تازہ ترین

چترال،ضلعی انتطامیہ کے نامناسب رویے کے خلاف ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کا26مارچ کو ہڑتال کرنے کا فیصلہ

چترال (نمائندہ چترال ایکسپریس) چترال ڈاکٹرز ایسوسی ایشن ڈی ایچ کیو ہسپتال چترال نے ضلعی انتظامیہ چترال کی طرف سے ڈاکٹروں کے خلاف انتہائی نامناسب رویہ اپنانے اور اُن کو محکمہ ہیلتھ کے فنڈ سے تعمیر شدہ بنگلوں سے اسلحے کی نوک پر نکالنے کیلئے ہراسان کرنے پر انتہائی غم و غصے کا اظہار کیا ہے ۔ اور 26تاریخ سے ضلع بھر میں مکمل ہڑتال کاا علان کیا ہے ۔ جمعرات کے روز ڈی ایچ کیو ہسپتال چترال کے ڈاکٹروں نے ایک گھنٹے کی علامتی ہڑتال کی،اور ایمرجنسی کے علاوہ خدمات روک لی گئیں ۔ اس موقع پر ڈاکٹرز ایکشن کمیٹی چترال کے صدر ڈاکٹر نذیر حسین شاہ نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ۔ کہ ضلعی انتظامیہ چترال انتہائی ہٹ دھرمی پر اُتر آئی ہے ۔ اور اس نے پورے چترال کیلئے خود کو بادشاہ بنایا ہوا ہے حالانکہ تمام اداروں کو ایک دوسرے کے روابط کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے کا احترام کیا جانا چاہیے ۔ انہوں نے کہا ، کہ ضلعی انتظامیہ نے دنین کالونی میں رہائش پذیر ڈینٹل سرجن ڈاکٹر محمد قاسم کے بنگلے کو اُن کی غیر حاضری میں اسلحے کی نو ک پر درجنوں لیڈی کنسٹیبل کے ذریعے خالی کرایا ۔ اور ڈاکٹر کے معصوم بچوں کو ڈرایا دھمکایا ۔ جو کہ انتہائی طور پر قابل افسوس ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مذکورہ بنگلہ محکمہ ہیلتھ کے فنڈ سے تعمیر کی گئی ہے ۔ اور اُس میں رہائش کرنا ڈاکٹروں کا حق ہے ۔ انتظامیہ کو اسی طرح ڈاکٹروں کی بے عزتی کرنے اور گھر سے طاقت کے زور پر بے دخل کرنے کاکوئی اختیار نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا ، کہ اس قسم کے اقدام سے پہلے انتظامیہ کوہیلتھ کے ذمہ دار آفیسران سے رابطہ کرنا چاہیے تھا ۔ ڈاکٹر نذیر حسین شاہ نے کہا ۔ کہ یہ کہاں کا انصاف ہے ۔ کہ ایک سرکاریٰ ڈاکٹر کی اس طرح اُن کے گھر والوں اور بچوں کے سامنے تضحیک کی جائے ۔ اور درجنوں فورس اُن کو گھر سے نکالنے کیلئے استعمال کیا جائے ۔اور ڈاکٹر و اُس کے گھر والوں پر مقدمہ دائر کیا جائے ، انہوں نے کہا ۔ کہ اس قسم کے رویوں سے حالات میں پیچیدگی پیدا ہو سکتی ہیں ۔ جس کا براہ راست اثر چترال کے غریب اور مجبور عوام پر پڑے گا ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ ضلعی انتظامیہ کی اسی طرح ہٹ دھرمی اور نامناسب رویے کی وجہ سے معروف کارڈیالوجسٹ ڈاکٹر محمد غفار نہ صرف چترال چھوڑ گئے بلکہ ملک بھی چھوڑکر چلے گئے، انتظامیہ کی طرف سے سینگور میں ڈاکٹر ز ہاسٹل کے چھ بنگلوں پر بھی اسی طرح قبضہ کیا گیا ہے ۔ جو کہ صرف ڈاکٹروں کی رہائش کیلئے تعمیر کئے گئے ہیں ۔ اب انتظامیہ کو مذکورہ چھ بنگلے ڈاکٹروں کو حوالہ کرنے سمیت ڈاکٹروں سے غیر مشروط معافی مانگنی پڑے گی ۔ بصورت دیگر 26مارچ سے ضلع چترال اور صوبائی سطح پر ہڑتال کیا جائے گا ۔ جس کی تمام تر ذمہ داری ضلعی انتظامیہ پر ہو گی ۔ اس سلسلے میں ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر چترال مظہر علی شاہ نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ۔ کہ سرکاری طریقہ کے مطابق 35کلومیٹر فاصلے میں رہائش رکھنے والے سرکاری ملازمین سرکای رہائش لینے کے اہل ہیں ۔ جبکہ مذکورہ ڈاکٹر چترال شہر میں رہتا ہے ۔ اور اُس کے ذاتی مکانات کرائے پر ہیں ۔ انہوں نے کہا ، کہ ڈاکٹر قاسم نے اس سے قبل یہ بنگلہ خالی کرنے کیلئے اکیس مارچ تک مہلت مانگی تھی ۔ لیکن اُس نے بعد آزان اپنے وعدے اور مہلت پر عمل نہیں کیا ۔ اور گذشتہ روز جب یہ بنگلہ خالی کرنے کے سلسلے میں میں خود وہاں گیا ۔ تو انہوں نے بُرا بلا کہا ۔ اور کار سرکار میں مداخلت کی جس پر اُن کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے ۔ تاہم انہوں نے بی بی اے کر دیا ہے ۔ مظہر علی شاہ نے اس بات کی تصدیق کی کہ ڈاکٹر ہاسٹل سینگور میں بنگلے انتظامیہ کے پاس ہیں ۔کیونکہ ڈاکٹرز اسے دور قرار دے کر اُس میں رہائش نہیں رکھتے ۔ جبکہ اب ہم یہ اُنہیں حوالہ کر رہے ہیں ۔


اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق