تازہ ترین

بلین ٹری سونامی: چترال میں کتنے فنڈز آئے، کتنے پودے لگے اور کتنے کامیاب ہوئے؟۔۔تحریر۔۔عبدالغفار

 خیبرپختونخوا میں عمران خان کی حکومت کے دور میں شروع کیے گئے بلین ٹری سونامی افورسٹیشن پروجیکٹ کو ملک کے بڑے شجرکاری منصوبوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ منصوبے کا بنیادی مقصد جنگلات کی بحالی، شجرکاری میں اضافہ، مقامی آبادی کو شامل کرنا اور نجی و سرکاری نرسریوں کے ذریعے بڑے پیمانے پر پودے تیار کرنا تھا۔ منصوبے میں نجی نرسریوں کو بھی اہم کردار دیا گیا اور دستیاب تحقیقی مواد کے مطابق صوبے میں ہزاروں نجی نرسریاں قائم کرنے کا تصور شامل تھا۔

چترال اس منصوبے کے اہم علاقوں میں شامل تھا۔ دستیاب سرکاری ریکارڈ پر مبنی ایک رپورٹ کے مطابق بلین ٹری سونامی کے تحت چترال کے لیے 69 لاکھ 32 ہزار 187 پودوں کا ہدف/ریکارڈ درج تھا۔یہ تعداد معمولی نہیں۔ مگر آج، تقریباً ایک دہائی بعد اصل سوال یہ ہے کہ ان میں سے کتنے پودے واقعی درخت بن سکے؟ کتنے زندہ ہیں؟ کتنے ضائع ہوئے اور کیوں؟

چترال کے لیے کتنی رقم مختص ہوئی؟

چترال سے متعلق دستیاب اعداد و شمار میں تقریباً 14 کروڑ 16 لاکھ روپے جاری ہونے اور تقریباً 11 کروڑ 99 لاکھ روپے اخراجات کا ریکارڈ سامنے آتا ہے۔ تاہم ان اعداد کی مکمل تصدیق کے لیے محکمہ جنگلات سے ڈویژن/نرسری وار اصل اکاؤنٹس، ریلیز آرڈرز اور اخراجات کی تفصیلات حاصل کرنا ضروری ہے۔اسی لیے چترال کے عوام کا بنیادی مطالبہ یہ ہے کہ محکمہ جنگلات ایک جامع جدول جاری کرے جس میں بتایا جائے:

چترال کے لیے مجموعی طور پر کتنی رقم منظور ہوئی؟

کتنی رقم جاری ہوئی؟

کتنی رقم خرچ ہوئی؟

سرکاری نرسریوں پر کتنی رقم خرچ ہوئی؟

نجی نرسریوں کو کتنی رقم ادا کی گئی؟

شجرکاری، بیج، زمین، مزدوری، پانی، ٹرانسپورٹ اور دیگر مدات میں کتنی رقم خرچ ہوئی؟

نرسری ہولڈرز کا مؤقف کیا ہے؟

بلین ٹری سونامی میں نجی نرسری ہولڈرز نے محکمہ جنگلات کے ساتھ معاہدوں کے تحت کام کیا۔ نرسری ہولڈرز کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنی مرضی سے غیر سرکاری منصوبہ شروع نہیں کیا تھا بلکہ محکمہ جنگلات کے مجاز افسران کی نگرانی، معائنہ اور تصدیق کے بعد معاہدے کیے گئے۔ان کے مطابق معاہدے کے تحت ابتدائی قسط اس وقت جاری کی گئی جب محکمہ جنگلات کے متعلقہ افسر نے نرسری کی جگہ، زمین اور دیگر مطلوبہ شرائط کا معائنہ کرکے تصدیق کی۔نرسری ہولڈرز کا کہنا ہے کہ پہلی قسط سے انہیں مختلف ضروری اخراجات پورے کرنا تھے، جن میں زمین کا کرایہ، بیج کی خریداری، ٹریکٹر اور زمین کی تیاری کی مزدوری، نرسری کی دیکھ بھال اور ایک ملازم/نگران کی تنخواہ شامل تھی۔ان کا مؤقف ہے کہ محکمہ جنگلات کے مجاز اہلکار نے تمام مطلوبہ شرائط اور ریکوائرمنٹس کی تصدیق کے بعد پہلی قسط ادا کی، جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ اس مرحلے پر نرسری کو محکمہ نے قابل قبول قرار دیا تھا۔

