تازہ ترینمضامین

مودی کی ڈگری کا تنازعہ…محمد شریف شکیب

بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی کی بی اے اور ایم اے کی ڈگری ایک بار پھر سیاسی بحث کا موضوع بن گئی ہے۔ عام آدمی پارٹی کے سربراہ اروند کیجریوال نے جب یہ معاملہ اٹھایا تو اسے لینے کے دینے پڑ گئے اور عدالت نے اسے 25 ہزار روپے جرمانہ کر دیا۔ عدالت کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کی ڈگریاں پہلے ہی عام کی جا چکی ہیں۔پھر ان پر اعتراض اٹھانے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔2016 میں بھی گجرات کے وزیر اعلی کیجریوال نے سینٹرل انفارمیشن کمیشن سے درخواست کی کہ معلومات تک رسائی کے حق کے قانون کے تحت وزیر اعظم کی ڈگری کی معلومات فراہم کرنے کا حکم دیا جائے۔تاہم بھارت کی حکمراں جماعت بی جے پی نے وزیر اعظم نریندر مودی کی بی اے اور ایم اے کی ڈگریاں جاری کرتے ہوئے کیجریوال سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ نریندر مودی سے ان کی ڈگریوں کو جعلی قرار دینے کے لیے معافی مانگیں۔عدالت کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کو ذاتی نوعیت کے سوالات کا جواب دینے سے استثنی حاصل ہے۔کیجریوال اپنے اس موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں کہ کیا ملک کے عوام کو یہ جاننے کا حق نہیں کہ ان کے وزیر اعظم کتنے پڑھے ہوئے ہیں۔گجرات یونیورسٹی نے 2016 میں وزیر اعظم مودی کی ڈگری اپنی ویب سائٹ پر ڈال دی تھی۔ بی جے پی نے وزیر اعظم کی دہلی یونیورسٹی سے بیچلر آف آرٹس اور گجرات یونیورسٹی سے پولیٹیکل سائنس میں ماسٹر آف آرٹس کی ڈگریاں جاری کی تھیں۔ان کی ایم اے کی ڈگری میں انٹائر پولیٹیکل سائنس کا مضمون درج ہے یہ مضمون بھارت سمیت دنیا کی کسی بھی یونیورسٹی میں نہیں پڑھایا جاتا۔ نریندر مودی کی ڈگریوں پر اعتبار کیا جائے تو وہ سیاسیات میں ماسٹرز ڈگری یافتہ ہیں تاہم ان کا ایک انٹرویو بھی ریکارڈ پر ہے۔ جس میں وہ دعوی کر رہے ہیں کہ وہ سول انجینئر ہیں۔جبکہ یہ بھی ریکارڈ پر ہے کہ وہ سیاست میں آنے سے پہلے چائے کا کاروبار کرتے تھے۔کوئی بھی کام برا نہیں ہوتا۔ہمارا تو یہ عقیدہ ہے کہ محنت میں عظمت ہے۔ مغربی دنیا میں سیاست کو قوم کی خدمت کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ وہاں زیادہ سے زیادہ دو مرتبہ کسی کو صدر یا وزیراعظم کے عہدے پر فائز رہنے کا حق ہے۔ امریکہ کی ڈھائی سو سالہ سیاسی تاریخ میں صرف فرینکلن ڈی روزویلٹ کو تیسری مرتبہ صدارت کے عہدے پر فائز رہنے کا موقع ملا کیونکہ پہلی جنگ عظیم کے دوران انتخابات کروانا ممکن نہیں تھا تاہم روزویلٹ صدارت کی تیسری مدت کا صرف ایک سال گزار سکے۔ان کے انتقال کے بعد غیر منتخب نائب صدر ہیری ٹرومین امریکہ کے صدر بنے جس نے جاپان کے شہروں ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم گرانے کا حکم جاری کیا۔جبکہ پاکستان اور بھارت سمیت ترقی پذیر ممالک میں سیاست کو خاندانی پیشے کے طور پر اپنایا جاتا ہے۔ہمارے سیاست دان سیاست بازی کے سوا کوئی دوسرا کام کاج نہیں کرسکتے۔کسی شاعر نے غالبا انہی کے بارے میں کہا تھا” کروں گا کیا، جو سیاست میں ہو گیا ناکام۔۔مجھے تو اور کوئی کام بھی نہیں آتا”.بات ڈگریوں کی ہو رہی تھی۔ہمارے ہاں بھی مشرف دور میں یہ فیصلہ ہوا تھا کہ صدر، وزیراعظم، وفاقی و صوبائی وزیر، سینیٹر اور قومی و صوبائی اسمبلی کا ممبر بننے کے لئے گریجویٹ ہونا لازمی ہے۔ اس زمانے میں جعلی ڈگریوں کا کاروبار بھی کافی پھل پھول گیا۔ایک سابق وزیراعلی کے یہ ریمارکس ضرب المثل بن گئے کہ “ڈگری ڈگری ہوتی ہے چاہے اصلی ہو یا جعلی”

زر الذهاب إلى الأعلى
Ads Blocker Image Powered by Code Help Pro

Ads Blocker Detected!!!

We have detected that you are using extensions to block ads. Please support us by disabling these ads blocker.

Powered By
100% Free SEO Tools - Tool Kits PRO

اشتہارات بند کیوں ہیں؟۔

براہِ کرم ہمارے پلیٹ فارم کو سپورٹ کرنے کے لیے اشتہارات کو روکنے والی ایپ بند کر دیں۔ آپ کی معاونت ہمارے لیے اہم ہے۔