
بونی شندور روڈ کی تعمیر میں تاخیر اور معاوضوں کی عدم ادائیگی پر وادی لاسپور کے عمائدین پھٹ پڑے
این ایچ اے کام میں ناکام، منصوبہ این ایل سی کے حوالے کیا جائے، پریس کانفرنس سے خطاب
اپر چترال (چترال ایکسپریس):وادی لاسپور کے ممتاز عمائدین نے بونی شندور روڈ کی تعمیر میں بے جا تاخیر، متاثرہ زمین مالکان کو معاوضوں کی عدم ادائیگی، علاقے میں ناقص موبائل و انٹرنیٹ سروس اور جشنِ شندور کے غیر مناسب انتظامات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت اور ضلعی انتظامیہ سے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔
اپر چترال پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عمائدینِ لاسپور—جن میں
سہروردی خان یفتالی، سردار ولی خان، حاصل مراد خان، صفت علی خان، حاجی خان، جماعتی خان اور میر ولی خان شامل تھے—نے کہا کہ شاہی داس سے ہرچین لشٹ تک جن زمین مالکان کی زمینیں سڑک کی توسیعی منصوبے میں متاثر ہوئی ہیں، انہیں فوری طور پر ان کا جائز معاوضہ ادا کیا جائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ مستوج تا شندور روڈ پر سست روی کا شکار تعمیراتی کام بلا تاخیر شروع کیا جائے۔ عمائدین کا کہنا تھا کہ اگر نیشنل ہائی وے اتھارٹی (NHA) اس اہم منصوبے کی بروقت اور معیاری تکمیل کو یقینی بنانے میں ناکام ہو چکی ہے تو یہ منصوبہ فوری طور پر این ایل سی (NLC) کے سپرد کیا جائے۔
پریس کانفرنس کے دوران عمائدین نے وادی لاسپور کی تقریباً 24 ہزار آبادی کے لیے ناقص مواصلاتی نظام پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ وادی تک فائبر آپٹک لائن پہنچنے کے باوجود موبائل اور انٹرنیٹ سروس نہ ہونے کے برابر ہے، جس سے عوام بالخصوص طلبہ شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ حکومت اور انتظامیہ فوری طور پر اس کا نوٹس لے کر علاقے میں متبادل مواصلاتی سہولیات فراہم کرے۔
جشنِ شندور کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موجودہ طرز کے انتظامات سے لاسپور کی مقامی آبادی، مال مویشیوں اور قدرتی ماحول کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت آئندہ جشنِ شندور کے انعقاد سے قبل مقامی عوام کو اعتماد میں لے اور فیصلہ سازی نیز انتظامات میں ان کی مؤثر نمائندگی یقینی بنائے۔
عمائدین نے ضلعی انتظامیہ اور اعلیٰ حکام کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ لاسپور کے عوام کے جائز حقوق اور بنیادی سہولیات کو مزید نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ اگر ان کے مسائل فوری حل نہ کیے گئے تو عوام اپنے آئینی و قانونی حقوق کے حصول کے لیے آئندہ کا لائحہ عمل طے کرنے پر مجبور ہوں گے، جس کی تمام تر ذمہ داری انتظامیہ پر عائد ہوگی۔
