تازہ ترین

دروش میں UNDP،سی پی ایف پروگرام کے تحت پبلک پولیس فورم کا انعقاد

دروش(نمائندہ چترال ایکسپریس) دروش میں یو این ڈی پی،سی پی ایف پروگرام کے تحت سی اینڈ ڈبلیو ریسٹ میں پبلک پولیس فورم کا انعقاد کیا گیا جس میں دروش کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے سیاسی ،سماجی اور کالجز کے طلبا کے علاوہ دروش سرکل ڈی ایس پی ظفر احمد خان نے شرکت کی۔پروگرام کے آغاز میں یو این ڈی پی ،سی پی ایف پروگرام کے کوارڈینیٹر ارشاد مکرر نے سی پی ایف کیاغراض ومقاصد پر شرکا ء کو تفصیلی بریفینگ دی اور یو این ڈی پی کی جانب سے چترال کے مختلف تھانوں میں ترقیاتی کاموں پر اطمینان کا اظہار کیا۔کمیونٹی پولسنگ فورم پر مزید روشنی ڈالتے ہوئے ارشاد مکرر نے کہا کہ ’’کمیو نٹی پولیسنگ ‘‘جسے “POLCING NEIGHBOURHOOD” کی اصطلاح میں بھی پکارا جاتا ہے درحقیقت اس فلسفہ اور حکمت عملی پر مبنی ہے کہ عوام اور پولیس کا اشتراک جرم کے خاتمے کاآسان اور موثر طریقہ ہے۔ ان دونوں کے اشتراک سے ایسے پروگرام اور تجاویز جنم لیتی ہیں جو دونوں کی مشکلات میں کمی کا باعث بنتی ہیں۔ کمیونٹی پولیسنگ ایک ایسی فلاسفی اور ادارتی لائحہ عمل ہے جو عوام اور پولیس کے درمیان الحاق کو مضبوط اور پائیدار بناتا ہے اور ان اصول کے بنیاد پر عوام اور پولیس کو مواقع فراہم کرتا ہے کہ دونوں باہمی اشتراک کے ذریعے موجودہ مسائل کی ترجیحاتی بنیاد پر نشاندہی اور حل کرنے کی کوشش کریں۔ کمیونٹی پولیسنگ ایک منظم اور تربیت شدہ طریقہ کار ہے جس کے ذریعے عوام اور پولیس کو ایک دوسرے کے نزدیک لایا جا سکے۔ یہ عوام اور پولیس کے درمیان ایک معاہدہ ہے کہ عوام اور پولیس جرائم کے خاتمے کے لئے مل جل کر کام کر سکیں۔ کمیونٹی پو لیسنگ کے دہ اہم فائدے ہوتے ہیں۔ پہلا ،جرم کا خوف کم ہونے سے محفوظ زندگی کا احساس بڑھ جاتا ہے دوسرا پولیس کا احتساب بڑھنے سے اس کی کارکردگی میں نکھار آجاتا ہے۔ یوں کہنا چاہیے کہ کمیونٹی پولیسنگ کی بدولت پولیس عوام کے ساتھ”CONFRONTATION” کی بجائے” “CO-OPERATION کی جانب مائل ہو جاتی ہے۔ اسے مزید کامیاب بنانے کے لئے بہت سے اقدامات کئے جا سکتے ہیں۔ عوام کو کمیونٹی پولیسنگ کے حوالے سے خصوصی شارٹ کورسز کروائے جائیں جو موجودہ دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہوں۔ عوام کو پولیس کی ذمہ داریوں اور طریقہ کار سے مکمل آگہی ہونی چاہئے۔ ڈویزنل ایس پی سے لیکر تھانے کے ایس او اور بیٹ تانیدار سے سپاہی تک سب کو کسی ایمر جنسی یا جرم کے بغیر بھی علاقے میں جا کر مختلف لوگوں سے ملنا اور ان کے ساتھ گفت و شنید کرنی چاہئے تا کہ ان کے اندر اعتماد پیدا ہو۔ علاقے کے معززین کی تھانے میں آمد پر ناگواری کا اظہار کرنے کی بجائے ان کی حوصلہ افزائی کرنا چاہئے کہ وہ زیادہ سے زیادہ دفعہ تھانے آئیں اور علاقے کے مسائل کے حل میں حصہ لیں۔جرم ایک پیچیدہ سماجی مسئلہ ہے جس کو اکیلے ایک ادارہ یا فرد حل نہیں کر سکتا۔ جب ہم جرم کے مسائل کی پیچیدگیوں کو سمجھے گے توہم اس کا ذمہ دار صرف پولیس کو نہیں ٹھرا سکتے۔ اگر ہم جانے کہ جرائم کی شرح کی زیادتی میں ایک فرد، ادارہ، آفیسر حتیٰ کہ پولیس ڈیپارٹمنٹ کا عمل دخل ہو سکتا ہے تو یہ سراسر زیادتی ہو گی۔ ہمیں ہمیشہ ان مسائل کا سامنا رہتا ہے جہاں پر ذمہ داریاں بانٹی جائیں۔ بدقسمتی سے جرائم پر قابو پانے کا روایتی انداز پولیس کے خلاف چلی جاتی ہے کیونکہ پولیس کو عوام کا خادم تصور کیا جاتا ہے اسلئے عوام کا ڈر پولیس سے روایتی طور پر عوام کو پولیس سے دور کر دیتی ہے۔ پولیس اس بات کی ذمہ دار ہوتی ہے کہ جرائم کی شرح پر قابو پائے اور عوام کو دوست سمجھے۔ اگر پولیس عوام دوست بننے کے لئے ایک ہموار راستہ تلاش کرئے اور اپنے آپ کو عوام کی خدمت کے لئے وقف کر دیں اور عوام کے ساتھ مل کے ترجیحاتی بنیاد پر متعلقہ مسائل کے حل کے لئے کوشش کریں تو اس عمل سے پولیس ایک بہترین سپاہی کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ارشاد مکرر کے علاوہ پروفیسر محمد نقیب اللہ رازی،قاری جمال عبد الناصر ،نائب ناظم جنجریت خواجہ حمیداللہ خان نے اپنے مفید تجاویز سے شرکاء کو اگاہ کیا۔پروگرام کے آخر میں ڈی ایس پی دروش سرکل ظفر احمد خان نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے ۔عوام سے ہر ممکن تعاؤن کی یقین دلایا اور علاقے سے جرائم کے خاتمے کا عہد کیا۔قاری جمال عبد الناصر کے دعائیہ کلمات کے ساتھ پروگرام اختتام پذیر ہوا۔


اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق