
کنڈی لگ گئی، چابی کس کے پاس ہے؟..تحریر: نورالہدیٰ یفتالی
خیبر پختونخوا میں آخر ایسا کیا ہے کہ یہاں امن کی خبر سے زیادہ سیاسی بحران کی خبر سنائی دیتی ہے؟ کبھی دھماکوں کی گونج، کبھی جنازوں کی قطار، کبھی اسلام آباد کی طرف مارچ، کبھی پشاور میں پریس کانفرنس، کبھی گرفتاریاں اور کبھی گورنر راج کی دھمکیاں۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اس صوبے کی قسمت میں سکون کم اور بحران زیادہ لکھ دیا گیا ہو۔
اب اکتوبر 2026 میں وفاقی حکومت نے آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کر دیا ہے۔ وفاق کا مؤقف ہے کہ صوبے میں امن و امان کی صورت حال خراب ہوئی اور دہشت گردی کے خلاف صوبائی حکومت مطلوبہ کردار ادا نہیں کر سکی۔ دوسری طرف تحریک انصاف اس اقدام کو اپنے منتخب مینڈیٹ کے خلاف سیاسی کارروائی قرار دے رہی ہے۔ معاملہ پارلیمان تک پہنچا اور 15 اکتوبر کو دونوں ایوانوں نے اس اقدام کی توثیق کر دی۔ یوں سیاسی کشمکش ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئی۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا گورنر راج واقعی دہشت گردی کے خلاف کوئی مؤثر حکمت عملی ثابت ہوگا یا یہ بھی پاکستانی سیاست کا ایک ایسا باب بنے گا جس میں اقتدار کی بساط تو بدلے گی مگر عام آدمی کی زندگی نہیں بدلے گی؟ فیصل کریم کنڈی نے گورنر راج کے امکان پر پہلے ہی واضح کیا تھا کہ اگر صدر اور وزیراعظم صوبے کو بچانے کے لیے یہ ضروری سمجھیں تو اس پر عمل کیا جا سکتا ہے۔ اب وہی امکان حقیقت بن چکا ہے۔ وفاقی فیصلے کے بعد صوبائی حکومت کے انتظامی اختیارات گورنر کو منتقل ہو گئے ہیں۔
یہاں لفظ کنڈی خود ایک دلچسپ سیاسی استعارہ بن گیا ہے۔ کنڈی نے گورنر راج کی کنڈی لگا دی، مگر عوام پوچھ رہے ہیں کہ چابی کہاں رکھی ہے اسلام آباد کی جیب میں، گورنر ہاؤس کی میز پر، پارلیمان کے دراز میں یا کسی ایسی سیاسی فائل میں جو برسوں سے ایک دفتر سے دوسرے دفتر کا سفر کر رہی ہے۔
یہ محض لفظوں کا کھیل نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ اگر گورنر راج کا مقصد امن قائم کرنا ہے تو اس کی کامیابی کس پیمانے سے ناپی جائے گی؟ کتنے حملے رکیں گے؟ کتنے خاندان اپنے پیاروں کو محفوظ گھر واپس دیکھیں گے؟ کتنے بچے خوف کے بغیر اسکول جائیں گے؟ اور کتنے کاروبار ایسے ہوں گے جنہیں روزانہ یہ خدشہ نہیں رہے گا کہ کل حالات کیا رخ اختیار کریں گے۔ حکومتیں بیانات سے قائم نہیں رہتیں اور نہ ہی امن محض نوٹیفکیشن سے آتا ہے۔ امن کے لیے حکمت عملی، مقامی اعتماد، مؤثر پولیس، انٹیلی جنس، عدالتی نظام اور سیاسی اتفاقِ رائے درکار ہوتا ہے۔
خیبر پختونخوا افغانستان کے ساتھ طویل سرحد رکھتا ہے۔ سابق قبائلی اضلاع کی پیچیدہ تاریخ، سرحد پار مسلح گروہوں کی نقل و حرکت، جنگوں کے اثرات، نقل مکانی، معاشی محرومی اور کمزور ریاستی عمل داری نے اس خطے کو کئی دہائیوں سے غیر معمولی دباؤ میں رکھا ہے۔ اس صوبے کے شہری دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی جانیں، گھر، کاروبار اور معمول کی زندگیاں پہلے ہی بہت کچھ قربان کر چکے ہیں۔
