چترال کے منتخب مقامات کی لوک تاریخ(13قسط)..پروفیسر اسرار الدین

حصہ دوم: ضلع لور چترال(چترال پائین)
الف:تحصیل چترال

1۔برے نس:

یہ گاؤں ضلع اپر چترال اور لور چترال کے درمیان حدبندی ہے۔یہاں سے لورچترال کا ضلع شروع ہوجاتا ہے۔دریائے مستوج (چترال) کے ساتھ جنوب کی طرف کاری گاؤں تک کا علاقہ کوہ بھی کہلاتا ہے۔یاد رہے کہ علاقہ چترال میں تورکھو اور موڑکھوکے علاوہ مختلف وادیوں اورنالوں کے ساتھ کوہ لفظ کالاحقہ لگاہوا ہے۔مثلاًلٹکوہ،جنجرت کوہ،شیشی کوہ وغیرہ۔یہ سب لور چترال میں واقع ہیں۔اپرچترال میں صرف لون کوہ نالہ جس کے ساتھ کوہ کالفظ ہے اس سے مشتشنی ہے۔
کوہ اگرچہ فارسی لفظ ہے اور اسکے معنی پہاڑ کے ہیں۔لیکن کھوارزبان میں زیرین وادی اور زیرین علاقے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔اس کا ضد لفظ سرحد ہے جونسبتاً ٹھنڈعلاقے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔لیکن راقم کے ذہن میں لفظ کوہ اور کھو کے حوالوں سے کچھ اشکال ہیں جوماہرین کے غور کے لئے پیش خدمت ہیں۔یونانی وقت کے تاریخوں میں چترال دریا تاجلال آباد کھوسپس دریا کے نام سے موسوم ہے۔جس کا مطلب ظاہرہے۔کہ
اس لفظ کاتعلق کھوسے ہے اس سے آگے جہاں کابل کا علاقہ آجاتا ہے۔یونانی تاریخ میں کوپھن(Cophen)کہلاتا ہے چینیوں نے اسے چیپھن لکھا)سوال یہ ہے کہ کیا لفظ کوہ(یعنی زیرین علاقہ) کا کوپھن والے لفظ سےکوی تعلق ہے کہ نہیں۔
پروفیسر ممتاز حسین ”کھو“کے بارے میں لکھتے ہیں۔کہ یہ دراصل کلاشہ زبان سے ماخوذ لفظ ہے۔اصلیت میں یہ ”کوئی“ہے۔جیسا کہ کلاشہ میں جنجرت ”کوئی“۔کھوار میں آکر یہ لفظ تبدیل ہوا۔اور ”کھو“بنا۔دوسرا امکان وہ یہ بتاتے ہیں کہ یہ فارسی لفظ کوہستان سے لیا گیا ہوا لفظ ہے بدخشان کے لوگوں نے شاید اس علاقے کوکوہستان کہاہو جو بعد میں کھوستان بن گیا ہو۔ان کا تیسرا ممکنہ قیاس یہ ہے کہ پرانی فارسی کتابوں میں تورکھو اور موڑکھو کوتوری کوپ موڑی کوپ نامون سے تذکرہ کیاگیا ہے اسلئے ممکن ہے کہ کھودراصل کوب ہوگا۔
راقم اگرچہ ان امور کے رموز کے سلسلے میں حتمی طورپر کچھ کہنے کا اپنے کواہل نہیں سمجھتا لیکن مستندتاریخی حوالوں کے مطابق میں جوکچھ لکھتارہاہوں وہ یہ ہے کہ اس علاقے کانام یونانیوں نے جونام لکھے ہیں اس میں کھولفظ خاص طورپرعیاں ہے۔مثلاً یونانیوں کے دئیے ہوئے نقشے میں دریائے چترال کانام کھواسپس ہے۔بطلیموس(Ptolemy)دریاے سوات (جسکانام سواستوتھا)کودریاے کھواس کامعاون بتایا ہے۔میگستنھیز نے بھی دریاے سوات کو دریاے کوپھن(کوپھس)یعنی دریاے کابل کا معاون ظاہر کیا ہے۔