نقد انعام اور اقراء شیلڈ حاصل کیا ۔ تقریب کے صدر محفل ڈی ای او ایجو کیشن نے قاری فیض اللہ اور منتظم خطیب خلیق الزمان کے کردار کی تعریف کی ۔ انہوں نے کامیاب طلباء و طالبات کو مبارکباد دی ۔ اور کہا ۔ کہ چترال کے تعلیمی اداروں سہولیات کی فراہمی میں کسی بھی قسم کی کوتاہی نہیں کی جائے گی ۔اور حکومت نے اس سلسلے میں وافر مقدار میں وسائل دیے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ چترال کے دو طلباء کا امسال ٹاپ ٹین میں شامل ہونا اعزاز کی بات ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ سولہ کروڑ روپے پی ٹی سی کو جاری کئے ہیں ۔ جبکہ سکولوں میں سائنس ٹیچرز کی خالی آسامیاں بھی پُر کر لی گئی ہیں ۔ انشاء ا للہ چترال میں تعلیم کے مسائل حل ہو جائیں گے ۔ انہوں ضلع ناظم چترال کو مکتلف سکولوں کی وزٹ کرنے کی دعوت دی ۔ تقریب میں پرنسپل گورنمنٹ ہائی سکول کوشٹ امان اللہ نے خطاب کیا ۔ اور اپنے سکول کی کامیاب کارکردگی پر روشنی ڈالتے ہوئے اس امر کا اظہار کیا ۔ کہ اچھی کارکردگی کے باوجود سکول مسائل کا شکار ہے ۔ جس کی طرف کوئی توجہ نہیں دی جاتی۔ پرنسپل کامرس کالج چترال صاحب الدین ، پرنسپل سنٹینیل ماڈل سکول چترال ضیاء الدین ،ڈی ایچ او چترال اسراللہ ، کے علاوہ ناظمین اور عمائدین چترال کی بڑی تعداد تقریب میں موجود تھی۔


اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق