بلدیاتی انتخابات !اپر چترال کا انتخابی دنگل…(قسط:1) …رپورٹ : کریم اللہ 

31 مارچ کے بلدیاتی انتخابات کے لئے اپر چترال میں بھی بھر پور تیاریاں جاری ہے اس سلسلے میں مختلف امیدوار لوگوں کو موبیلائز کرنے میں مصروف ہے تو دوسری جانب الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے بھی اپر چترال کے انتخابی دنگل کے حوالے سے ووٹروں کی تعداد ، پولنگ اسٹیشن، پولنگ بوتھ، پولنگ عملہ وغیرہ کی لسٹ جاری کردی گئی ہے ۔ آج کے اس رپورٹ میں اپر چترال کے دو تحصیل کونسلوں کی صورتحال کا جائزہ پیش کرتےہیں۔

ضلع اپر چترال دو تحصیلوں پر مشتمل ہے جن میں سے تحصیل مستوج اور تحصیل تورکھو موڑکھو شامل ہے ۔ حالیہ بلدیاتی الیکشن ویلج اور تحصیل کی سطح پر ہورہے ہیں ، اسی لحاظ سے دیکھا جائے تو تحصیل مستوج میں کل 17 ویلج کونسل اور تحصیل تورکھو موڑکھو میں کل 22 ویلج کونسلز ہیں۔ اپر چترال میں کل رجسٹرڈ ووٹروں کی تعداد ایک لاکھ 29 ہزار 450 ہیں۔ تفصیلات کچھ یوں ہے

تحصیل مستوج:

تحصیل مستوج کھونگیر دیرو بوخت سے شروع ہو کر بروغل اور شندور تک پھیلا ہوا حلقہ ہے ۔ یہاں کے سترہ ویلج کونسلز میں کل رجسٹرڈ ووٹروں کی تعداد 55 ہزار 3 سو 44 ہے جن میں سے 26 ہزار 3 سو 34 خواتین اور 29 ہزار 20 مرد وں کی ہیں ۔ تحصیل مستوج کے رجسٹرڈ ووٹروں میں سے 47 فیصد سے کچھ زیادہ خواتین اور 52 فیصد سے زیادہ مردوں کے ووٹ ہیں۔

الیکشن کمیشن کی جاری کردہ داستاویزات کے مطابق تحصیل مستوج کے کل 63 پولنگ اسٹیشنوں میں 161 پولنگ بوتھ قائم کئے گئے ہیں جن میں سے 84 مردوں کے اور 77 عورتوں کے لئے پولنگ بوتھ شامل ہے ۔

اسی طرح انتخابی عملے کی بات کی جائے تو کل 706 پولنگ عملہ تعینات کر دیا کیا گیا ہے جن میں سے 62 پریذایڈنگ افیسرز،483 اسسٹنٹ پولنگ افیسرز اور 161 پولنگ افیسرز مقرر کئے گئے ہیں۔

تحصیل مستوج میں کل پانچ امیدوار تحصیل چیرمین شپ کا انتخاب لڑ رہے ہیں ۔ جن میں سے پی ٹی آئی کے امیدوار سردار حکیم، پاکستان پیپلزپارٹی کا امیر اللہ ، ن لیگ نے پرویز لال کو ٹکٹ دیا ہے اس کے علاوہ دو آزاد امیدوار یعنی سہروردی خان یفتالی اور ناصر شاہ پیرزادہ بھی تحصیل چیرمین شپ کے دوڑ میں شامل ہے ۔

سیاسی مبصریں کا خیال ہے کہ تحصیل مستوج میں پی ٹی آئی اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان کانٹے دار مقابلہ متوقع ہے ۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