ڈاکٹرسٹائین نے ان وادیوں میں سکندراعظم کے ہندوستان کے لئے گذرگاہ پربھی بحث کی ہے اور کہتے ہیں۔”یہ پائین کنڑوادی ہے۔جہاں سکندر اعظم کے فوجیوں نے دریاے کھوس(Khoes)کے کنارے مختلف قبیلوں جن کوایسپاسیان کہتے تھے۔کے خلاف مہم جوئی کاآغاز کیا تھا۔“کھولفظ کے بارے ایک دلچسپ با ت میں نے یہ نوٹ کی کہ کئی زبانوں میں یہ لفظ موجود ہے۔جن کے مختلف معانی دئیے گئے ہیں۔چینی زبان میں تعریف کردہ(Praised)اورمطیع(Submi tted)معنی دئیے ہوئے ہیں۔
چین کے مشہورسات صدی کے سیاح ہیون سانگ کے حوالے سےKho-to-loنام کے ایک ملک کا ذکر آیا ہے۔بتایا جاتا ہے کہ جسکی لمبائی مشرق سے مغرب تک 1000li(liتقریبا1/3انگلش میل کے برابر)اوراتنی ہی لمبائی شمالاًجنوباًہے۔اس کے مشرق میں سن لنگ(T’sung-ling)یعنی پامیر کے پہاڑ ہیں۔یہ Kio-mi-toملک تک پھیلا ہوا ہے۔اسی تذکرے میں ایک ملک واکش(WAKSH)(راقم کے مطابق غالباًواخان)کاحوالہ ہے جو بتاتے ہیں شرقاًغرباً500لی ہے۔اس کے مشرق کی طرف جاتے ہوئےKho-to-loپہنچاجاتا ہے۔واکش شومانShumanاور خولان(Kholan)کے شمال میں ہے۔Kho-to-loلفظ میں to-loکے حوالے یہ ذکرکرنامناسب لگتا ہے کہTati-lo,To-liاورTo-liالفاظ بھی ہیون سانگ نے استعمال کئے ہیں۔جوسٹائین کے مطابق داریل کاعلاقہ ہے۔راقم ان حقایق کا حوالہ بلا تبصرہ پیش کرتا ہے۔بطورناظرین کےfood forlhoughtکے لئے۔
راقم کے خیال میں کلاشہ لفظ”کوئی“دراصل”کھو“کی بگڑی شکل ہے۔”کھو“کوئی“کی بگڑی شکل نہیں ہے۔کیونکہ کلاشہ ان علاقوں میں گیارھویں صدی کے بعد آئے۔جبکہ اس وقت سے پہلے یہاں کانام”کھو“پڑچکاتھا۔
جہاں تک”کھوہستان“(یعنی کوہستان یا پہاڑوں کاعلاقہ)والے نام کاتعلق ہے۔ابھی تک یہ نام کوہستان سوات کوہستان،دیرکوہستان اورہزارہ کوہستان میں رائج ہے۔سوال یہ ہے کہ ان علاقوں کو کس نے کھوستان کیوں نہ کہا۔میرا مطلب یہ ہے۔کھولفظ کاکوہستان سے کوئی تعلق نہیں بلکہ کھوایک مخصوص نام ہے جو اس علاقے (یالوگوں سے)منسوب رہا ہے۔اس کا ماخذ کیا ہے۔یہ الگ سوال ہے؟بلکہ چترال کے لئے کھوھستان کا لفظ کے بجائے کھوستان استعمال کریں توزیادہ مناسب رہے گا۔کوب کالفظ اگرفارسی دانوں نے سکندر یونانی کے جغرافیہ دانوں کے تذکروں کے بعد یاچینی سیاحوں کے بیانات کے بعد استعمال کیا ہے تو یہ کھو کالفظ کابگاڑ ہے۔اگرپہلے کا ہے پھراسکی گنجایش بن سکتی ہے۔
برے نس ایک بڑاقصبہ ہے اور قدیم زمانے سے آباد ہے۔پروفیسر ممتاز حسین اس کی وجہ تسمیہ کے بارے لکھتے ہیں کہ یہ کھوار لفظ باریسون سے نکلاہے جسکا مطلب ہے بوجھ اُٹھانے کی جگہ۔وہ بتاتے ہیں کہ پُرانے زمانے میں لوگ جنگل سے ایندھن کاٹ کے اترائی پر گھسیٹ کے لاتے تھے اور اس جگے پرجمع کرتے تھے اوریہاں گدھوں پریااپنی پیٹھوں پراٹھاکے گھروں کے لے جاتے تھے۔اسلئے اس جگے کانام بریسوں پڑگیا۔جسے بعد میں بگاڑ کے برے نس بنادیا گیا۔برے نس میں کئی چھوٹے دیہات ہیں۔ جن میں موڑین،موڑین دہ،اترش،بیگانان دہ،توردہ،لشٹ،جوگومی اورشاچار شامل ہیں۔برے نس کے بارے بعض تاریخی اورآثاراتی کوائف دلچسپ ہیں۔سرآرل سٹائین برے نس کے سامنے دریا کے پارپختوری دینی بوخت(پتھر)پرکندہ شدہ کتبے(Rock carving)کاتفصیل سے ذکر کرتے ہیں جس کاخلاصہ یہ ہے:”پریت گاؤں سے تین میل کے فاصلے پر(شمال کی طرف)دریاکے دائیں طرف جام شیلی کے بالمقابل ایک جگہ ہے جس کا نام پختوری دینی ہے۔یہ ایک بڑا پتھر ہے جوسڑک سے ذرا پرے واقع ہے۔اس پربراہمی سکرپٹ میں حروف درج ہیں۔اس میں ایک سٹوپہ(Stupa) کی شکل بھی ہے۔جومیں نے کاشغر اور ختن میں دیکھے تھے“۔
سٹائین ایک دوسرے سکالر ایم۔فاوچر(M.Foucher)کے حوالے سے لکھتے ہیں۔”پختوری دینے کے یہ نقوش ہندوکش کے شمال میں جگہ جگہ موجود نقوش سے بہت زیادہ مطابقت رکھتے ہیں۔اورہیوں سانگ(چینی سیاح)نے بلخ میں اس قسم کے سٹوپہ کا ذکر کیا ہے اور بتاتے ہیں کہ اس سٹوپہ کے ماڈل (نمونہ) کی نشاندہی گوتم بدھ نے خود کی تھی۔“سٹائین مزیدلکھتے ہیں کہ پختوری دینی کی یہ راک کارونگ(کتبہ) اور چرن پتھر کے نقوش یہ بتاتے ہیں کہ ہندوکش کے پرے علاقوں اورخاص طور بختر(Bactria)کی۔چترال کی سیاسی تاریخ پرکیااثرات رہے ہیں۔کندہ شدہ الفاظ کے بارے جوسنسکرت میں ہیں۔سٹائین بتاتے ہیں۔اسکے الفاظ یہ ہیں۔دیوادھرمویام راجہ جیواروامانا(mdevadharma’yam Rajajivermanah)۔اس کا ترجمہ یہ ہے کہ جیوارمان کی طرف سے دیوتاؤں کی بارگاہ میں ھدیہ“۔سٹائین یہ بھی بتاتے ہیں کہ یہ کتبے بدھ مت کے دور میں جوپرانے زمانے میں ان دوردورعلاقوں میں پھیلی ہوئی تھی۔اس وقت کے بادشاہوں نے جگہ جگہ اس قسم کے کتبے بنوائے تھے۔چرن کے پتھر کاکتبہ بھی معمولی فرق کے ساتھ اس کتبے کے بنانے والے نے بنایا تھا۔
سٹائین یہاں ایک غلط فہمی کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ کس طرح جان بڈلف نے کسی دوسرے کے کہنے پراپنی کتا ب ہندوکش کے قبائل میں ”جے ورمن“ کی جگہ”جے پال“ ذکر کیا تھا۔جس کی وجہ سے بعض مورخین نے غلطی سے جے ورمن کوجے پال ہندوبادشاہ سے ملادیا تھا اور اس علاقے میں ہندؤں کاتسلط ظاہرکیا ہے۔مندرجہ بالا کتنے(Rock carving) کے علاوہ برے نس میں نوغوران گری میں پُرانے قلعے کے کھنڈرات موجود ہیں اور دول دینی ٹک بھی پُرانے زمانے کی یادگار بتائی جاتی ہے جہاں جنگ کے موقع پر جنگ کے اطلاع کے لئے ڈھول بجایا جاتا تھا۔کلیران دہ ایک اور مقام ہے جوکہ قدیم زمانے میں میدان جنگ ہوتا تھا کہتے ہیں یہ جنگیں عموماًشمال میں کھوقبیلے اور کوہ کے لوگوں کے درمیان ہوتی تھی یہ بھی تصور کیا جاتا ہے کہ کلاش قبیلے کی حکومتیں برے نس تک پھیلی ہوئی تھی،اس ے اوپر اگرچہ کلاش لوگوں کی جگ جگہ آبادیاں رہی ہیں لیکن ان کی حکومت کی حدبندی عام طورپریہاں تک بتائی جاتی ہے۔یہاں کے مشہور قبیلوں میں خسراوے،سروالے،واکیلے،زوندرے،اخوانزادہ خیل اور عثمانے ہیں۔یہاں کاسب سے قدیم قبیلہ سروالے ہے ان کا دعویٰ ہے کہ ان کا جدامجد جسکا نام نجیب سرور تھا۔کابل سے رئیس دور میں یہاں آئے۔اخونزادہ کے مطابق یہ لوگ پنج شیر،ایران کے مختلف علاقوں،چارسدہ،سندھ اور گلگت میں بھی آباد ہیں اور صاحب منزلت ہونے کے ساتھ جائیدادوں کے مالک ہیں“۔
روایات کے مطابق نجیب سرور کی یہ اولاد جو سروالے کہلاتی ہے کابل سے آکے اس گاؤں کے ایک حصے کوپہلی دفعہ آبادکیا تھا۔اس کے دوبیٹے تھے۔محمد فرید الدین اور محمد خیرالدین۔ان کی اولاد 16پشتوں سے یہاں آباد ہے۔بتایا جاتا ہے کہ رئیس دور میں یہ خاندان کافی رسوخ کے مالک رہے۔بعدمیں کٹور دور میں اگرچہ ان پرنشیب وفراز آئے پھر عام طورپر ان کی پوزیشن برقراررہی۔شکورشاہ اس قوم میں اہم شخصیت گذرے ہیں ۔
ان کے بعد وکیلے قبیلہ نرسات(افغانستان) سے آکے یہاں کے ایک حصے میں آباد ہوا۔ان کے بعد خسراوے آئے۔بتایا جاتا ہے کہ اس قبیلے کاجدامجد جسکانام خسرو تھا۔باباایوب کے ساتھ خراسان سے چترال آئے تھے۔پھر اس نے یہاں برے نس کے ایک حصے کو جوغیرآباد تھا آباد کرکے رہنے لگے۔خسرو کے پانچ بیٹے تھے۔قزاق،بیگان،فولاد بیگ،بدور اور نظار۔ان کی اولاد اب دس بارہ پشت پرمبنی ہے۔اس قبیلے کی اصلیت کے بارے میں اخونزادہ نے یہ روایت بیان کی ہے کہ اس قوم کے اجداد ایران کے روساء تھے۔وازرتوں اور سفارتوں پرفائز تھے۔بارہیویں صدی میں جب شاہ ایران نے شعائیراسلام کی بےحرمتی شروع کی تواس قوم کے بزرگوں نے بادشاہ کی شدید مخالفت کی اور شاہ کے خلاف اعلان جہاد کیا۔نتیجہتاًشاہ ایران نے اس قوم کے بزرگوں کوان کے عہدوں سے معزول کیا اور قیدوبند کی اذیتیں دی۔ان حالات میں خسروخیل قوم کے بزرگوں نے ایران سے ہجرت کرکے بعض نے افغانستان کو اپنامسکن بنایا اور بعض چترال آکر سکونت پذیر ہوئے۔خسروخیل قوم کے جن بزرگوں نے افغانستان میں سکونت اختیار کی ان میں احمد شاہ مسعودکانام قابل ذکرہے۔خسروخیل قوم نے عہد کٹور یہ میں بھی اپنی انفرادیت اور امتیازی شان کوبرقرار رکھا۔اس قوم کے افراد عہد کٹور میں بلند مناصب مثلاً حاکم کوہ،حاکم ارندوودیگر سفارتی عہدوں پرفائز رہے۔
اس قوم کی ایک شخصیت خداداد خان بن عصر احمد خان کو سرشجاع الملک مرحوم کی رضاعت وتربیت کی زمہ داری سونپی گئ تھی ۔جوانہوں نے بہترین اندازمیں سرانجام دیا۔ اور اہم مقام پایا۔ ان کے بعد ان کی اولاد میں سے کئی اہم عہدوں پرتعین رہے۔
دیگر قبیلے داشیگے ورشگوم سے قریباً دس پشت پہلے، اخونزادہ خیل اویرسے10پشت پہلے،افغانے افغانستان سے 5پشت پہلے،عثمانے پریت سے10پشت پہلے اور زوندرے مستوج سے6پشت پہلے یہاں آکر بس گئے ہیں۔

(2) کوغوزی:

یہ دریاے چترال کے بائین کنارے پرقدیمی دیہات میں سے ایک اہم گاؤں ہے۔کوغوزی کوہ اور غوزی کامرکب ہے۔جسطرح سرغوز کے حوالے سے عرض کی گئی تھی۔غوز یاغوزی فارسی زبان میں کوزپشت یامنخی پشت یاکھبڑے کوکہتے ہیں۔سرغوز کی طرح کوغوزی کے قریب بھی دریا کی وادی مخنی شکل اختیار کرتی ہے۔غالباًًاسی وجہ سے فارسی والوں نے اس کانام غوزی رکھا ہوگا۔لیکن چونکہ دریاپار بلندی پہاڑ کے ساتھ برغوزی آباد ہے۔اسی لئے اس کانام برغوزی (یعنی اپرغوزی)پڑگیاہوگا۔اسی مناسبت اس گاؤں کانام کوغوذی (یعنی زیرین غوزی)رکھا گیاہوگا۔یہ تینوں نام کی ایک بڑی اچھی ترتیب بنتی ہے۔یعنی سرغوزیعنی سب پہلے آنے والی غوز،برغوز(یعنی بالاغوز)اورکوغوز۔
یاد رہے چترال میں فارسی سے متعلق جگہوں کے کئی نام موجود ہیں۔مثال کے طورپر کوغوذی کے نزدیک راغ ایک گاوں ہے۔جوفارسی نام ہے۔جسکا مطلب سبزہ زار بتایاجاتا ہے۔یہ بتایا جاتا ہے ہے کہ بدخشان میں بھی اسی نام کے دیہات موجود ہیں۔اس سے غوز کے بارے راقم کی قیاس آرائی کچھ بعید نہیں معلوم ہوتی ہے۔کوغوزی میں پانچ قبائل یعنی شیغنئے،دانشمندخیل،سروکیلے،کٹورے اورکلاشے آباد ہیں۔
برغوزی میں داشمنے خوشے اور شیغنے اصل قبیلے ہیں۔کلاشے کوغوزی کے قدیم قبیلے ہیں۔یہ کلاش دور سے یہاں آباد ہیں۔اندازہ لگایا جاتاہے۔کہ اس گاؤں کوسب سے پہلے انہوں نے آباد کیا ہوگا۔روایات کے مطابق یہ تمام علاقے کافی اوپرتک کے دیہات تک کلاش لوگوں سے آبادتھے۔مرکیلے قبیلہ کلاش کے بعد آ ئے اور یہاں کے کچھ حصوں کوآباد کرکے وہاں سکونت اختیار کی۔شغنیے تقریباًچھ سات سوپہلے بدخشان سے منتقل ہوکے چترال آئے تھے۔یہ یہاں کا نہایت اہم قبیلہ ہے۔یہ اُن قبیلوں میں سے ہے جو رئیس دور میں وسطی ایشیاء کے مختلف علاقوں سے چترال میں آکر آباد ہوئے۔مختلف زمانوں میں گردونواح کے علاقوں سے چترال منتقل ہونے والوں قبیلوں کومختلف گروہ میں تقسیم کرتے ہیں۔