بعض نرسریاں بعد میں کیوں ناکام ہوئیں؟

نرسری ہولڈرز کے مطابق بعض نرسریوں میں بعد میں پودوں کی شرحِ بقا توقع کے مطابق نہیں رہی۔ ان کے بقول اس کے بعد دوسری اور تیسری قسطیں بعض کیسز میں جاری نہیں ہوئیں یا ان کی ادائیگی کے معاملات مکمل نہ ہوسکے۔یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر کسی نرسری کو ابتدائی مرحلے میں محکمہ جنگلات کے افسر نے معائنہ کرکے پہلی قسط کے لیے اہل قرار دیا تھا تو بعد میں نرسری کی ناکامی کی اصل وجہ کیا تھی؟کیا پودے موسمی حالات، پانی کی کمی، شدید سردی، برف باری، خشک سالی، بیماری، جانوروں کے چرنے یا کسی تکنیکی وجہ سے خراب ہوئے؟یا واقعی کسی نرسری ہولڈر نے معاہدے کی شرائط پوری نہیں کیں؟اس سوال کا جواب صرف فائل اور ریکارڈ کی مکمل جانچ سے ہی سامنے آسکتا ہے۔

دس سال بعد فائلیں دوبارہ کھلنے پر نرسری ہولڈرز کے سوالات

متاثرہ نرسری ہولڈرز کا کہنا ہے کہ اگر کسی معاملے میں سرکاری خزانے کو نقصان پہنچا ہے تو اس کی تحقیقات ضرور ہونی چاہئیں، لیکن ہر ناکام نرسری کو خودکار طور پر بدعنوانی یا فراڈ کا کیس تصور نہیں کیا جاسکتا۔ان کا کہنا ہے کہ ایک طرف انہیں محکمہ جنگلات کی نگرانی اور تصدیق کے بعد معاہدے دیے گئے، دوسری طرف کئی سال گزرنے کے بعد ان ہی معاملات کو دوبارہ کھول کر ذمہ داری نرسری ہولڈرز پر عائد کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔نرسری ہولڈرز اسے اس مثال سے تعبیر کرتے ہیں کہ “اونٹ چور کو چھوڑکے انڈہ چور کے پیچھےجا رہا ہے”—یعنی اگر کسی منصوبے کے مجموعی انتظام، نگرانی، قیمتوں، منظوریوں اور مانیٹرنگ میں سوالات موجود ہیں تو صرف چھوٹے نرسری مالکان سے رقوم کی وصولی پر توجہ دینے کے بجائے پورے نظام کا جائزہ لیا جائے۔یہ نرسری ہولڈرز کا مؤقف ہے؛ اس کی آزادانہ تصدیق کے لیے متعلقہ معاہدوں اور محکمہ جنگلات کے ریکارڈ کا جائزہ ضروری ہے۔

آڈٹ میں بھی سوالات اٹھائے گئے تھے

یہ بھی حقیقت ہے کہ بلین ٹری سونامی کے حوالے سے آڈٹ ریکارڈ میں مختلف مالی اور انتظامی اعتراضات سامنے آ چکے ہیں۔ایک خصوصی آڈٹ رپورٹ سے متعلق خبر میں بتایا گیا کہ بعض جنگلاتی ڈویژنز میں شجرکاری کے اہداف پورے نہ ہونے، سرکاری نرسریوں میں پودوں کی لاگت اور نجی نرسریوں کی قیمتوں کے فرق سمیت مختلف معاملات پر اعتراضات اٹھائے گئے تھے۔ اسی رپورٹ کے مطابق چترال میں 226 closures کا حوالہ بھی دیا گیا اور سرکاری نرسری میں bare-rooted پودے کی لاگت اور نجی grower کو دی جانے والی قیمت کے درمیان نمایاں فرق کی نشاندہی کی گئی تھی۔دوسری جانب خیبرپختونخوا کے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے ریکارڈ میں بلین ٹری سونامی کے تحت سرکاری نرسریوں کے لیے نجی زمین کے کرائے سے متعلق بھی ایک اعتراض درج ہوا، جس میں بعد ازاں محکمہ کی وضاحت قبول کرکے پیرا سیٹل کرنے کی سفارش کی گئی۔اس لیے معاملہ صرف نجی نرسری ہولڈرز تک محدود نہیں رہتا بلکہ منصوبہ بندی، سرکاری نرسریوں، نجی نرسریوں، نرخوں، معاہدوں، ادائیگیوں، نگرانی اور آڈٹ—تمام پہلوؤں کو ایک ساتھ دیکھنا ضروری ہے۔

