فکروخیال ۔….عمرانولوجی ۔

بات عمرانیات Sociology))کی نہیں ہورہی اس موضوع پرمتعلقہ مضمون کے ماہرین ہی بہتر طور سمجھا سکتے ہیں ۔عمرانولوجی ایک الگ موضوع ایک تحریک ایک سوچ اور ایک وژن کا نام ہے آپ سے انصافولوجی بھی کہہ سکتے ہیں کیونکہ یہ انصاف پر مبنی نظام لانے اور اسے نافذ کرنے میں گزشتہ کئی سالون سے جہدوجہد میں مصروف عمل رہا، ا سے نافذ ہونے ،لوگوں کے دلوں میں گھر کرنے کرنے کوئی اکیس بائیس سال کا عرصہ لگا ، ان اکیس بائیس سالوں کے دوران اس سوچ کو جس حزیمت کا سامنا کرنا پڑا ، جن مصائب و مشکلات برداشت کرنے پڑے یہ بھی ایک طویل داستان ہے مگر اس سوچ نے کبھی ہمت نہیں ہارا ، اس سوچ نے نہیں کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا، اسے لاکھ طعنے سننے پڑے ، اسے تنقید کے نشتروں سے پالا پڑا مگر جب بات ملک کی خیرخواہی کی ہو اور اس کے باسیوں کی بہترو تابناک مستقبل کی ہو ، قائد کے فرامیں پر عمل درآمد کی ہو اور اقبال کے سنہرے خواب کی تعبیر کی ہو تو اس سوچ کو کبھی شکست نہیں دی جاسکتی بلکہ حزیمت و مشکلات اس کے راستے کے کانٹے ہونے کے باوجود اس سوچ کی طاقت بن جاتے ہیں ، سو عمرانولوجی کے ساتھ بھی یہی ہوا اسے لاکھ دبانے کے باوجود شکست نہیں دی جاسکی ۔اس عمرانولوجی کے کچھ نرالے اُصول ہیں اور یہ انہی اصولون کی وجہ سے اکثر لوگوں کا دشمن ہے ، یہ کہتا ہے کہ ملک میں قانون کی بالادستی ہو، انصاف کا بول بالا ہو، امیر غریب کا فرق ختم ہو ، قانون سب کے لئے ایک ہو، چوروں کا احتساب ہو کرپٹ لوگوں کو کیفرکردار تک پہنچایا جائے ، یہ کہتا ہے کہ ڈاکٹر ، اُستاد ،انجینئر،افیسر،بیورکریٹ اور ہر پیشہ ور اپنے اپنے فرض منصبی احسن طریقے سے ادا کریں ، اور ملک کے مکینوں کو آزادی سے اور سر اُٹھاکرجینے کا حق ملے اور بدعنوانی،اقربہ پروری اور ظلم و جبر کا خاتمہ ہو ، یہ وزیراعظم ہاوس کو اعلی درجے کی یونیورسٹی بنانا چاہتا ہے ،یہ گورنر ہاوسز کے دروازے عوام کے لئے کھول دیتا ہے ، اسے شاہانہ طرز زندگی سے چڑ ہے یہ عوام کے ٹیکس کے پیسے کو عوام ہی پر خرچ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے ا سی لئے قانون کی دھجیان اُڑانے والے ، ملک لوٹنے والے ،اقتدار کو باپ دادا کا جاگیر سمجھنے والے ،اپنے فرائض منصبی سے انصاف نہ کرنے والے ،بدعنوان کرپٹ لوگوں کو عمرانولوجی سے سخت نفرت ہے یہ اُٹھتے بیٹھتے اس کو بددعائیں دیتے ہیں کل تک جو ایک دوسرے کے سربرگریبان تھے آج وہ سب اسی عمرانولوجی کی مخالفت میں بھائی بھائی ہوگئے ہیں اور ایک دوسرے سے شیروشکر ہیں ۔