چترال لوئر

ضلعی انتظامیہ کی ون وے ٹریفک پلان ، عوام کے مشکلات میں مذید اضافہ ، کاروباری حلقے بھی بری طرح متاثر

چترال ( نمائندہ چترال ایکسپریس) چترال کے مختلف مکاتب فکر نے انتظامیہ کی طرف سے چترال ٹاون کے اندر ون وے ٹریفک روٹ متعارف کرانے کے خلاف اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ کئی دنوں سے انتظامیہ نے عوام کو سہولت دینے کے بجائے اذیت میں مبتلا کرکے رکھ دیا ہے ۔ انھوں نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ کی یہ منطق سمجھ سے باہر ہے کہ چیو پل کی طرف سے کوئی بندہ کڑوپ رشت بازار میں خریداری کیلئے آئے تو انھیں بائی پاس روڈ کا استعمال کرتے ہوئے اتالیق پل سے موڑکر کڑوپ رشت آنا پڑ رہا ہے ۔ جس سے ایک طرف ٹائم کی ضیاع کیسا تھ ٹیکسی کو بھی ڈبل پیسہ دینا پڑرہا ہے ۔ اسی طرح زرگراندہ سے ایمرجنسی مریضوں کو بھی ہسپتال لے جانے کیلئے پی آئی اے چوک سے ہوکر بائی پاس روڈ سے ہوتے ہوئے اتالیق پل سے موڑکر پھر ہسپتال جانا پڑ رہا ہے ۔ اور شاہی مسجد روڈ پر واقع ہوٹلوں کو جانے والے یارخون ، لاسپور اور گرم چشمہ کے مسافروں کو بھی بائی پاس روڈ سے ہوتے ہوئے اتالیق پل سے موڑکر کچہری روڈ سے ہوتے ہوئے پھر شاہی مسجد روڈ تک جا نا انتہائی دشوار ہوگیا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ انتظامیہ کی اس ہوشیاری اور مشورہ دینے والوں کو داد دینی چاہیے کہ وہ عوام کو سہولت دینے کے بجائے مذید مصیبت میں مبتلا کردیا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ایک طرف بازار ، ہسپتال اور مختلف دفترات کو آنے والے لوگوں کے مشکل میں مذید اضافہ کردیا گیا ہے تو دوسری طرف کڑوپ رشت بازار سے لیکر ڈاک خانہ چوک تک اور شاہی مسجد روڈ و دیگر ملحقہ دکانداروں کے کاروبار کو بھی بری طرح متاثر کیا گیا ہے ۔ متاثرہ بازاروں کے دکانداروں ، ہوٹل مالکان و دیگر کاروبار سے منسلک افراد کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کی طرف سے نو گو ایریا قائم کرنے سے ان کے کاروبار بری طرح متاثر ہیں ۔ صبح سے شام تک ایک گاہک بھی سودا لینے انکے پاس نہیں آتا ۔ جس کی وجہ سے تھوک کاروباری حضرات نے اپنے ملازمین کو بھی فارع کردئیے ہیں ۔ جس کی بنا پر درجنوں مزدور بھی بے روز گار ہوگئے ہیں ۔ اور ان کے چولھے ٹھنڈے پڑ گئے ہیں۔ ان کا مذیدکہنا ہے کہ انتظامیہ غلط پارکنگ کے سلسلے کو ختم کرنے کے بجائے سڑکوں پر گاڑیوں کاچلنا ہی بند کردیا ہے ۔ اور مین بازار میں ٹریفک کو یک طرفہ کرنے پر سارا بوجھ بائی پاس روڈ پر پڑا ہے ۔ جہاں صبح سے شام تک روڈ کے دونوں اطراف گاڑیاں پارک کئے جاتے ہیں۔

چترال کے شہریوں کا مذید کہنا ہے کہ انتظامیہ اگر سڑکوں سے گاڑیوں کی پارکنگ کو ختم کرنا چاہتی ہے تو سب سے پہلے کچہری روڈ سے پارکنگ کا سلسلہ ختم کریں ۔ جس کے بعد باقی سڑکوں کی طرف توجہ دے۔ عام پبلک کیلئے اسانیاں پیدا کرنے کے بجائے ون وے ٹریفک کے نام پر عوام کیلئے مصیبت بنادیا گیا ہے ۔ انھوں نے ضلعی انتظامیہ ، کمشنر ملاکنڈ اور خصوصا چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا سے داد رسی کا مطالبہ کرتے ہوئے ون وے ٹریفک نظام کو ختم کرکے پھر سے پہلے کی طرح ٹریفک بحال کرنے کی اپیل کی ہے ۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

زر الذهاب إلى الأعلى