یہ کہنا آسان ہے کہ صوبائی حکومت ناکام ہوئی یا وفاق نے غلط فیصلہ کیا۔ لیکن کیا ہم نے کبھی یہ پوچھا کہ گزشتہ دو دہائیوں میں کتنی پائیدار پالیسیاں بنیں؟ کتنی پالیسیوں کو حکومت بدلنے کے ساتھ بدل دیا گیا؟ سرحدی انتظام، مقامی پولیس کی استعداد، انٹیلی جنس تعاون، نوجوانوں کے روزگار اور متاثرہ علاقوں کی بحالی پر کتنا مستقل کام ہوا۔
دہشت گردی کی ذمہ داری محض ایک سیاسی بیان سے کسی ایک جماعت کے کھاتے میں نہیں ڈالی جا سکتی۔ اگر کسی حکومت کے خلاف شواہد ہیں تو انہیں قانونی اور شفاف طریقے سے سامنے لانا چاہیے۔ اور اگر کسی ریاستی پالیسی میں خامیاں ہیں تو ان کا جائزہ بھی اتنی ہی سنجیدگی سے ہونا چاہیے۔
وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ ایمرجنسی اور گورنر راج کا مقصد دہشت گردی پر قابو پانا اور شہریوں کی جان و مال کا تحفظ ہے۔ تحریک انصاف اس اقدام کو سیاسی انتقام اور صوبے کے انتخابی مینڈیٹ کو کمزور کرنے کی کوشش سمجھتی ہے۔ یہ دونوں مؤقف سیاسی منظرنامے کا حصہ ہیں، مگر عوام کو صرف مؤقف نہیں، ثبوت اور نتائج درکار ہیں۔
اگر دہشت گردی واقعی بنیادی وجہ ہے تو حکومت کو واضح کرنا چاہیے کہ نئے انتظام کے تحت کون سی عملی تبدیلیاں کی جائیں گی۔ کیا پولیس اور انٹیلی جنس کے درمیان رابطہ بہتر ہوگاکیا متاثرہ اضلاع میں شہری تحفظ کا نظام مضبوط ہوگاکیا دہشت گردی کے مقدمات میں تفتیش اور استغاثہ بہتر ہوں گےکیا مقامی آبادی کو اعتماد میں لیا جائے گا۔
اور اگر حزب اختلاف کے پاس اس فیصلے کے خلاف آئینی دلائل ہیں تو عدالتوں اور پارلیمان میں ان کی سماعت ہونی چاہیے۔ جمہوریت کا حسن یہی ہے کہ اختلاف کو غداری، سوال کو بغاوت اور تنقید کو دشمنی نہ سمجھا جائے۔ دہشت گردی کے خلاف کارروائی اور جمہوری حقوق کا تحفظ ایک دوسرے کی ضد نہیں ہونے چاہییں۔ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ دونوں کو ساتھ لے کر چلے۔
جب بھی سیاسی کشیدگی بڑھتی ہے تو ہمارے ہاں ایک مانوس منظر سامنے آتا ہے۔ ایک طرف پریس کانفرنس، دوسری طرف جوابی پریس کانفرنس۔ ایک طرف الزام، دوسری طرف تردید۔ کہیں احتجاج، کہیں گرفتاری اور کہیں ایسے بیانات جن میں مسئلے کا حل کم اور مخالف کو نیچا دکھانے کی خواہش زیادہ محسوس ہوتی ہے۔
گرفتاریاں اگر قانون کے مطابق ہیں تو ان کی قانونی بنیاد واضح ہونی چاہیے۔ اگر کسی شہری یا سیاسی رہنما کے خلاف مقدمہ ہے تو اسے عدالت میں پیش کیا جائے۔ اجتماعی سزا، غیر واضح حراست یا سیاسی مخالفین کو خاموش کرانے کے الزامات کسی بھی نظام پر عوامی اعتماد کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