ایک گروہ وہ ہے۔جواپنے اصلی علاقوں میں رسوخ والے لوگ تھے لیکن مرور زمانے کے انقلابات کی وجہ سے ان کو وہاں سے چترال میں منتقل ہونا پڑا۔یہاں کے حکمرانوں نے ان کی سابقہ حیثیت کے پیش نظر ان کی پذیرائی کی۔اور وہ یہاں بھی بدستور اہم حیثیت کے مالک رہے۔دوسرا گروہ وہ ہیں جوان بااثر لوگوں کی معیت میں آئے تھے۔وہ ان کے ساتھ ملحق رہے۔اور پشتوں تک ان کے ساتھ تعلق نبھاتے رہے۔تیسرا گروہ وہ ہیں جو اپنے اصلی ٹھکانوں سے ذاتی حالات کی وجہ سے پناہ گزین ہوکے چترال آئے۔یہ لوگ یہاں آکر یاتوکسی رئیس کے ساتھ اپنے کونتھی کردیا اور پشتوں تک ان کے زیرسایہ رہے یا کسی طرح براہ راست حکمرانوں کی ملازمت میں آئے پھر یااپنی قابلیت کی وجہ سے اہم مقامات کے مالک رہے یامعمولی حیثیت سے شاہی ملازمتوں سے متعلق رہے۔شغنیے قوم کا بھی روایات کی مطابق اصلی وطن شغنان(بدخشان) تھا۔یہ رئیس دور میں اپنے قدیمی علاقے سیاسی افراتفری کی وجہ سے پناہ حاصل کرنے کے لئے چترال آئے اور یہیں کے ہورہے۔رئیس بادشاہ نے ان کے اہم پس منظر کے پیش نظر ان کو اہم حیثیت دی۔بعد میں کٹور حکمرانوں کے دور میں بھی یہ اہم پوزیشن کے مالک رہے۔اور ریاست میں ان میں کئی حضرات اہم عہدوں پرفایز ہوتے رہے ہیں۔اور حال کے زمانوں میں اس قبیلے کاایک قابل فرزند حکومت پاکستان کے سول سروس میں منتخب ہوکر اعلےٰ ملازمت میں شامل رہے۔اس خاندان میں چترال ایک حکمران سیف الرحمان کی رضاعت بھی ہوی تھی۔
یہ قبیلہ روایات کے مطابق چھ سوسال پہلے چترال میں وارد ہواتھا۔
اس گاؤں میں کٹورے اور داشمنے قبیلے کے لوگ بھی آباد ہیں جوگذشتہ دوسوسالوں کے دوران چترال کے دوسرے حصوں سے یہاں آکرآباد ہوئے ہیں۔ داشمنے قبیلے سے تعلق رکھنے والے استاد عبد المنان مرحوم بھی قابل ذکر شخصیت گذرے ہیں۔ جو چترال کے ہای سکول کے اولیں اساتذہ کرام میں سے رہے ہیں جنہوں نے اس سکول کو مظبوط بنیادوں پر استوار کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔کوغوزی کے گردونواح کے بعض دیہات مثلاً برغوزی میں داشمنے،خوشے اور شیغنے آباد ہیں۔توری اور موڑی موری میں کٹورے،سنگالے،ژیگنے،داشمنے،سلطان خیل،ہھوکے،ماڑے،خوشال بیگے،نیازے،شاہ نوئے آباد ہیں۔
کوغوزی سے آگے راغ اور کاری (دریا کے بائیں طرف) اور پریت اور کوجو (دریا کے بائیں طرف) گاؤں ہیں۔اسکے بعد کاربیٹڑی کی تنگ گذرگاہ۔اسکے بعد دنین گاؤں آجاتاہے۔یہاں سے چترال ٹاون کاایریا شروع ہوجاتا ہے۔
(آئیندہ قسط میں چترال ٹاون پر بات کرینگے انشاء اللہ)

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