
بی ایس نرسنگ داخلوں میں کوٹہ سسٹم کے خلاف دائر رٹ سماعت کے لئے منظور, اگے کام روک دیا گیا.۔۔۔۔۔۔ناصر علی
پشاور(چترال ایکسپریس)پروینشل ہیلتھ سروسز کی طرف سے سکولوں کو اپگریڈ کرنے کے بعد بی بی ایس نرسنگ میں نئے پراسپیکٹس کیساتھ ابادی کے تناسب کے مطابق داخلوں کے لئے اشتہار دیا گیا تھا
جس پسماندہ علاقوں کے بنیادی حقوق کو سلب کرتے ہوئے انتہائی کم سیٹ دیئے گئے اور ساتھ اوپن میریٹ کو بھی ختم کیا گیا تھا جس کے بعد چترالی نرسنگ فورم کی طرف سے ہر فورم پر اواز ٹھائی گئی . منسٹر ہیلتھ اور ایم پی اے وزیر زادہ کی طرف سے سیکرٹری ہیلتھ کو بھی لیٹر لکھا گیا مگر کوئی معقول جواب نہ ملنے بنیادی حقوق مانگتے ہوئے چترالی نرسنگ فورم کورٹ پہنچ گئے اور مشہور و معروف ایڈوکیٹ, لاسپور کے مشہور و معروف سماجی و سیاسی شخصیت امیر اللہ خاں یفتالی کے صاحبزادے شاید علی خاں یفتالی( ایڈوکیٹ پشاور ہائی کورٹ)
کی طرف سے بنیادی حقوق مانگتے ہوئے رٹ دائیر کی گئی تھی جس پر اج ہائی کورٹ کے جج نے متعلقہ اداروں کو نوٹس کرکے تمام پروسیڈنگز روکتے ہوئے کیس سماعت کے لئے مقرر کی …
چترالی نرسنگ فورم کا کہنا ہے میڈیکل کالج اور یونیورسٹیز میں کوٹہ کیساتھ اوپن میرٹ کا طریقہ کار رائج ہے اور ہم نرسنگ میں بھی پسمندگی کو دیکھتے ہوئے کوٹہ سسٹم کے ساتھ اوپن میرٹ بھی بحال ہو تاکہ تعلیم کا بنیادی حق سب کو یکسان طریقے سے مل سکے اور قابل طلباء کا حق ضائع نہ ہو.
