تازہ ترین

*سوشل میڈیا: نعمت بھی، آزمائش بھی*۔۔تحریر: ابوسلمان محمدقاسم 

آج کا دور سوشل میڈیا کا دور ہے۔ دنیا کی کوئی خبر، کوئی تصویر، کوئی واقعہ یا کوئی خیال چند لمحوں میں ایک براعظم سے دوسرے براعظم تک پہنچ جاتا ہے۔ موبائل فون ہماری جیب میں موجود ایک ایسی کھڑکی بن چکا ہے جس سے ہم پوری دنیا کا مشاہدہ کر سکتے ہیں۔ فیس بک، واٹس ایپ، یوٹیوب، ٹک ٹاک اور دیگر سماجی ذرائع ابلاغ نے فاصلے سمیٹ دیے ہیں، معلومات کے دروازے کھول دیے ہیں اور اظہارِ خیال کو عام آدمی تک پہنچا دیا ہے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ کیا سوشل میڈیا بذاتِ خود اچھا ہے یا برا؟

حقیقت یہ ہے کہ سوشل میڈیا ایک ذریعہ ہے، اور کسی بھی ذریعے کی اچھائی یا برائی اس کے استعمال سے متعین ہوتی ہے۔ چاقو ڈاکٹر کے ہاتھ میں ہو تو زندگی بچانے کا ذریعہ بن سکتا ہے اور مجرم کے ہاتھ میں ہو تو نقصان پہنچانے کا وسیلہ۔ اسی طرح سوشل میڈیا علم، اصلاح اور خیر کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے اور جھوٹ، غیبت، کردارکشی اور فساد کا دروازہ بھی۔

*سوشل میڈیا کی اہمیت*

سوشل میڈیا نے رابطے کے نظام میں ایک عظیم انقلاب برپا کیا ہے۔ آج ایک طالب علم گھر بیٹھے دنیا کے بہترین اساتذہ کے لیکچر سن سکتا ہے، ایک استاد تعلیمی مواد ہزاروں طلبہ تک پہنچا سکتا ہے، ایک تاجر اپنی مصنوعات دنیا بھر میں متعارف کرا سکتا ہے، ایک ادارہ اپنی سرگرمیوں سے عوام کو آگاہ کر سکتا ہے اور ایک ضرورت مند شخص اپنی آواز چند لمحوں میں ہزاروں لوگوں تک پہنچا سکتا ہے۔

قدرتی آفات، حادثات یا کسی ہنگامی صورتِ حال میں بھی سوشل میڈیا فوری اطلاع اور امداد کی فراہمی کا مؤثر ذریعہ بن سکتا ہے۔ اسی طرح دینی تعلیم، قرآن و حدیث، سیرتِ نبوی ﷺ، علمی گفتگو اور اصلاحی پیغامات کو عام کرنے کے لیے بھی یہ ایک وسیع میدان فراہم کرتا ہے۔

گویا سوشل میڈیا ایک وسیع منبر ہے؛ اب یہ ہم پر منحصر ہے کہ اس منبر سے خیر کی آواز بلند کرتے ہیں یا شر کی۔

سوشل میڈیا کا مثبت استعمال

سوشل میڈیا کے مثبت استعمال کی سب سے بڑی مثال علم اور آگہی کا فروغ ہے۔ قرآنِ کریم کا پہلا پیغام ہی علم سے وابستہ ہے:

“اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ”

یعنی: “پڑھیے اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا۔”

(سورۃ العلق: 1)

اگر سوشل میڈیا کے ذریعے قرآنِ کریم کا پیغام، احادیثِ نبوی ﷺ، تعلیمی لیکچرز، تحقیقی مضامین، مفید کتابیں اور مثبت خیالات لوگوں تک پہنچائے جائیں تو یہ ایک عظیم خدمت بن سکتی ہے۔

اسی طرح کسی بیمار کے علاج کے لیے خون کی ضرورت ہو، کسی غریب خاندان کو مالی مدد درکار ہو، کسی طالب علم کو تعلیمی معاونت چاہیے ہو یا کسی مصیبت زدہ شخص کی مدد مطلوب ہو، تو سوشل میڈیا کے ذریعے چند لمحوں میں لوگوں کو متحرک کیا جا سکتا ہے۔

