تازہ ترین

تجار یونین کی موجودگی میں بازار اندھیروں میں ڈوبا ہوا ہے۔تجار یونین مخالف گروپ کا پریس کانفرنس

چترال ( نمائندہ چترال ایکسپریس ) تجار یونین چترال کے مخالف گروپ کی نمایندگی کرتے ہوئے شبیر احمد ،میر عباد الرحمن نے دو دکانداروں حسین نبی اور جمشید کی معیت میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے صدر تجار یونین چترال حبیب حسین مغل اُس کی کابینہ پر بڑے پیمانے پر یونین کے فنڈ کے خرد برد کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے ۔ کہ ڈپٹی کمشنر چترال اُسامہ احمد وڑائچ نے جب چترال بازار میں تجاوزات ہٹانے کے سلسلے میں مہم کا آغاز کیا ۔تو حبیب حسین مغل نے یہ کہ کرہزاروں دکانداروں سے پانچ سو سے پندرہ سو روپے فی دکان یہ کہہ کر چندہ وصول کیا تھا ۔ کہ عدالتی اقدامات کرکے ڈی سی چترال کو کاروائی سے روک دیں گے ۔لیکن ڈی سی چترال کو تجاوازات ہٹانے سے روکنے کی کوشش کامیاب ہوئی اور نہ بڑے پیمانے پر جمع ہونے والے اس فنڈ کے استعمال کے بارے میں اب تک کسی کو معلوم ہے ۔انہوں نے کہا ۔ کہ اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے ۔ کہ دکانداروں کو جھانسہ دے کر یہ رقم جمع کیا گیاتھا ۔ جسے ہڑپ کردیا گیا ہے ۔ شبیر احمد اور میر عباد الرحمن نے کہا ۔ کہ تجار یونین کے الیکشن میں ہم نے حبیب حسین مغل کا مقابلہ کیا ہے ۔ اس لئے اُن کے مد مقابل ہونے کی حیثیت سے ہمارا حق بنتا ہے ۔ کہ ہم دکانداروں سے جمع ہونے والے فنڈ کے بارے میں پوچھیں ۔ کہ دکانداروں سے جمع ہونے والی رقم کس کھاتے میں چلے گئے ہیں ۔ انہوں نے کہا ، یہ انتہائی افسوسناک بات ہے ،کہ دکانداروں سے چار فٹ زمین بھی لی گئی جس سے بعض دکانات کا رقبہ انتہائی کم رہ گیا ہے اور ستم بالائے ستم یہ کہ چندے کے نام پر رقم بھی بلا کسی مقصد کے ہتھیا لئے گئے ۔ انہوں نے کہا کہ مذکورہ صدر کی موجودگی میں چترال بازار اندھیروں میں ڈوبا ہوا ہے ،سٹریٹ لائٹس کا نام و نشان نہیں ۔پبلک لیٹرین نہ ہونے کے باعث دکاندارشاہی مسجد واش رومز استعمال کرنے پر مجبور ہیں ۔ جبکہ پورے بازار میں پینے کا پانی دستیاب نہیں ہے ۔ پورا بازار ایریا گندگی اور غلاظت کا ڈھیر بن چکا ہے ۔ اور نالیاں، چوراہے ٹھوس کچرے اور غلاظت سے اُٹھنے والے تعفن اور بدبو پھیلانے کے کارخانے بن گئے ہیں ۔انہوں نے کہا ، کہ چترال بازار میں 3900دکانات ہیں ، جن سے چندہ وصول کیا گیا ہے ۔ لیکن اُس چندے سے دکاندار کے مفاد کا کوئی کام سامنے نہیں آیا ۔ اُلٹا دکاندار اپنے دکانوں سے محروم ہو گئے ۔
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
مزید دیکھائیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق