
چیوڈک بیرموغ لشت روڈ منصوبہ تعطل کا شکار، عوام کا 10 دن میں کام شروع نہ ہونے پر احتجاج کا اعلان
چترال (چترال ایکسپریس) چیوڈک بیرموغ لشت روڈ کی تعمیر میں طویل تاخیر کے خلاف علاقہ مکینوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ اہلیانِ چیوڈک نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ دو کلومیٹر طویل اس اہم سڑک منصوبے پر فوری طور پر عملی کام شروع کیا جائے تاکہ عوام کو درپیش مشکلات کا خاتمہ ممکن بنایا جا سکے۔
مقامی عمائدین کے مطابق مذکورہ سڑک کا افتتاح تقریباً ایک سال قبل رکنِ صوبائی اسمبلی مہتر فاتح الملک علی ناصر نے کیا تھا،
تاہم آج تک سڑک پر ریزگاری تک نہیں بچھائی گئی اور منصوبہ عملی طور پر تعطل کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ اصولی طور پر کسی منصوبے کا افتتاح اس وقت کیا جاتا ہے جب کام تکمیل کے مراحل میں ہو، لیکن اس منصوبے میں صورتحال اس کے برعکس دکھائی دیتی ہے۔
اہلیانِ علاقہ کے مطابق اس حوالے سے ایک وفد نے ایکسن سی اینڈ ڈبلیو اور ایم پی اے سے ملاقاتیں بھی کیں، مگر تقریباً ایک کروڑ دس لاکھ روپے وصول کیے جانے کے باوجود ٹھیکیدار کی جانب سے خاطر خواہ پیش رفت نہیں کی گئی۔ چند مقامات پر پشتے تعمیر کیے گئے ہیں جبکہ باقی کام تاحال رکا ہوا ہے۔ ذرائع کے مطابق ٹھیکیدار کا مؤقف ہے کہ مزید فنڈز کے اجرا کے بعد ہی باقی ماندہ کام مکمل کیا جائے گا۔
علاقہ مکینوں نے مہتر فاتح الملک علی ناصر، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ٹھیکیدار کو فوری طور پر کام شروع کرنے کا پابند بنایا جائے، رکے ہوئے فنڈز جلد جاری کیے جائیں اور عوامی مشکلات کا فوری ازالہ کیا جائے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر آئندہ دس دنوں کے اندر سڑک پر باقاعدہ کام شروع نہ کیا گیا تو اہلیانِ چیوڈک اپنے آئینی حق کے تحت بائی پاس روڈ بند کرکے احتجاج کرنے پر مجبور ہوں گے، جس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ اداروں پر عائد ہوگی۔
