تازہ ترینمضامین

​چترال میں پیشہ ورانہ گداگری: ایک ابھرتا ہوا سماجی ناسور اور اس کا سدباب..تحریر: بشیر حسین آزاد

​چترال اپنی منفرد ثقافت، بلند اخلاقی اقدار اور پرامن معاشرت کی وجہ سے پوری دنیا میں پہچانا جاتا ہے۔ یہاں کی غیرت مند عوام میں بھیک مانگنا ہمیشہ سے ایک معیوب اور ناپسندیدہ عمل رہا ہے۔ تاہم، حالیہ کچھ عرصے سے چترال شہر، دروش اور دیگر تجارتی مراکز میں پیشہ ور بھکاریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کی بڑھتی ہوئی تعداد نے ایک سنگین صورتحال اختیار کر لی ہے۔

​ایک اہم اور پریشان کن پہلو صوبہ پنجاب سے پیشہ ور بھکاریوں کی سالانہ آمد کا سلسلہ ہے۔ عوامی حلقوں کے مطابق، ہر سال بڑی تعداد میں غیر مقامی بھکاری پنجاب سے چترال کا رخ کرتے ہیں۔ اگرچہ ڈی پی او لوئر چترال رفعت اللہ خان کی خصوصی ہدایات پر پولیس ان عناصر کو ضلع بدر کر کے واپس بھیج دیتی ہے، لیکن یہ ایک عارضی حل ثابت ہورہا ہے۔

 مشاہدے میں آیا ہے کہ پولیس کی جانب سے نکالے جانے کے محض چند ہی دنوں بعد یہی بھکاری دوبارہ چترال کی حدود میں داخل ہو جاتے ہیں۔

​ شہریوں نے ڈی پی او لوئر چترال سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ داخلی راستوں پر ایسے عناصر پر کڑی نظر رکھی جائے اور ایک بار نکالے جانے کے بعد انہیں دوبارہ ضلع میں داخل ہونے کی ہرگز اجازت نہ دی جائے۔ اس سلسلے میں مستقل نگرانی کا ایک مؤثر نظام وضع کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

​مقامی گداگری اور منظم نیٹ ورک

​صرف غیر مقامی ہی نہیں، بلکہ اب ضلع کے جنوبی علاقوں مثلاً شیشی کوہ، ارندو اور ڈمیل سے تعلق رکھنے والے بعض خاندانوں نے بھی اسے باقاعدہ ایک منظم “پیشہ” بنالیا ہے۔ ان خاندانوں کی معصوم بچے صبح شام مختلف بازاروں اور شاہراہوں پر بھیک مانگتے ہوئے نظر آتے ہیں نوجوان خواتین کا سرِ عام بھیک مانگنا نہ صرف اخلاقی گراوٹ کا باعث ہے بلکہ یہ مستقبل میں کئی دیگر سماجی اور امن و امان کے مسائل کو جنم دے سکتا ہے۔

​معصوم بچوں کو بھیک مانگنے پر مجبور کرنا براہِ راست چائلڈ لیبر اور انسانی حقوق کی پامالی کے زمرے میں آتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس سے بچوں کا تعلیمی مستقبل تباہ ہورہا ہے۔ پاکستان میں “خیبر پختونخوا چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر ایکٹ” اور “خیبر پختونخوا ویگرینسی ریسٹرینٹ ایکٹ 2020” جیسے قوانین موجود ہیں، جن کے تحت بچوں کو جبری مشقت یا گداگری میں استعمال کرنا سنگین جرم ہے، مگر ان پر مؤثر عملدرآمد کی ضرورت ہے۔

​چترال کی خوبصورتی اور امن کو برقرار رکھنے کے لیے انتظامیہ، محکمہ سماجی بہبود اور پولیس کو ایک مشترکہ حکمت عملی اپنانی ہوگی۔ پنجاب اور دیگر اضلاع سے آنے والے پیشہ ور بھکاریوں کے دوبارہ داخلے پر مستقل پابندی لگائی جائے۔

 بچوں اور خواتین سے بھیک منگوانے والے سرغنہ افراد کا سراغ لگا کر انہیں سخت سزائیں دی جائیں۔

مقامی مستحق خاندانوں کی بحالی اور ان کے بچوں کو سکولوں میں داخل کرنے کے لیے ٹھوس پروگرام شروع کیے جائیں۔

عوام میں یہ شعور بیدار کیا جائے کہ پیشہ ور گداگری کی حوصلہ شکنی کی جائے اور امداد صرف حقیقی مستحقین تک پہنچائی جائے۔

​میرا مقصد ہرگز کسی کی روزی میں دخل دینا یا کسی کی دل آزاری کرنا نہیں، بلکہ معاشرے کی اصلاح اور چترال کے پرامن و باوقار تشخص کا تحفظ ہے۔ اگر صدقہ، خیرات اور زکوٰۃ دینا ہی مقصود ہو تو ہمارے معاشرے میں ایسے بے شمار حقدار، نادار، محتاج اور سفید پوش خاندان موجود ہیں جو اپنی عزتِ نفس کی خاطر ہاتھ نہیں پھیلاتے۔ ایسے لوگوں کی مدد کرنا یقیناً زیادہ بہتر، باعثِ اجر اور ثوابِ دارین کا ذریعہ بن سکتا ہے۔

​اگر اس سماجی ناسور کا بروقت سدباب نہ کیا گیا تو یہ چترال کے پرامن معاشرتی ڈھانچے، ثقافتی اقدار اور آئندہ نسلوں کے مستقبل کے لیے ایک مستقل خطرہ بن جائے گا۔

زر الذهاب إلى الأعلى
Ads Blocker Image Powered by Code Help Pro

Ads Blocker Detected!!!

We have detected that you are using extensions to block ads. Please support us by disabling these ads blocker.

Powered By
Best Wordpress Adblock Detecting Plugin | CHP Adblock