تازہ ترینمضامین

توانائی بچت یا وقتی دکھاوا؟..تحریر: بشیر حسین آزاد

خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے توانائی بحران پر قابو پانے کے لیے حالیہ اقدامات بظاہر نہایت اہم اور بروقت محسوس ہوتے ہیں۔ مارکیٹس، ریسٹورنٹس اور شادی ہالز کے اوقات کار محدود کرنا، غیر ضروری لائٹنگ پر پابندی لگانا اور کاروباری سرگرمیوں کو مخصوص اوقات تک سمیٹنا یقیناً ایک سنجیدہ حکمت عملی کا حصہ ہو سکتا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ فیصلے واقعی اپنے مقاصد حاصل کر سکیں گے یا ماضی کی طرح یہ بھی محض اعلانات تک محدود رہ جائیں گے؟
حکومتی فیصلوں کے مطابق ڈویژنل ہیڈکوارٹرز میں تمام بازار، شاپنگ پلازے، کمرشل مراکز اور حتیٰ کہ رات کے کھیلوں کی سرگرمیاں بھی رات 9 بجے تک بند کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے، جبکہ دیگر اضلاع میں بازار اور کمرشل سرگرمیاں رات 8 بجے تک محدود رہیں گی۔ اسی طرح ریسٹورنٹس، کیفے اور دیگر کھانے پینے کے مراکز کو رات 10 بجے تک بند کرنے کا پابند بنایا گیا ہے، البتہ ہوم ڈیلیوری اور ٹیک اوے کی سہولت برقرار رکھی گئی ہے۔ مزید برآں شادی ہالز، مارکیز اور تقریبات بھی رات 10 بجے تک ختم کرنا لازمی ہوگا۔
ان پابندیوں کا دائرہ کار نہایت وسیع رکھا گیا ہے جس میں نجی دفاتر، کنسلٹنسیز، ایجنسیاں، بینک، تعلیمی اکیڈمیاں، ٹیوشن سینٹرز، دکانیں، شو رومز، جیولری شاپس، بیکریز، جم، فٹنس سینٹرز، گیسٹ ہاؤسز اور کیٹرنگ سروسز سمیت تقریباً تمام کاروباری سرگرمیاں شامل ہیں۔ تاہم حکومت نے چند بنیادی خدمات کو ان پابندیوں سے مستثنیٰ قرار دیا ہے جن میں زراعت، تعمیراتی سرگرمیاں، میڈیکل سٹورز (مخصوص شرائط کے ساتھ)، ہسپتال، لیبارٹریز، ایمرجنسی ہیلتھ سروسز، تنور اور پیٹرول پمپس شامل ہیں۔
یہ تمام اقدامات اپنی جگہ اہم ضرور ہیں، مگر ہمارے معاشرے کی ایک تلخ حقیقت یہ ہے کہ حکومتی احکامات کو اکثر سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا۔ دفعہ 144 جیسے سخت قوانین بھی کئی بار عوامی سطح پر نظر انداز کیے جاتے رہے ہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ حکومت خود بھی اپنے فیصلوں پر مکمل عملدرآمد کروانے میں ناکام دکھائی دیتی ہے۔ جب قانون کا نفاذ کمزور ہو تو عوام میں اس کی پاسداری کا جذبہ بھی ماند پڑ جاتا ہے۔
مارکیٹس اور شادی ہالز کے اوقات کار سے متعلق حالیہ پابندیوں کے حوالے سے بھی خدشات موجود ہیں۔ ماضی کا تجربہ یہی بتاتا ہے کہ بااثر افراد اور تعلق دار کاروباری مالکان اکثر ایسے فیصلوں کو خاطر میں نہیں لاتے۔ نتیجتاً ایک عام دکاندار یا شہری خود کو پابندیوں کا پابند سمجھتا ہے جبکہ مخصوص حلقے آزادی سے قانون کی خلاف ورزی کرتے رہتے ہیں۔ یہ امتیازی طرز عمل نہ صرف حکومتی رٹ کو کمزور کرتا ہے بلکہ معاشرتی ناانصافی کو بھی جنم دیتا ہے۔
دوسری جانب عدالتوں، سکولوں، کالجوں اور دفاتر کے لیے تین دن چھٹی اور چار دن کام کی پالیسی بھی کئی سوالات کو جنم دیتی ہے۔ بظاہر اس اقدام کا مقصد توانائی کی بچت ہے، مگر عملی طور پر یہ فیصلہ اکثر الٹا اثر دکھاتا ہے۔ اضافی تعطیلات ملتے ہی لوگ اپنے اہل خانہ کے ساتھ سیر و تفریح کے لیے نکل پڑتے ہیں، جس سے ٹرانسپورٹ، ایندھن اور دیگر وسائل کا استعمال بڑھ جاتا ہے۔ یوں توانائی بچانے کے بجائے مزید ضیاع دیکھنے میں آتا ہے، جو اس پالیسی کی افادیت پر سوالیہ نشان ہے۔
اصل مسئلہ پالیسیوں کے فقدان کا نہیں بلکہ ان کے نفاذ کا ہے۔ اگر حکومت واقعی توانائی بحران جیسے سنگین مسئلے سے نمٹنا چاہتی ہے تو اسے صرف فیصلوں کے اعلان پر اکتفا نہیں کرنا چاہیے بلکہ ان پر سختی سے عملدرآمد بھی یقینی بنانا ہوگا۔ بلا امتیاز قانون کا اطلاق، خلاف ورزی پر فوری کارروائی، اور عوامی شعور بیدار کرنے کے اقدامات ناگزیر ہیں۔
یہ بھی ضروری ہے کہ انتظامیہ اپنی ذمہ داریوں کا ادراک کرے اور حکومتی رٹ کو قائم رکھنے کے لیے عملی اقدامات کرے۔ جب تک قانون سب کے لیے یکساں نہیں ہوگا اور اس پر بلا تفریق عملدرآمد نہیں ہوگا، ایسے تمام فیصلے محض وقتی دکھاوا ہی ثابت ہوں گے۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ توانائی بحران جیسے قومی مسئلے کا حل وقتی اور نمائشی اقدامات میں نہیں بلکہ مستقل مزاجی، دیانتدار عملدرآمد اور اجتماعی ذمہ داری کے احساس میں پوشیدہ ہے۔ جب حکومت اور عوام دونوں اپنی اپنی ذمہ داریاں نبھائیں گے تب ہی حقیقی تبدیلی ممکن ہو سکے گی۔

زر الذهاب إلى الأعلى
Ads Blocker Image Powered by Code Help Pro

Ads Blocker Detected!!!

We have detected that you are using extensions to block ads. Please support us by disabling these ads blocker.

Powered By
100% Free SEO Tools - Tool Kits PRO