ایک استاد اپنے طلبہ کو تعلیمی مواد فراہم کر سکتا ہے۔ ایک نوجوان اپنی صلاحیت اور ہنر دنیا کے سامنے پیش کر سکتا ہے۔ ایک عالمِ دین قرآن و سنت کی تعلیمات عام کر سکتا ہے۔ ایک سماجی کارکن معاشرتی برائیوں کے خلاف شعور پیدا کر سکتا ہے۔

یہ سب سوشل میڈیا کے روشن اور مثبت پہلو ہیں۔

مگر دوسرا رخ بھی ہے

جس دروازے سے روشنی داخل ہوتی ہے، اگر احتیاط نہ کی جائے تو اسی دروازے سے اندھیرا بھی گھر میں داخل ہو سکتا ہے۔

سوشل میڈیا کا سب سے خطرناک غلط استعمال جھوٹی خبر اور غیر مصدقہ معلومات پھیلانا ہے۔ قرآنِ کریم ہمیں واضح اصول عطا کرتا ہے:

“فَتَبَيَّنُوا”

یعنی: “تحقیق کر لیا کرو۔”

(سورۃ الحجرات: 6)

آج ہم اکثر کسی خبر کی حقیقت جاننے کے بغیر اسے آگے بڑھا دیتے ہیں۔ ایک جھوٹی پوسٹ، ایک جعلی تصویر یا ایک بے بنیاد الزام چند منٹوں میں ہزاروں افراد تک پہنچ سکتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ کسی بے گناہ کی عزت مجروح ہو سکتی ہے، خاندانوں میں اختلاف پیدا ہو سکتا ہے اور معاشرے میں بے چینی جنم لے سکتی ہے۔

غیبت، بہتان اور کردارکشی

سوشل میڈیا کا ایک انتہائی خطرناک پہلو غیبت، بہتان اور کردارکشی ہے۔ بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ کسی شخص کے بارے میں موبائل پر لکھ دینا یا کسی ویڈیو میں اس کا مذاق اڑانا معمولی بات ہے، حالانکہ اسلام نے انسان کی عزت و آبرو کو نہایت اہم قرار دیا ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

“وَلَا يَغْتَبْ بَعْضُكُمْ بَعْضًا”

یعنی: “اور تم میں سے کوئی کسی کی غیبت نہ کرے۔”

(سورۃ الحجرات: 12)

آج غیبت صرف محفلوں تک محدود نہیں رہی؛ ایک پوسٹ، ایک کمنٹ، ایک وائس میسج یا ایک ویڈیو بھی غیبت اور کردارکشی کا ذریعہ بن سکتی ہے۔

کسی شخص کی ذاتی تصویر بغیر اجازت پھیلانا، کسی کی عزت کو نشانہ بنانا، کسی کے خاندان کے بارے میں نازیبا گفتگو کرنا، جھوٹا الزام لگانا یا کسی کی کمزوری کو عوامی مذاق بنا دینا محض “سوشل میڈیا کی سرگرمی” نہیں بلکہ اخلاقی اور دینی ذمہ داری کا مسئلہ ہے۔

ہر بات آگے پہنچانا عقل مندی نہیں

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

“كَفَى بِالْمَرْءِ كَذِبًا أَنْ يُحَدِّثَ بِكُلِّ مَا سَمِعَ”

یعنی انسان کے جھوٹا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی ہوئی بات آگے بیان کرتا پھرے۔

(صحیح مسلم، مقدمہ)

یہ حدیث آج کے سوشل میڈیا کے دور میں غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ ہمیں ہر فارورڈ میسج، ہر ویڈیو اور ہر خبر کو فوراً شیئر کرنے کے بجائے یہ سوچنا چاہیے کہ کیا یہ درست ہے؟ کیا یہ مفید ہے؟ کیا اسے پھیلانے سے کسی کی دل آزاری تو نہیں ہوگی؟ کیا اس کے نتیجے میں کسی کو نقصان تو نہیں پہنچے گا؟

وقت کا ضیاع بھی ایک نقصان ہے

سوشل میڈیا کا ایک بڑا نقصان وقت کا بے دریغ ضیاع ہے۔ انسان چند منٹ کے لیے موبائل اٹھاتا ہے اور کبھی کبھی گھنٹوں اسکرولنگ میں گزر جاتے ہیں۔ نتیجتاً مطالعہ، عبادت، تعلیم، خاندان، صحت اور حقیقی زندگی کے تعلقات متاثر ہونے لگتے ہیں۔

