تازہ ترینمضامین

اسرائیل کا قومی ترانہ۔۔۔۔محمد شریف شکیب

دہشت گردی، قومی مفادات اور سیلف ڈیفنس دور جدید کی وہ اصطلاحات ہیں جن کی کوئی واضح تعریف ابھی تک وضع نہیں ہوسکی۔ ہر ملک اپنی پسند اور ضرورت کے مطابق ان اصطلاحات کی تعریف وضع کرتا ہے۔ دہشت گردی کو عالمی امن کے لئے پوری دنیا نے خطرہ تسلیم کرلیا ہے۔ سادہ الفاظ میں دہشت گردی سے مراد کسی ملک یا علاقے پر اس کی مرضی و منشا کے خلاف تسلط قائم کرنا، بے گناہ لوگوں کو اپنے مفادات کے لئے خوف و ہراس میں مبتلا کرنا، قتل عام کرنا اورکسی ریاست، قوم یا قبیلے کو جانی و مالی نقصان پہنچانا ہے۔ دنیا کی بڑی جمہوریہ کہلانے والی ریاستیں امریکہ اور بھارت دہشت گردی کی جوتشریح کرتی پیش کرتی ہیں وہ آزاد اقوام کے لئے ناقابل قبول ہیں۔ بھارت حق خود ارادیت اور بیرونی فوجی مداخلت کے خلاف ہتھیاراٹھانے والے کشمیریوں کو دہشت گرد قرار دیتا ہے جبکہ باقی دنیا کشمیریوں کو مظلوم، مقہور اور جبرواستبداد کا شکارسمجھتی ہے اور ان کی مزاحمتی تحریک کو اپنی حفاظت کا بنیادی حق قرار دیتی ہے۔ اسی طرح امریکہ اور اس کا طفیلی اسرائیل فلسطینیوں کو دہشت گرد قرار دیتے ہیں جبکہ باقی دنیا فلسطینیوں کو مظلوم اور ان کی زمین پر ناجائز قبضہ کرنے والوں کو جارح اور ظالم قرار دیتی ہے۔ اسرائیل کا قومی ترانہ پڑھ لیں تو صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اس ناجائز ریاست کا نظریہ دہشت گردی پر مبنی ہے، یہ ترانہ عبرانی زبان میں ہے جس کا انگریزی میں لفظی ترجمہ کچھ یوں کیا گیا ہے۔ As long as there is a jewish soul in the hearts. yearing farward toward the east, our hope is not made yet. A thousand years dream on our land, the land of Zion ad Jerusalem. Let those who are our enemy shudder, let all the inhabitants of Egypt and Canaan tremble, let the inhabitants of Babylon(Baghdad) sudder, To loom over their skies, panic and terror from us. When we plant our spears in their chests, and we see their blood being shed, and their heads cut off.,Then we will be God,s chosen people where God willed.۔اس ترانے کا اردو ترجمہ یوں بنتاہے۔”جب تک دل میں یہودی روح ہے یہ تمنا کے ساتھ مشرق کی طرف بڑھتا ہے ہماری امید ابھی پوری نہیں ہوئی۔ اپنی زمین پر ایک ہزار سال کا خواب، اپنے خوابوں کی دنیا یروشلم، ہمارے دشمن یہ سن کے ٹھٹھر جائیں، مصر اور کنعان کے سب لوگ لڑکھڑا جائیں بابلوں (بغداد)کے لوگ ٹھٹھر جائیں،ان کے آسمانوں پر ہمارا خوف اور دہشت چھائی رہے۔ جب ہم اپنے نیزے ان کی چھاتیوں میں گاڑھ دیں گے اور ہم ان کا خون بہتے اور ان کے سر کٹتے ہوئے دیکھیں گے۔ تب ہم اللہ کے پسندیدہ بندے ہوں گے جو اللہ چاہتا ہے“قومی ترانہ کسی ریاست کے بنیادی نظریے کا عکاس ہوتا ہے۔ اسرائیلیوں کے قومی ترانے میں اہل مصر، اہل کنعان اور اہل بغداد کے سینوں میں نیزے مارنے، ان کے سر کاٹنے اور خون بہانے کے جس عز م کا اظہار کیا گیا ہے۔ گذشتہ 73سالوں سے وہ اس نصب العین پر عمل پیرا ہیں۔ مسلمانوں کے قبلہ اول پر حملہ، صابرہ اور شتیلہ کے مہاجر کیمپوں میں فلسطینی خواتین اور بچوں کا قتل عام دنیا نہیں بھولی۔ اب اسرائیل نے غزہ سٹی، غرب اردن اور فلسطینی علاقوں میں قتل و غارت گری کا جو بازار گرم کررکھا ہے وہ اس کے دہشت گردانہ نظریات کی ترجمانی ہے اور امریکہ نے سلامتی کونسل میں اسرائیلی جارحیت کے خلاف قرار داد ویٹو کرکے اور اسرائیل کو اپنے دفاع کے لئے اربوں ڈالر کے ہتھیار فراہم کرنے کا معاہدہ کرکے ثابت کردیا ہے کہ امریکہ کا نصب العین بھی دہشت گردی کا خاتمہ نہیں بلکہ اس کا فروغ ہے۔ اسی مقصد کے لئے امریکہ اور اس کے حواریوں نے نائن الیون کا ڈرامہ رچایا تھا۔ اسی نظریے کی بنیاد پر افغانستان،عراق،شام اور لیبیا پر لشکر کشی کی تھی۔واقفان حال کا کہنا ہے کہ القاعدہ اور داعش نامی تنظیمیں بھی امریکہ اور اس کے حواریوں نے بنائی ہیں تاکہ مسلمانوں کو مسلمانوں کے ذریعے نقصان پہنچایاجاسکے۔یہی موقع ہے کہ عالم اسلام کو اپنے فروغی اختلافات کو پش پشت ڈال کر امت متحدہ بننے کے لئے عملی کام کرنا چاہئے یہی ان کی بقاء کا واحد راستہ ہے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