قدرتی آفات کے منڈلاتے خطرات…محمد شریف شکیب

نیشنل ڈزاسٹر منیجمنٹ اتھارتی نے آنے والے دنوں میں گرمی کی شدت میں چھ درجے تک اضافے اور ملک کے شمالی مغربی علاقوں میں موسلادھار بارشوں ، لینڈ سلائیڈنگ اور سیلاب آنے کا الرٹ جاری کردیا ہے۔ پی ڈی ایم اے اور محکمہ موسمیات نے بھی سوات، اپر دیر، اپر و لوئر چترال اور کوہستان میں گلیشئر پھٹنے اور سیلاب کے خطرے سے آگاہ کیا ہے۔ پاکستان کے میدانی علاقوں میں ان دنوں شدید گرمی پڑ رہی ہے اور اس کی شدت میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے۔محکمہ موسمیات نے آئندہ پانچ روز تک ملک کے مختلف علاقوں میں گرم ہوائیں چلنے کا امکان ظاہر کیاہے۔اور درجہ حرارت میں چار سےچھ ڈگری سینٹی گریڈ تک اضافےکا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ گرمی کی اس شدت کی وجہ فضا میں ہوا کے زیادہ دباؤکو قرار دیاگیا ہے۔الرٹ کے مطابق درجہ حرارت میں اضافے کی وجہ سے آنے والے دنوں میں بجلی اور پانی کی طلب میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ عوام کو گرمی سے بچاؤ کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے اور دن کے وقت بلا ضرورت باہر نکلنے سے گریز کرنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔ ہیٹ ویو کے دوران پنجاب، سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے میدانی علاقوں میں درجہ حرارت 48سے 50 ڈگری تک پہنچ سکتا ہے۔پشاور میں بھی پارہ 45 ڈگری سینٹی گریڈ کو چھو سکتا ہے۔ہیٹ ویو کے اثرات گلگت بلتستان اور چترال تک بھی محسوس کیے جائیں گے اور وہاں درجہ حرارت 40 ڈگری سےتجاوز کرجائے گا۔جس کی وجہ سے چترال اور گلگت بلتستان کے علاوہ سوات،کوہستان اور اپردیر کے بالائی علاقوں میں برف تیزی سے پگھلنے لگے گی جس سے دریاوں اور ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے۔طبی ماہرین کے مطابق جیسے جیسے جسم کا درجہ حرارت بڑھ جاتاہے خون کی نالیاں کھلنا شروع ہو جاتی ہیں۔ اس سے فشارِ خون میں کمی واقع ہوتی ہے اور دل کو جسم میں خون پہنچانے کے لیے زیادہ محنت کرنی پڑتی ہے۔اس کے باعث جسم پر جلن پیدا کرنے والے نشانات بھی بن سکتے ہیں اور پیروں میں سوزش بھی ہو سکتی ہے۔ زیادہ پسینہ بہنے کی وجہ سے جسم میں پانی اور نمکیات کی کمی واقع ہونے کی وجہ سے جسم میں ان کا توازن بدل جاتا ہے۔ان علامات کے ساتھ کم فشارِ خون کی وجہ سے لو بھی لگ سکتی ہے جس کی وجہ سےسر چکرانے،بے ہوش ہونے،الجھن کا شکار ہونے،متلی آنے،پٹھوں میں کھچاؤ محسوس کرنے،سر میں درد ،تھکاوٹ محسوس ہونے کی علامات ظاہر ہوتی ہیں اگر فشارِ خون بہت زیادہ گر جائے تو دل کا دورہ پڑنے کے خطرہ بھی پیدا ہوسکتا ہے۔انسانی جسم 37.5 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت برقرار رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ وہ درجہ حرارت ہے جس پر ہمارے جسم نے کام کرنا سیکھ لیا ہے۔جیسے جیسے پارہ بڑھتا ہے، جسم کو اپنا بنیادی درجہ حرارت کم رکھنے میں دشواری ہوتی ہے۔ ان حالات میں ہمارا جسم جلد کے قریب واقع شریانوں کو کھول دیتا ہے تاکہ ہمیں پسینہ آئے اور جسم کا درجہ حرارت کم ہو جائے۔پسینہ خشک ہو کر جلد سے خارج ہونے والی گرمی کو بڑھا دیتا ہے۔ سننے میں یہ عمل سادہ لگ رہا ہے لیکن یہ جسم پر کافی دباؤ ڈالتا ہے یعنی جتنا زیادہ درجہ حرارت بڑھتا ہے اتنا ہی جسم پر دباؤ بڑھتا ہے۔ماہرین کے مطابق یہ کھلی شریانیں بلڈ پریشر گھٹا دیتی ہیں کھلی شریانوں کے رسنے کی وجہ سے پاؤں میں سوجن اور گرمی دانوں پر خارش جیسی علامات پیدا ہو سکتی ہیں۔دھوپ میں نکلتے وقت سر پر گیلا کپڑا رکھنا، پانی کی بوتل ساتھ لے جانا اور چھتری کا استعمال گرمی کے نقصانات سے بچا سکتا ہے۔ انفرادی احتیاطی تدابیر سے زیادہ اجتماعی نقصانات سے بچاو کے لئے حکومتی اور اداروں کی سطح پر ہنگامی اقدامات ناگزیر ہیں۔اگرچہ قدرتی آفات کو روکا نہیں جاسکتا تاہم مناسب اور بروقت احتیاطی اقدامات سے جانی اور مالی نقصانات کو کم کیا جاسکتا ہے۔ برف تیزی سے پگھلنے اور گلیشئر پھٹنے سے صرف مقامی آبادی کا نقصان نہیں ہوتا بلکہ اس کے اثرات پورے صوبے اور ملک پر بھی مرتب ہوتے ہیں گذشتہ ایک عشرے کےدوران تین مرتبہ تباہ کن سیلابوں سے ملک کو جو نقصان پہنچا ہےاس کے اثرات ابھی تک باقی ہیں۔ ماحولیاتی تبدیلی اور عالمی حدت میں اضافے سے گلاف برسٹ یعنی برفانی جھیلوں کے پھٹنے کے خطرات سے ماہرین کئی سالوں سے خبردار کرتے رہے ہیں لیکن ہمارے ہاں بروقت احتیاطی تدابیر کے بجائے آفات کے نازل ہونے کے بعدسرپیٹنے کی روایت ہے۔ وفاقی و صوبائی حکومت، ڈویژنل و ضلعی انتظامیہ اور گلاف پر کام کرنے والے غیر سرکاری اداروں کو ممکنہ آفات رونما ہونے سے پہلے حفاظتی اقدامات پر توجہ دینی چاہئے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