وقت دراصل زندگی ہی کا دوسرا نام ہے۔ جو شخص اپنا وقت بے مقصد سرگرمیوں میں ضائع کرتا ہے، وہ اپنی زندگی کا ایک حصہ ضائع کرتا ہے۔

اسی لیے سوشل میڈیا کو استعمال کرنا چاہیے، سوشل میڈیا کو اپنی زندگی استعمال نہیں کرنی چاہیے۔

*سوشل میڈیا کے غلط استعمال کی چند مثالیں*

غلط استعمال کی صورتیں ہمارے اردگرد عام ہیں:

تصدیق کے بغیر افواہ یا خبر شیئر کرنا۔

کسی کی ذاتی تصویر یا ویڈیو اس کی اجازت کے بغیر پھیلانا۔

جھوٹے الزامات اور بہتان تراشی کرنا۔

سیاسی، مذہبی یا سماجی اختلاف کو گالم گلوچ میں تبدیل کرنا۔

کسی فرد یا خاندان کی عزت کو مجروح کرنا۔

جعلی اکاؤنٹس بنا کر لوگوں کو دھوکا دینا۔

فحش اور غیر اخلاقی مواد پھیلانا۔

دوسروں کی کامیابی سے حسد کرتے ہوئے منفی تبصرے کرنا۔

حادثات یا لوگوں کی مجبوریوں کو تماشہ بنا کر ویڈیوز بنانا۔

بچوں اور نوجوانوں کو نامناسب مواد کی طرف دھکیلنا۔

ہر وقت موبائل میں مصروف رہ کر والدین، اولاد اور اہلِ خانہ کے حقوق نظر انداز کرنا۔

یہ سب رویے اس بات کی علامت ہیں کہ ہم نے ایک مفید ذریعے کو اپنی اخلاقی کمزوریوں کا میدان بنا دیا ہے۔

سوشل میڈیا پر ہماری ہر بات محفوظ ہو رہی ہے

انسان کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ سوشل میڈیا پر لکھی ہوئی بات صرف موبائل کی اسکرین تک محدود نہیں رہتی۔ ایک بار تصویر، ویڈیو یا تحریر نشر ہو جائے تو اس کا پھیلاؤ ہمارے اختیار سے باہر ہو سکتا ہے۔

قرآنِ کریم فرماتا ہے:

“مَا يَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ إِلَّا لَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ”

یعنی: “انسان کوئی بات زبان سے نہیں نکالتا مگر اس کے پاس ایک نگران موجود ہوتا ہے۔”

(سورۃ ق: 18)

اگر زبان سے نکلا ہوا لفظ جواب دہی کا سبب بن سکتا ہے تو انگلیوں سے ٹائپ کیا ہوا لفظ بھی اخلاقی ذمہ داری سے آزاد نہیں۔

*سوشل میڈیا استعمال کرنے کا اسلامی اصول*

ہمیں سوشل میڈیا کے استعمال کے لیے ایک سادہ سا اصول یاد رکھنا چاہیے:

جو بات زبان سے کسی کے سامنے کہتے ہوئے شرمندگی محسوس ہو، اسے سوشل میڈیا پر بھی نہیں لکھنا چاہیے۔

جو تصویر گھر کے بزرگوں، بچوں یا اہلِ خانہ کے سامنے دکھانے میں جھجک محسوس ہو، اسے دنیا کے سامنے پیش کرنے سے پہلے ہزار بار سوچنا چاہیے۔

جو خبر تحقیق کے بغیر کسی کے گھر میں بتانا مناسب نہیں سمجھتے، اسے ہزاروں لوگوں تک پہنچانا کیسے درست ہو سکتا ہے؟

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

“وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا”

یعنی: “اور درست، سیدھی اور درست بات کہا کرو۔”

(سورۃ الاحزاب: 70)

یہ آیت ہماری گفتگو کے ساتھ ساتھ ہماری سوشل میڈیا تحریروں کے لیے بھی ایک بہترین اصول فراہم کرتی ہے۔