چترال میں کامیابی کی کچھ مثالیں بھی موجود ہیں

یہ تصویر بھی مکمل طور پر یک طرفہ نہیں۔ چترال کے بعض علاقوں میں بلین ٹری منصوبے کے تحت شجرکاری کے مثبت نتائج کی مقامی رپورٹس بھی سامنے آئی تھیں۔مثلاً 2017 میں کھوتان لشٹ کے علاقے میں ایک لاکھ سے زائد پودے لگائے جانے اور مقامی لوگوں کی طرف سے ان کی آبپاشی و حفاظت کے انتظامات کی رپورٹ شائع ہوئی تھی۔ مقامی لوگوں نے اس مخصوص علاقے میں پودوں کی کامیابی کی شرح بہت زیادہ ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔اسی طرح WWF کی ایک رپورٹ میں لاسپور اور رمبور میں قدرتی جنگلات کی بحالی کے لیے exclosures قائم کیے جانے کا ذکر بھی ملتا ہے۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کامیابی یا ناکامی کو پورے چترال کے لیے ایک ہی فیصد میں بیان کرنے کے بجائے علاقہ، species، نرسری، زمین اور شجرکاری کے مقام کے حساب سے جانچنا زیادہ مناسب ہوگا۔

بعد کے وفاقی ریکارڈ میں چترال کے لیے مختلف اعداد

ایک قومی اسمبلی کے سرکاری سوال و جواب میں وزارتِ موسمیاتی تبدیلی نے بتایا کہ 31 دسمبر 2021 تک Ten Billion Tree Tsunami Programme کے تحت Malakand West Forest Circle میں 15,620,043 پودے لگائے گئے تھے، جن میں چترال کے لیے 1,550,000 پودے درج تھے۔ اسی جواب میں چترال کے حوالے سے damage reports کی تعداد بھی دی گئی۔یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ یہ Ten Billion Tree Tsunami Programme کا الگ دور/مرحلہ ہے، جبکہ اوپر بیان کردہ 69,32,187 کا عدد اصل Billion Tree Tsunami Afforestation Project کے پرانے ریکارڈ سے متعلق ہے۔ دونوں اعداد کو جمع کرکے ایک ہی منصوبے کا حتمی نتیجہ قرار دینا درست نہیں ہوگا۔

اصل سوال: آج کتنے پودے زندہ ہیں؟

یہی وہ سوال ہے جس کا جواب سب سے زیادہ اہم ہے۔اگر چترال میں تقریباً 69 لاکھ سے زائد پودوں کا ہدف/ریکارڈ موجود تھا تو محکمہ جنگلات کو اب یہ بتانا چاہیے کہ:

کتنے پودے لگائے گئے؟

کتنے پودے زندہ رہے؟

کتنے مر گئے؟

کس علاقے میں کامیابی کی شرح کتنی رہی؟

کون سی species کامیاب رہیں اور کون سی ناکام؟

کتنی نجی نرسریوں نے معاہدے کے مطابق پودے تیار کیے؟

کتنی نرسریوں کو مکمل ادائیگی ہوئی؟

کتنی نرسریوں کی دوسری اور تیسری قسط روکی گئی؟

کتنی نرسریوں سے رقم واپس مانگی جا رہی ہے؟

اور سب سے اہم:

جن نرسریوں کو محکمہ جنگلات کے مجاز افسران نے ابتدائی معائنہ اور تصدیق کے بعد پہلی قسط جاری کی تھی، ان کے بعد کے نقصانات یا ناکامی کی ذمہ داری کس بنیاد پر مقرر کی گئی؟

چترال کے لیے “وائٹ پیپر” کی ضرورت

چترال میں بلین ٹری سونامی کی اصل تصویر سامنے لانے کے لیے محکمہ جنگلات کو ایک جامع White Paper جاری کرنا چاہیے۔اس میں ہر نرسری کے بارے میں کم از کم یہ معلومات شامل ہوں:

نرسری ہولڈر کا نام

نرسری کا مقام

معاہدے کی تاریخ

معاہدے کی کل رقم

پہلی، دوسری اور تیسری قسط کی تفصیل

تیار کیے گئے پودوں کی تعداد

پودوں کی species

محکمہ جنگلات کے معائنہ افسر کا نام/رپورٹ

GPS اور تصویری ریکارڈ

مانیٹرنگ رپورٹ

کامیاب یا ناکام قرار دینے کی وجہ

اگر رقم واپس مانگی گئی تو اس کی قانونی/معاہداتی بنیاد

آڈٹ اعتراض کی مکمل تفصیل

نرسری ہولڈر کا جواب اور محکمہ کا حتمی فیصلہ

اس طرح معاملہ الزام تراشی کے بجائے دستاویزی شواہد کی بنیاد پر حل ہوسکتا ہے۔

قومی سطح پر منصوبے کا حجم

بلین ٹری سونامی کے بعد وفاقی سطح پر Ten Billion Tree Tsunami Programme شروع کیا گیا، جس کا چار سالہ PC-I تقریباً 125.184 ارب روپے کا تھا اور پہلے مرحلے میں 3.296 ارب پودے لگانے/بحال کرنے کا ہدف رکھا گیا تھا۔ اس میں خیبرپختونخوا کے لیے 1 ارب پودوں کا ہدف اور تقریباً 27.34 ارب روپے کی لاگت درج تھی۔یہ اعداد بتاتے ہیں کہ شجرکاری پروگرام کا مالی اور انتظامی حجم بہت بڑا تھا، اس لیے اس کے جائزے کے لیے بھی صرف ایک فرد یا ایک نرسری کی فائل دیکھنا کافی نہیں بلکہ پورے نظام کا آڈٹ اور مانیٹرنگ ریکارڈ دیکھنا ضروری ہے۔

نتیجہ

بلین ٹری سونامی چترال کے لیے محض ایک سیاسی نعرہ نہیں بلکہ ایک بڑا سرکاری ماحولیاتی منصوبہ تھا جس میں سرکاری اور نجی دونوں شعبوں نے کردار ادا کیا۔

دستیاب ریکارڈ میں چترال کے لیے69,32,187 پودوں کا عدد سامنے آتا ہے، جبکہ بعض مالی ریکارڈ میں تقریباً 14.16 کروڑ روپے کی ریلیز اور 11.99 کروڑ روپے کے اخراجات کا ذکر ملتا ہے۔ تاہم ان اعداد کو حتمی اور موجودہ صورتحال قرار دینے سے پہلے محکمہ جنگلات کے اصل district-wise اور nursery-wise ریکارڈ سے دوبارہ تصدیق ضروری ہے۔دوسری طرف نرسری ہولڈرز کا مؤقف ہے کہ انہوں نے محکمہ جنگلات کے معاہدے اور مجاز افسران کی تصدیق کے بعد کام شروع کیا، پہلی قسط بھی مقررہ شرائط پوری کرنے کے بعد حاصل کی، لیکن بعض نرسریوں میں بعد میں پودوں کے خراب ہونے کی صورت میں دوسری اور تیسری قسطوں کے معاملات مکمل نہ ہوسکے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ کئی سال بعد کارروائی کرنے سے پہلے ہر کیس کو الگ الگ دیکھا جائے۔اگر واقعی کسی نے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا ہے تو ذمہ دار کا تعین ہونا چاہیے، لیکن اگر کسی نرسری ہولڈر نے سرکاری معاہدے کے تحت مطلوبہ کام کیا اور بعد میں قدرتی، موسمی یا تکنیکی وجوہات سے نرسری ناکام ہوئی تو اس معاملے کو بھی شواہد، معاہدے اور مانیٹرنگ ریکارڈ کی بنیاد پر دیکھا جانا چاہیے۔چترال کے عوام کا بنیادی سوال یہی ہے: بلین ٹری سونامی میں کتنے پیسے آئے، کہاں خرچ ہوئے، کتنے پودے لگے، کتنے زندہ رہے اور ناکامی کی صورت میں اصل ذمہ دار کون تھا

زر الذهاب إلى الأعلى
Ads Blocker Image Powered by Code Help Pro

Ads Blocker Detected!!!

We have detected that you are using extensions to block ads. Please support us by disabling these ads blocker.

Powered By
100% Free SEO Tools - Tool Kits PRO

اشتہارات بند کیوں ہیں؟۔

براہِ کرم ہمارے پلیٹ فارم کو سپورٹ کرنے کے لیے اشتہارات کو روکنے والی ایپ بند کر دیں۔ آپ کی معاونت ہمارے لیے اہم ہے۔