
چترال پولیس اور شاہی خاندان کے مابین تنازعہ خوش اسلوبی سے حل، نوجوان رہا
چترال (چترال ایکسپریس) گزشتہ دنوں چترال پولیس کی اہلکار بلاول احمد اور شاہی خاندان کے نوجوانوں کے مابین غلط فہمی کی بنیاد پر ہونے والا جھگڑا پولیس افسران اور خاندان کے عمائدین کی مداخلت سے صلح صفائی کے بعد ختم ہو گیا ہے۔ مقدمہ خارج ہونے کے بعد گرفتار نوجوانوں کو رہا کر دیا گیا ہے۔
واقعے کے بعد شاہی خاندان کے بڑوں اور پولیس انتظامیہ کے درمیان روابط کا سلسلہ شروع ہوا، جس کے نتیجے میں ڈی پی او چترال رفعت اللہ خان، ایس ڈی پی او سجاد احمد، ایس پی انوسٹی گیشن اقبال کریم، پی ڈی ایس پی محسن الملک اور ایس ایچ او تھانہ چترال نے مثبت اور مفاہمانہ کردار ادا کیا۔ ان افسران کی کوششوں سے فریقین کے مابین راضی نامہ طے پایا، جس کے بعد پولیس نے قانونی کارروائی ختم کرتے ہوئے نوجوانوں کو رہا کر دیا۔
شاہی خاندان کے عمائدین شہزادہ فہام عزیز، شہزادہ تنویر الملک، شہزادہ مبشر الملک، کرنل شہزادہ شریف الدین اور شہزادہ ہشام الملک نے ایک مشترکہ بیان میں ڈی پی او چترال اور دیگر پولیس افسران کے تعمیری رویے کو سراہتے ہوئے انہیں خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔
خاندان کی جانب سے کہا گیا ہے کہ:
”ہم ڈی پی او چترال اور ان کی ٹیم کے مشکور ہیں جنہوں نے معاملے کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے اسے خوش اسلوبی سے حل کیا۔ ہم ان تمام دوست احباب کے بھی تہہ دل سے ممنون ہیں جو اس مشکل گھڑی میں ہمارے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے رہے اور اس کارِ خیر میں اپنا حصہ ڈالا۔”
اہلِ خاندان نے امید ظاہر کی ہے کہ ایسے مفاہمانہ اقدامات سے علاقے میں پولیس اور عوام کے درمیان اعتماد کا رشتہ مزید مضبوط ہوگا۔واضح رہے کہ تنازعہ پہاڑ سے پتھر اٹھابے پر ہوا تھا۔
