تازہ ترین

چترال کو بچانے کیلئے حکومتی سطح پر اینوائرمنٹ پالیسی بنانی چاہیے ۔ جس کیلئے ہم سب کو مل کر حکومت کو مجبور کرنا پڑے گا۔سرتاج احمد خان

چترال ( نمائندہ چترال ایکسپریس ) چترال کے لئے جتنی معیاری اور مضبوط انفراسٹرکچر کی ضرورت ہے ۔ اُس سے زیادہ کوالٹی ایجوکیشن اور معیاری تعلیمی انسٹیٹیوشنز کی ضرورت ہے ۔ اور تعلیم ہی چترال کی ترقی اور علاقے کے لوگوں کے روزگار کا بڑا ذریعہ ثابت ہو سکتا ہے ۔ یہ دور علم اور عقل بیچنے کا ہے ۔ اور جن کے پاس یہ وسائل ہوں گے ۔ وہ خوشحال اور عزت کے ساتھ زندگی گزارنے کے قابل ہوں گے ۔ ان خیالات کا اظہار سابق تحصیل ناظم چترال اور چترال بچاؤ مہم کے چیرمین سرتاج احمد خان نے گذشتہ روز عبدالولی خان یونیورسٹی چترال کے آڈیٹوریم میں اساتذہ اور طلباء و طالبات کے ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ چترال کے اساتذہ اور سٹوڈنٹس کو چترال کے مستقبل کے بارے میں الرٹ ہونا چاہیے ۔ کیونکہ یہ خطہ انتہائی طور پر ڈیزاسٹر زون بن گیا ہے ۔ جہاں سیلاب اور زلزلوں کی وجہ سے زندگی گزارنا دن بدن مشکل ہو تا جارہا ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ ہماری غیر دانشمندانہ اقدامات اور حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے مصائب نے ہمیں گھیر لیا ہے ۔ اب بھی اگر آنے والے موسمیاتی آفات سے بچنے کیلئے منصوبہ بندی نہیں کی گئی ۔ تو شاید یہ چترال کے تعلیم یافتہ طبقے کی بہت بڑی غلطی ہو گی ۔ سرتاج احمد خان نے کہا ۔ کہ چترال کو بچانے کیلئے حکومتی سطح پر اینوائرمنٹ پالیسی بنانی چاہیے ۔ جس کیلئے ہم سب کو مل کر حکومت کو مجبور کرنا پڑے گا ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ چترال میں 543گلیشئرز کے ذخائر ہیں ۔ جو عالمی اور مقامی ماحولیاتی حدت کی وجہ سے پگھل کر سیلاب کی صورت میں چترال کو نقصان پہنچارہے ہیں ۔ جن کی حفاظت بہت ضروری ہے۔ اب تک چترال کے تقریبا دس گاؤں سیلاب کی وجہ سے صفحہ ہستی سے مٹ چکے ہیں ۔ اور مزید تباہی کا سلسلہ جاری ہے ۔ یہ تباہی صرف چترال تک محدود نہیں بلکہ دریائے چترال میں شامل ہو کر صوبہ خیبر پختونخوا کے کئی شہر وں کی بربادی کا سبب بن رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ناقص حکومتی پالیسی کی وجہ سے قدرتی وسائل کا غلط استعمال اور جنگلات کی بے دریغ کٹائی اس کی بڑ ی وجو ہات ہیں ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ چترال میں ایندھن کیلئے لکڑی ختم ہو چکی ہے ۔ اس لئے حکومت متبادل ایندھن کے طور پر تیس میگاواٹ بجلی مفت چترال کو فراہم کرے ۔ چترال میں خوراک کیلئے گندم گلگت بلتستان ریٹ پر مہیا کیا جائے ۔ جنگلات کی حکومتی رائیلٹی جنگلات کی افزائش پر خرچ کیا جائے ۔ دریائے چترال کانام ملک بھر میں دریائے چترال کے نام سے پکارا جائے ۔ اور اس کی رائیلٹی چترال کو دی جائے ۔ فارسٹ چیک پوسٹ چکدرہ سے چترال منتقل کیا جائے ۔ سیلاب سے تباہ شدہ خاندانوں کو کاغلشٹ کی آراضی میں بسایا جائے ۔ اور زہریلی گیسوں کے حوالے سے ملنے والی بین الاقوامی فنڈ سے چترال کو مناسب حصہ دیا جائے ۔ یونیورسٹی کے تمام اساتذہ اور سٹوڈنٹس نے ان تمام مطالبات کو جائز تسلیم کرتے ہو ئے ہر قسم کے تعاون کا یقین دلایا ۔ اس موقع پر ڈسٹرکٹ کوآرڈنیٹر ساؤتھ ایشیاء پارٹنر شپ پاکستان چترال محمد اسماعیل نے آواز پراجیکٹ کی سرگرمیوں پر روشنی ڈالی ۔ اور کہا ۔ کہ طلباء کو ایسے اہم مسائل کی طرف بھر پور توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ کیونکہ مستقبل آپ کا ہے ۔ اقلیتی ممبر ڈسٹرکٹ کونسل چترال عمران کبیر نے بھی خطاب کرتے ہوئے طلباء کو دور جدید تعلیم کی اہمیت و ضرورت اور چترال کے مسائل کے حل کے حوالے سے چترال کے لوگوں کو متحد ہونے کی ضرورت پر زور دیا ۔

اترك تعليقاً

زر الذهاب إلى الأعلى
Ads Blocker Image Powered by Code Help Pro

Ads Blocker Detected!!!

We have detected that you are using extensions to block ads. Please support us by disabling these ads blocker.

Powered By
100% Free SEO Tools - Tool Kits PRO