
پاکستان پوسٹ کی جانب سے چترال کی تین اہم شاخیں بند، ہزاروں شہری مواصلاتی سہولیات سے محروم
چترال (چترال ایکسپریس): پاکستان پوسٹ نے چترال میں اپنے چھ دہائیوں پر محیط دیرینہ خدمات کے تسلسل کو شدید متاثر کرتے ہوئے دور دراز اور سرحدی دیہات میں واقع اپنی تین اہم شاخیں مستقل طور پر بند کر دی ہیں۔ اس فیصلے کے نتیجے میں ہزاروں مقامی رہائشی خطوط اور پارسل کی بنیادی خدمات سے محروم ہو کر شدید مشکلات کا شکار ہو گئے ہیں۔
بند کی جانے والی شاخوں میں لوئر چترال کے علاقے عشریت اور ایون، جبکہ اپر چترال کا علاقہ بریپ شامل ہیں۔ یہ مراکز دشوار گزار وادی بروغل سمیت پاک افغان سرحدی خطوں کے لیے مواصلات کا واحد ذریعہ تصور کیے جاتے تھے۔
چترال جنرل پوسٹ آفس (GPO) کے سینئر پوسٹ ماسٹر مجیب الرحمن نے خبر کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ یہ اقدام گزشتہ کئی سالوں سے ہونے والے مسلسل مالیاتی خسارے اور اخراجات کے مقابلے میں آمدنی انتہائی کم ہونے کی وجہ سے اٹھایا گیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ متاثرہ علاقوں کی خدمات کو سروس کے تسلسل کے لیے قریبی فعال ڈاک خانوں میں ضم کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب مقامی رہائشیوں اور کمیونٹی رہنماؤں نے اس اقدام کو یکسر مسترد کرتے ہوئے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ یارخون سے ضلع کونسل کے سابق رکن محمد وزیر خان نے بریپ شاخ کی بندش کو اپر و لوئر یارخون اور وادی بروغل کے لیے تباہ کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ “بریپ پوسٹ آفس کی بندش کے بعد اب قریب ترین فعال شاخ مستوج میں ہے جو بروغل سے تقریباً 150 کلومیٹر دور ہے۔ ان کچے راستوں اور طویل فاصلوں کے باعث باقاعدہ ڈاک سروس کی فراہمی ناممکن ہو کر رہ جائے گی۔”
بریپ پوسٹ آفس کے سامنے یارخون کے عوام اور مقامی رہنماؤں نے احتجاج کرتے ہوئے نشاندہی کی کہ:
تعلیم یافتہ نوجوان: نوکریوں کے ٹیسٹ اور انٹرویو کالز پاکستان پوسٹ کے ذریعے موصول ہوتے ہیں، سروس کی عدم دستیابی سے نوجوان روزگار کے مواقعوں سے محروم ہو سکتے ہیں۔
علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی (AIOU) کے سینکڑوں طلبہ نصابی کتب، اسائنمنٹس اور امتحانی شیڈول کی فراہمی کے لیے مکمل طور پر انہی دفاتر پر منحصر ہیں۔
ایون پوسٹ آفس مشہور کالاش وادیوں (بمبوریت، بریر، رمبور) کو پوسٹل سروسز فراہم کرتا ہے، جہاں ہر سال ہزاروں غیر ملکی سیاح آتے ہیں۔ اس شاخ کی بندش سے علاقائی سیاحت اور بین الاقوامی رابطے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
چترال کے عوامی و سماجی حلقوں نے وزیر اعظم پاکستان اور وفاقی وزیر مواصلات سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ دور افتادہ سرحدی خطوں میں عوامی سروس کو تجارتی منافع سے بالاتر رکھ کر ان تینوں شاخوں کو فوری طور پر بحال کیا جائے۔
