
چترال مائن اونرز ایسوسی ایشن کی کاوشیں رنگ لے آئیں، ورکنگ این او سی اور منرل ٹرانسپورٹیشن میں اہم آسانیاں
چترال مائن اونرز کے لیے ورکنگ این او سی اور منرل ٹرانسپورٹیشن میں آسانیاںچترال (چترال ایکسپریس) چترال مائن اونرز ایسوسی ایشن کی مسلسل کاوشوں کے نتیجے میں ڈسٹرکٹ انٹیلی جنس کوآرڈینیشن کمیٹی (DICC) کے اجلاس کے منٹس موصول ہوگئے ہیں، جن میں مائن اونرز کے لیے ورکنگ این او سی اور منرل ٹرانسپورٹیشن کے حوالے سے اہم
فیصلے کیے گئے ہیں۔
DICC اجلاس کے منٹس موصول ہونے کے بعد چترال مائن اونرز ایسوسی ایشن کے صدر اشفاق علی خان اور انفارمیشن سیکریٹری حسین شاہ نے ڈپٹی کمشنر لوئر چترال سے ملاقات کی۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر نے مائن اونرز کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے انہیں بلا خوف و خطر اپنا کام جاری رکھنے کی اجازت دی، جبکہ گرین مائننگ کی بھی باقاعدہ اجازت دے دی گئی۔
اجلاس میں ورکنگ این او سی کے طریقہ کار میں بھی اہم آسانیاں پیدا کی گئی ہیں۔
ایسوسی ایشن کے صدر اشفاق علی خان کی تجویز پر ہر مزدور کے لیے الگ الگ پولیس کلیئرنس سرٹیفکیٹ کی شرط ختم کردی گئی ہے۔ اب پولیس ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے ایک خصوصی پروفارمہ فراہم کیا جائے گا، جس میں تمام مزدوروں کے کوائف درج کرکے جمع کرائے جائیں گے۔
سیٹلڈ ایریاز میں ورکنگ این او سی کے حصول کے لیے پراسپیکٹنگ لائسنس یا لیز ورک آرڈر، لائسنس یا لیز ہولڈر کا حلف نامہ، فیملی ٹری اور پولیس ڈیپارٹمنٹ کا فراہم کردہ مکمل کوائف پروفارمہ درکار ہوگا۔ مذکورہ دستاویزات ڈپٹی کمشنر آفس میں جمع کرانے کے بعد مائن اونرز اپنے علاقوں میں کام جاری رکھ سکیں گے۔
دریں اثنا منرل ٹرانسپورٹیشن کے لیے مائننگ ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے باقاعدہ پروفارمہ تیار کیا جارہا ہے، جس کی ایک کاپی ڈپٹی کمشنر آفس جبکہ دوسری لواری ٹنل پر جمع کرائی جائے گی۔ ایسوسی ایشن کے مطابق اسسٹنٹ ڈائریکٹر کی عدم موجودگی کے باعث اس عمل میں معمولی تاخیر ہوئی ہے، تاہم ان کی آمد کے بعد پروفارمہ مکمل کرکے منرل ٹرانسپورٹیشن کا عمل شروع کردیا جائے گا۔
چترال مائن اونرز ایسوسی ایشن کے ترجمان نے کہا کہ مذکورہ پیش رفت صدر اشفاق علی خان کی مسلسل جدوجہد، اعلیٰ حکام سے مؤثر رابطوں اور مائن اونرز کے مسائل کے حل کے لیے کی جانے والی کوششوں کا نتیجہ ہے۔
ایسوسی ایشن نے ڈپٹی کمشنر لوئر چترال، کمانڈنٹ چترال سکاؤٹس، DICC کے اراکین اور بالخصوص سیکیورٹی اداروں کے ذمہ داران کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے مائن اونرز کے مسائل کو ہمدردی سے سنا اور ان کے حل کے لیے عملی تعاون فراہم کیا۔
