نرسز، عوام کے تواقعات اور دستیابی…تحریر: ناصر علی شاہ

ہر فرد کے تواقعات حد سے زیادہ مگر عملی کام نہ ہونے کے برابر ہے ہر شخص کسی نہ کسی طرح عوامی خدمت پر مامور ہے اور عوام کو سروسز مہیا کرتے رہتے ہیں۔
مگر جتنا سروس دوسروں سے توقع رکھتے ہیں اپنی ذات سے وہ مہیا کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتے ہیں۔
کوئی بھی پیشے کو اور پیشہ ور خود کو ایک سیکنڈ کے لئے کٹہرے میں رکھے اور سوچے کیا واقع آپ کا رویہ لوگوں کے ساتھ درست ہے؟
کیونکہ اکثر و بیشتر ہم اپنے کام کی جگہ میں بادشاہ بن کر دو منٹ کی کام کے لئے دوسروں کو بلا وجہ انتظار کروا دیتے ہیں یا کچھ دن بعد آنے کا مشورہ دے کر جاں چھڑانے کی کوشش کرتے ہیں۔۔

نرسنگ اہم اور عظیم پیشہ ہے نرسنگ کا پیشہ صحت کے شعبے میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔
اس پیشے کے عظیم ہونے کے لئے یہی کافی ہوتا ہے کہ اس پیشے میں جان بچایا جاتا ہے اس پیشے سے منسلک پروفیشنلز اس آیت کو ایمان بنا کر (جس نے ایک زندگی بچائی گویا پوری انسانیت کو بچایا(القرآن)۔ اپنی بہترین کوشش کرتے ہیں۔
باقی کچھ بے حس لوگ ہر جگہ ملتے ہیں۔

نرسز سے تواقعات۔
ایک شخص جب ہسپتال میں داخل ہوتا ہے تو ان کو لگتا ہے کہ یہاں میں اکیلا مریض ہوں یا میرے مریض ہی سب سے زیادہ تکلیف میں ہے۔
پہلے مجھے کوریج ملنا چاہئے، اور ڈاکٹر نے صرف اکیلا مجھے ہی بولا ہے، کمپیوٹر کے سامنے بیٹھ کر لکھے جا رہے ہیں عملی کام نہ ہونے کے برابر، رویہ تو دیکھو، ہم سے بات نہیں کی جاتی، سمجھایا نہیں جاتا، میڈیسن اور کینٹن کا راستہ بھی بتانا چاہئے وغیرہ وغیرہ۔
ہر تیماردار کے مطابق ان کا مریض ہی ہے تو نرسز ان کو کونسلنگ بھی کریں،
کمپیوٹر میں پہلے میرے مریض کے دوائیاں انٹری کریں،
دوائیاں بھی سمجھائیں، کینٹن کا راستہ بھی بتائیں
اور درد ہونے کی صورت میں سب مریضوں کو چھوڑ کر میرے مریض کے پاس پہنچ جائے۔
بلکل درست سوچ رہے ہیں ایسا ہی ہونا چاہئے اور میں بھی یہی توقع رکھتا ہوں اور سوچتا ہوں مگر
مگر
مگر
کیا کسی نے لڑائی کے بجائے پرامن طریقے سے پوچھنے کی زحمت کی کہ ایسا کیوں نہیں؟؟ کیا کسی نے عالمی ادارہ صحت کے سٹافنگ کے اصولوں کو دیکھنے اور سمجھنے کی کوشش کی ہے؟؟
کیا کسی نے اپنی کھوپڑی کے اندر سویا ہوا محفوظ دماغ کو جگانے کی کوشش کی ہے کہ بلانے کے باوجود تاخیر کیوں ہوتی ہے ؟؟؟
کیا کسی نے غور کیا ہے کہ دو نرسز ستر مریضوں کو دیکھ بھال کر رہے ہیں تو کوالٹی کیا ہوگی اور میرا نمبر کب آئے گا ؟؟؟
کیا کسی نے پوچھا ہے کہ انتہائی نگہداشت وارڈ ( سی سی یو، آئی سی یو) میں ایک وینٹی لیٹر مریض اور ایک نرسز ہونا چاہئے اب تین تین وینٹی لیٹر والا مریض ایک نرسز کیوں دیکھ رہی ہے اگر دیکھ رہی ہے تو علاج کی کوالٹی کیا ہوگی اور تواقع کیا رکھنا چاہئے ؟؟جواب یقیناً نفی میں ملے گا کیونکہ مطلب پرستی سے باہر کیونکر نکلے, دوسروں کے لئے کیوں بولیں، بس کام چل رہا ہے چلنے دینا چاہئے تھوڑا لڑائی کرو، ڈراؤ کام ہوجائے گا۔
اب اس کو یہ نہیں پتہ اس کی لڑائی کی وجہ دوسرے چیمبر کا سیریس مریض کتنا متاثر ہوتا ہے

اب دستیابی دیکھیں،
صوبے میں زیادہ سے زیادہ 12 ہزار نرسز مریضوں کی خدمت میں تعینات ہونگے جسمیں سات ہزار سول سرونٹ باقی ایم ٹی آئی اور پرائیویٹ ہسپتالوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔
تقریباً گیارہ سے پندرہ ہزار ہونگے۔۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق 2025 تک صوبے میں نرسز کی تعداد 30 ہزار تک ہونا چاہئے ایسا کرنے کی کوشش ہی نہیں،
حکومت کی اپنی رپورٹ میں نرسز کی تعداد انتہائی کم ہے ( ایچ ایس آر یو)۔
پرائیویٹ ہسپتالوں میں نرسز اور مریض ریشو میں زیادہ فرق ہے کہیں بھی سٹافنگ پوری نہیں۔ نرسز کم اور مریض زیادہ بلکہ دن بہ دن مریض بڑھتے جا رہے ہیں پبلک سروس کمیشن خیبرپختونخوا کی طرف سے کوئی انڈکشن کا عمل نظر نہیں آرہا اور جب تک حکومت نہیں چاہے گی یہ ادارہ آگے نہیں بڑھا سکتا

ہماری حکومت اور پرائیویٹ اداروں سے گزارش ہے عوام اور مریضوں کو بہترین سہولیات مہیا کرنے کی خاطر سٹافنگ میں عالمی ادارہ صحت کے قوانین کو اپنایا جائے اور زمہ دار ادارے ان ہسپتالوں کو ایسا کرنے کا پابند بنائے تاکہ مریضوں کو تواقعات سے بڑھ کر علاج مل سکیں۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