اگر کسی جماعت کو گورنر راج کے تحت قائم ہونے والے انتظامی یا مشاورتی ڈھانچے میں حصہ داری کا موقع ملتا ہے تو اسے اپنے فیصلے کا جواز عوام کے سامنے رکھنا چاہیے۔ کیا یہ شمولیت امن قائم کرنے، انتظامی بہتری اور عوامی مسائل کے حل کے لیے ہے؟ کیا اس کے لیے واضح اہداف، مدت اور جواب دہی کا نظام موجود ہوگا؟ یا یہ محض سیاسی اثرورسوخ بڑھانے کا ایک اور راستہ ہوگا؟
کسی بھی جماعت کی شمولیت کو صرف اس بنیاد پر درست یا غلط نہیں کہا جا سکتا کہ وہ حکومت کے ساتھ ہے یا مخالف صف میں۔ اصل معیار یہ ہونا چاہیے کہ اس سے عوام کو کیا فائدہ پہنچتا ہے۔
اگر سیاسی جماعتیں اس انتظام کا حصہ بنتی ہیں تو انہیں تحریری اہداف، شفاف فیصلوں اور قابلِ پیمائش نتائج پر زور دینا چاہیے۔ اگر وہ مخالفت کرتی ہیں تو ان کے پاس بھی ایک واضح متبادل حکمت عملی ہونی چاہیے۔ صرف اقتدار میں آنے یا اقتدار سے نکلنے کی بحث صوبے کے زخموں کا علاج نہیں۔
گورنر راج کے حامی اسے آئینی راستہ اور انتظامی ضرورت قرار دے رہے ہیں، جبکہ مخالفین اسے منتخب صوبائی حکومت کے اختیار میں مداخلت سمجھتے ہیں۔ آئینی جواز کا حتمی تعین متعلقہ قانونی دفعات، ان کے اطلاق اور عدالتی جائزے سے ہوگا۔ مگر سیاسی جواز کا ایک الگ امتحان بھی ہے۔
گورنر راج کوئی جادوئی چھڑی نہیں۔ انتظامی اختیار تبدیل کرنا نسبتاً آسان ہے، مگر عوامی اعتماد حاصل کرنا مشکل۔ فائلوں پر دستخط کیے جا سکتے ہیں، افسران تبدیل کیے جا سکتے ہیں اور اجلاس بلائے جا سکتے ہیں، لیکن دہشت گردی کے پیچھے موجود پیچیدہ اسباب کو ختم کرنے کے لیے مستقل اور مربوط کوشش درکار ہے۔ خیبر پختونخوا کو مزید سیاسی تجربات سے زیادہ ایک ایسی حکمت عملی کی ضرورت ہے جس میں حکومت، حزب اختلاف، پولیس، سکیورٹی ادارے، مقامی عمائدین اور متاثرہ آبادی سب اپنی اپنی ذمہ داری ادا کریں۔
وفاق کو اپنے فیصلے کی شفافیت ثابت کرنی ہوگی۔ گورنر کو انتظامی کارکردگی دکھانی ہوگی۔ سیاسی جماعتوں کو اپنی صفوں سے آگے بڑھ کر صوبے کے مفاد کو دیکھنا ہوگا۔ اور ریاستی اداروں کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ ان کی ترجیح سیاسی میدان میں برتری نہیں بلکہ شہریوں کی حفاظت ہے۔
آخر میں پھر وہی سوال کنڈی نے گورنر راج کی کنڈی تو لگا دی، مگر چابی کہاں رکھی ہےیہ اہم سوال ہے۔ اگر گورنر راج سے شہری محفوظ ہوتے ہیں، کاروبار چلتے ہیں، اسکول آباد ہوتے ہیں اور سیاسی اختلاف کے باوجود ریاستی ادارے اپنی آئینی حدود میں کام کرتے ہیں تو یہ انتظام اپنے مقصد کی طرف بڑھتا دکھائی دے گا۔ لیکن اگر صرف چہرے بدلتے ہیں، بیانات بڑھتے ہیں اور خوف اپنی جگہ قائم رہتا ہے تو پھر کنڈی تو لگی ہوگی، مگر دروازہ بند ہی رہے گا۔
خیبر پختونخوا کے عوام کو اب ایک اور سیاسی نعرہ نہیں، امن کی ضمانت، قانون کا احترام اور ایک محفوظ مستقبل چاہیے۔ کیونکہ یہ صوبہ محض سیاسی جماعتوں کا میدان نہیں، لاکھوں انسانوں کا گھر ہے۔
