بلدیاتی انتخابات؛ چترال میں جمعیت علماء اسلام اور مسلم لیگ ن کا اتحاد، دروش اور مستوج کی تحصیلیں مسلم لیگ کو ملیں گی

چترال(چترال ایکسپریس) بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے کے سلسلے میں چترال کے دونوں اضلاع میں جمعیت علماء اسلام اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے درمیان انتخابی اتحاد عمل میں آگیا ہے۔ اس حوالے سے دونوں جماعتوں کے ذرائع نے اعلان کیا ہے کہ پی ڈی ایم میں موجود جمعیت علماء اسلام اور پاکستان مسلم لیگ (ن) نے چترال کے دونوں اضلاع کی سطح پر انتخابی اتحاد کر لیا ہے جس کی رو سے ضلع لوئر چترال میں تحصیل چترال کی نشست جمعیت علماء اسلام کو ملی اور جے یو آئی کے ضلعی امیر مولانا عبدالرحمن امیدوار ہونگے جبکہ تحصیل دروش کی نشست پاکستان مسلم لیگ (ن) کو ملی اور یہاں سے امیدوار کا اعلان پی ایم ایل این کریگی۔ ضلع اپر چترال میں تحصیل تورکہو موڑکہو کی نشست جے یو آئی کے حصے میzں جبکہ تحصیل مستوج کی نشست مسلم لیگ کے حصے میں آگئی ہے۔

اس حوالے سے میڈیا سے فون پر گفتگو کرتے ہوئے جمعیت علماء اسلام ضلع چترال کے سیکرٹری اطلاعات قاضی محمد نسیم نے انتخابی اتحاد کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ دونوں جماعتوں کی باہمی مشاورت سے یہ اتحاد طے پایا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں قاضی محمد نسیم نے کہا کہ انتخابی اتحاد سے قبل جمعیت علماء اسلام کے ضلع چترال لوئر اور اپر دونوں کے چاروں تحصیلوں کے لئے امیدواروں کا اعلان کیا تھا جن میں اپر چترال کے تحصیل تورکہو موڑکہو کے لئے مولانا فتح الباری، تحصیل مستوج کے لئے شہزاد خان جبکہ لوئر چترال میں تحصیل چترال کے لئے مولانا عبدالرحمن اور تحصیل دروش کے لئے شیر محمد جمعیت علماء اسلام کے امیدوار نامزد ہوئے ہیں تاہم اب اتحاد کا مرحلہ طے پانے کے بعد لوئر چترال میں تحصیل دروش اور اپر چترال میں تحصیل مستوج پاکستان مسلم لیگ کے حصے میں آئے ہیں اور ان دو تحصیلوں سے مسلم لیگ ن اپنے امیدواروں کا اعلان کریگی اور جے یو آئی یہاں سے دستبردار ہوگی۔

اسی حوالے سے جمعیت علماء اسلام کے ضلعی امیر مولانا عبدالرحمن کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے بھی پوسٹ کرکے انتخابی اتحاد اور سیٹوں کی تقسیم کی بابت اعلان کیا گیا ہے جبکہ ایسے ہی اعلانات مسلم لیگ کے ضلعی عہدیداروں کی طرف سے کئے گئے ہیں۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