کہنے والے تو بہت کچھ کہتے ہیں اور ابھی تک کہہ رہے ہیں ۔وہ کہتے ہیں کہ نیا پاکستان کا سوچ فریب کے سوا کچھ نہ تھا ، یہ بھی کہتے ہیں کہ نیا پاکستان ہے کہاں؟۔یہ اسمبلیوں سے ان دنوں بائیکاٹ کررہے ہیں یہ نیب کو سنے لگے ہیں یہ احتساب کو گالیان دے رہے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ عمرانولوجی کی صوبہ خیبر پختونخواہ میں کامیاب پانچ سال کے بعد اور پورے ملک میں کامیاب نفاذ کے بعد اقتدار ہاتھ سے جاتے دیکھ کر ان کے پاس ڈرانے دھمکانے اور چیخنے چلانے کے سوا کچھ بچا ہی نہیں اس لئے آخری ناکام حکمت عملی پر کارفرما ہیں ، جس کی عمر نہ صرف بہت ہی محدود ہے بلکہ یون کہئے کہ چراغ سحری کا قصہ ہے جس کا مقدر جلد ہی بجھ جانا ہے جبکہ عمرانولوجی ایک منزل کی جانب گامزن ہے گو کہ ا بھی اس کے راستے میں ہزاروں مصائب و مشکلات ڈھیرے لگائے بیٹھے ہیں اسے گزشتہ کئی برسوں کے ظلم و جبر کا حساب چکانے ،بڑے بڑے مگرمچھوں کاسامنا کرنے اور ملک کو باسیوں کا خون چوس چوس کر بیرون ملک جاگیر و جائیداد بنانے والے معصوم وبے گناہ لُٹیرون سے حساب بے باق کرنے کا کڑا امتحان پاس کرنا ہے ، اسے اس ملک کے ساتھ ہونے والے تمام زیادتیوں کا حساب لینا ہے کہ جن کی وجہ سے آزادی سے لے کر اب تک پاؤں تلے کچلنے والے غریب عوام کا جینا دوبھر ہے ،اسے ان تمام امور نمٹانے کے لئے ایک بڑا مقابلہ ددرکارہے ، مگر عزم و ہمت والے بھی چٹان کی طرح کھڑے ہیں اور بقول ہمارے وزیراعظم کسی چور اچکے بدمعاش کو معافی نہیں ملنے والا ، کسی کرپٹ اور سزا یافتہ کو این ۔ار۔ او نہیں ملنے والی ، اور ملک کو اس حالت تک پہنچانے والے ایک ایک کو کیفر کردار تک پہنچانا ہم سب کی اجتمائی زمہ داری ہے ۔ عمرانولوجی کے مطابق ابھی راہ میں ہزاروں مشکلات ہیں مگر پاکستان بہت جلد ان مصائب و مشکلات سے ایک سنہرے دور کی جانب گامزن ہے بہت جلد نیا سنہرا اور ترقی یافتہ پاکستان ہمارا منتظر ہے جس کے لئے ہم سب کو تمام تر مذہبی ،نسلی،علاقائی اورذاتی تفرقات کو پست پشٹ ڈال کر ایک قوم بننا ہے تاکہ قائد کے سوچ اور اقبال کے نظریے کی تکمیل ممکن ہو مگر حوس کے پُجاری ، کرپٹ بدعنوان عناصر اس مضمون کو ملک میں پوری طرح نفاذ کے مخالف ہیں ،اسے پنپنے کے راہ میں مشکلات پیدا کررہے اور اس کی نفاذ کے دشمن بنے ہوئے ہیں اس لئے ملک کے خیرخواہ لوگوں سے درخواست ہے کہ اس نظریے کو مکمل طور پر نافذ کرنے میں اپنے حصے کا کردار ادا کرین تاکہ ملک کو درپیش مشکلات سے نجات ملے اور ایک روشن پاکستان کا سورج جلد طلوع ہو۔
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