
سندھ حکومت کے ریلیف پیکجز کی تقسیم: ضلع اپر چترال (بونی) میں باقاعدہ تقریب اور اہم فیصلے
اپر چترال(چترال ایکسپریس):سندھ حکومت کی جانب سے ضلع اپر چترال کے لیے بھیجے گئے خصوصی ریلیف پیکجز اور واٹر فلٹریشن پلانٹس کی شفاف و منصفانہ تقسیم کے حوالے سے ضلع اپر چترال کے ہیڈ کوارٹر بونی میں ایک اہم تقریب اور اجلاس منعقد ہوا۔ تقریب میں پاکستان پیپلز پارٹی کے ضلعی و تحصیلی نمائندگان اور سینئر عہدیداران نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
اس سلسلے میں پاکستان پیپلز پارٹی کے وفد نے ڈپٹی کمشنر اپر چترال احسان اللہ خان سے خصوصی ملاقات کی اور انہیں تمام امور پر آن بورڈ لیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر اور پارٹی ورکرز کی باہمی مشاورت سے طے پایا کہ سندھ حکومت کے مرہونِ منت موصول ہونے والے تمام الیکٹرانک واٹر فلٹریشن پلانٹس ضلع اپر چترال کے ان مرکزی اور حساس علاقوں میں نصب کیے جائیں گے جہاں پینے کے صاف پانی کی شدید قلت ہے۔ چونکہ یہ پلانٹس برقی اور جدید نوعیت کے ہیں، اس لیے انہیں متعلقہ دیہاتوں میں باقاعدہ طور پر مقامی کمیٹیوں کے حوالے کیا جائے گا، تاکہ ان کی دیکھ بھال، آپریشنل اور تمام ضروری تقاضے مقامی کمیٹیاں باحسنِ خوبی پورے کر سکیں۔
اجلاس میں 250 مستحق و متاثرہ خاندانوں کے لیے غذائی اجناس، راشن، کمبل، کچن سیٹس اور 50 عدد خیموں پر مشتمل امدادی سامان کی تقسیم کی منظوری دی گئی اور پارٹی کیبنٹ کے فیصلے کے مطابق ضلع بھر کی تقسیم کا فارمولا درج ذیل طے پایا:
- تورکہو و ریچ: 40 عدد مکمل ریلیف پیکجز، 10 عدد اضافی کمبل، 10 عدد خیمے، 10 عدد فوڈ پیکجز (آٹا، چاول، چینی وغیرہ) اور 10 عدد کچن سیٹس۔
- بریب و یارخون: 60 عدد سنگل ریلیف پیکجز اور 15 عدد اضافی کمبل۔
- مستوج، لاسپور و چونج: 20 عدد کمبل، 10 عدد کچن سیٹس، 10 عدد خیمے اور راشن پیکجز۔
- بونی، آوی، دومادومی و ریشن: 10 عدد خیمے، فوڈ آئٹمز، کمبل اور کچن سیٹس۔
- موڑکہو و بالائی تریچ: 5 عدد خیمے، فوڈ آئٹمز، کچن سیٹس اور کمبل۔
پارٹی رہنماؤں اور نمائندگان نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ تمام امدادی سامان کی شفاف تقسیم کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا اور سامان حقیقی مستحقین اور متاثرین کی دہلیز تک معقول طریقے سے پہنچایا جائے گا۔
