
اپر چترال میں موبائل سگنلز اور انٹرنیٹ کے دیرینہ مسئلے پر ضلعی انتظامیہ کا تحرک، اہم اجلاس منعقد
اپر چترال (ذاکر محمد زخمی):ضلعی انتظامیہ اپر چترال نے عوام کو درپیش موبائل سگنلز اور انٹرنیٹ کی ناقص سہولت کے دیرینہ مسئلے کے حل کے لیے سنجیدہ اور عملی اقدامات کا آغاز کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں ڈپٹی کمشنر اپر چترال ارشد خان کی خصوصی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر ہیڈکوارٹر بونی، سلطان نور الدہن احمر کی زیرِ صدارت ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں تمام موبائل بالخصوص ٹیلی نار ٹاورز پر تعینات سیکیورٹی گارڈز کو طلب کر کے درپیش مسائل کا تفصیلی
جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کے دوران ہر ٹاور کی کارکردگی اور درپیش مشکلات سے متعلق معلومات جمع کرنے کے لیے ایک باقاعدہ پروفارما مرتب کیا گیا، جس میں ٹاورز پر دستیاب سہولیات، بیٹری بیک اپ اور ایندھن کی کمی بیشی سمیت دیگر فنی و انتظاماتی مسائل کا انداراج کیا گیا۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے اسسٹنٹ کمشنر ہیڈکوارٹر سلطان نور الدہن احمر نے کہا کہ سیکیورٹی گارڈز کو بلانے کا بنیادی مقصد ٹاورز کی سطح پر درپیش واقعی مشکلات کو سمجھنا اور ان کا پائیدار حل نکالنا ہے۔ انہوں نے تمام سیکیورٹی گارڈز کو ہدایت کی کہ وہ اپنے ٹاورز کے تمام مسائل تحریری طور پر جمع کرائیں تاکہ انتظامیہ ان کی روشنی میں متعلقہ کمپنیوں سے مؤثر رابطہ کاری کر کے سگنلز اور انٹرنیٹ کی بحالی کو یقینی بنا سکے۔
اجلاس میں سیکیورٹی گارڈز کی نمائندگی کرتے ہوئے ریٹائرڈ اعزازی کیپٹن شیر اعظم نے مشترکہ مسائل کی نشاندہی کی۔ انہوں نے بتایا کہ کمپنی سیکیورٹی گارڈز کو ماہانہ صرف 7,000 روپے انتہائی قلیل تنخواہ ادا کر رہی ہے، جبکہ کام کی نوعیت انتہائی سخت ہے اور انہیں 24 گھنٹے ڈیوٹی پر موجود رہنا پڑتا ہے۔ موجودہ مہنگائی کے دور میں اس قلیل رقم میں گزارا ممکن نہیں، جبکہ ڈیوٹی کی پابندی کے باعث وہ کوئی دوسرا کام بھی نہیں کر سکتے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بیشتر ٹاورز پر بیٹری بیک اپ کی عدم دستیابی اور جنریٹرز کے لیے ایندھن کی وقت پر اور مکمل فراہمی نہ ہونا سگنلز اور انٹرنیٹ میں تعطل کی بڑی وجہ ہے۔
واضح رہے کہ اپر چترال میں وائی فائی کی سہولت نہ ہونے کے برابر ہے اور طلبہ کی تعلیم، آن لائن کلاسز، بینکنگ، بائیومیٹرک تصدیق اور سیٹلمنٹ عملے سمیت سرکاری و عوامی امور کا تمام تر دارومدار موبائل انٹرنیٹ پر ہے۔ ضلعی انتظامیہ کے اس پیش رفت سے عوام میں امید کی کرن پیدا ہوئی ہے کہ جلد موبائل نیٹ ورکس کی صورتحال میں بہتری آئے گی۔