*چترال جیسے معاشرے میں ذمہ داری*

ہمارا معاشرہ اپنی سادگی، روایتی اقدار، باہمی احترام اور خوبصورت ثقافت کے حوالے سے پہچانا جاتا ہے۔ ایسے معاشرے میں سوشل میڈیا کا ذمہ دارانہ استعمال اور بھی اہم ہو جاتا ہے۔

کسی مقامی شخص، خاندان، ادارے یا علاقے کے بارے میں غیر مصدقہ خبر پھیلانا پورے معاشرے میں غلط فہمی پیدا کر سکتا ہے۔ ایک معمولی واقعے کو سنسنی خیز انداز میں پیش کرنا پورے علاقے کی ساکھ متاثر کر سکتا ہے۔

اس لیے ہمیں اپنے علاقے کے مثبت پہلو، قدرتی حسن، تعلیمی سرگرمیاں، ثقافتی روایات، ہنر، کامیابیاں اور خیر کے کام دنیا کے سامنے پیش کرنے چاہییں۔ اختلاف ہو تو دلیل سے بات کی جائے، تنقید ہو تو اصلاح کی نیت سے ہو، اور اختلافِ رائے کو دشمنی میں تبدیل نہ کیا جائے۔

آخر میں فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے

سوشل میڈیا نہ فرشتہ ہے نہ شیطان۔ یہ ایک ذریعہ ہے، ایک طاقت ہے، ایک امانت ہے۔ اس کا استعمال اسے نعمت بھی بنا سکتا ہے اور زحمت بھی۔

اگر ہم اسے علم کے لیے استعمال کریں تو یہ علم کا چراغ ہے۔

اگر اسے خدمت کے لیے استعمال کریں تو یہ انسانیت کی مدد کا ذریعہ ہے۔

اگر اسے اصلاح کے لیے استعمال کریں تو یہ معاشرے کی تعمیر کا وسیلہ ہے۔

لیکن اگر اسے جھوٹ، غیبت، بہتان، فحاشی، نفرت اور کردارکشی کے لیے استعمال کریں تو یہی ذریعہ معاشرتی بگاڑ کا سبب بن سکتا ہے۔

اس لیے ہر پوسٹ سے پہلے ایک لمحے کے لیے رک جائیں اور خود سے چار سوال کریں:

کیا یہ بات سچ ہے؟

کیا یہ بات ضروری ہے؟

کیا اس سے کسی کو فائدہ ہوگا؟

اور اگر یہ بات میرے بارے میں لکھی جاتی تو کیا مجھے پسند آتی؟

اگر ہم نے ان سوالات کو اپنی سوشل میڈیا زندگی کا اصول بنا لیا تو ہماری انگلیاں صرف موبائل کی اسکرین نہیں چھوئیں گی بلکہ معاشرے کی تعمیر میں بھی اپنا حصہ ڈالیں گی۔

*یاد رکھیے*!

سوشل میڈیا پر ہماری پوسٹ صرف ایک پوسٹ نہیں؛ یہ ہمارے کردار، ہماری تربیت، ہماری سوچ اور ہماری ذمہ داری کا آئینہ بھی ہے۔

لہٰذا سوشل میڈیا استعمال ضرور کریں، مگر شعور کے ساتھ؛

اظہار ضرور کریں، مگر اخلاق کے ساتھ؛

تنقید ضرور کریں، مگر دلیل کے ساتھ؛

خبر ضرور پھیلائیں، مگر تحقیق کے ساتھ؛

اور اپنی آواز ضرور بلند کریں، مگر اس انداز میں کہ ہماری آواز سے معاشرہ روشن ہو، مجروح نہیں۔

کیونکہ ایک ذمہ دار صارف صرف سوشل میڈیا استعمال نہیں کرتا،

وہ اپنے الفاظ سے معاشرہ بناتا ہے۔

زر الذهاب إلى الأعلى
Ads Blocker Image Powered by Code Help Pro

Ads Blocker Detected!!!

We have detected that you are using extensions to block ads. Please support us by disabling these ads blocker.

Powered By
Best Wordpress Adblock Detecting Plugin | CHP Adblock

اشتہارات بند کیوں ہیں؟۔

براہِ کرم ہمارے پلیٹ فارم کو سپورٹ کرنے کے لیے اشتہارات کو روکنے والی ایپ بند کر دیں۔ آپ کی معاونت ہمارے لیے اہم ہے۔