
زندگی اخروٹ اور چلغوزے سے کہیں زیادہ قیمتی ہے!..صلاح الدین صالح
چترال میں ستمبر کا موسم آتے ہی اخروٹ اور چلغوزہ اتارنے کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ یہ ہماری معیشت، ہماری روایت اور ہماری زندگی کا ایک اہم حصہ ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ایک تلخ حقیقت بھی ہر سال ہمارے سامنے آتی ہے۔
اخروٹ کے درخت بڑے، اونچے اور بعض اوقات انتہائی پھسلن والے ہوتے ہیں، جبکہ چلغوزے کے درخت تو کئی گنا زیادہ بلند ہوتے ہیں اور ان پر چڑھنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہر سال چترال کے کسی نہ کسی علاقے سے اخروٹ یا چلغوزہ اتارتے ہوئے گرنے کے واقعات سامنے آتے ہیں۔ بعض حادثات میں لوگ شدید زخمی ہوتے ہیں اور بعض میں قیمتی جانیں بھی چلی جاتی ہیں۔
یہ محض ایک خبر نہیں ہوتی؛ کسی کا بیٹا، کسی کا بھائی، کسی کا باپ اور کسی کا دوست ہمیشہ کے لیے ہم سے جدا ہو جاتا ہے۔
میرے اپنے ایک نہایت عزیز دوست کی جان بھی اخروٹ کے درخت سے گرنے کے باعث چلی گئی۔ گزشتہ سال ایک نوجوان، جس نے میٹرک کا امتحان اچھے نمبروں سے پاس کیا تھا اور ابھی کالج میں داخل ہوا تھا، اخروٹ اتارتے ہوئے جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔
اور اس سال ایون کے علاقے میں چلغوزہ اتارتے ہوئے ایک نوجوان درخت سے گر کر انتہائی شدید زخمی ہوا۔ خوش قسمتی سے اسے علاج کی مطلوبہ سہولتیں میسر ہوئیں، علاج کے لیے خصوصی طور پر منتقل کیا گیا۔ بتایا گیا کہ اس کے جسم میں متعدد پیچیدہ چوٹیں آئیں اور کئی آپریشنز کی ضرورت پڑی۔ آج بھی وہ زندگی اور موت کی کشمکش میں ہے۔
آخر ہم اپنی زندگیوں کے ساتھ یہ خطرہ کیوں مول لیتے ہیں؟
دنیا کے ترقی یافتہ معاشروں میں انسانی جان کی حفاظت کو سب سے زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔ خطرناک کام کے لیے حفاظتی اصول، تربیت اور حفاظتی سامان لازمی سمجھا جاتا ہے۔
الحمدللہ، آج ہمارے پاس وہ وسائل بھی موجود ہیں۔ چترال کے بازاروں میں Safety Harness / Safety Belt دستیاب ہیں، جنہیں اخروٹ یا چلغوزے کے درخت پر چڑھتے وقت استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اسے مضبوطی سے درخت کے ساتھ محفوظ کر لیا جائے تو خدانخواستہ پاؤں پھسلنے یا توازن بگڑنے کی صورت میں انسان کے زمین پر گرنے کا خطرہ بہت کم ہو سکتا ہے۔
ایک اخروٹ کے لیے اپنی جان خطرے میں نہ ڈالیں۔
ایک چلغوزے کے لیے اپنے خاندان کو زندگی بھر کے دکھ میں نہ ڈالیں۔
درخت دوبارہ پھل دے سکتا ہے، فصل دوبارہ آ سکتی ہے، نقصان دوبارہ پورا ہو سکتا ہے۔
لیکن انسان کی زندگی واپس نہیں آتی۔
میری گزارش ہے کہ اخروٹ اور چلغوزہ اتارنے والے تمام بھائی حفاظتی بیلٹ/ہارنیس کا استعمال کریں، تربیت یافتہ اور تجربہ کار افراد کو یہ کام دیں، اور والدین اپنے بچوں اور نوجوانوں کو ایسے خطرناک کاموں سے روکیں۔
احتیاط کمزوری نہیں، عقل مندی ہے۔
زندگی اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے—اسے ایک درخت کے پھل سے زیادہ قیمتی سمجھیں۔
