تازہ ترین

کالاش قیبلے کے لوگ معروف کالاش تہوار چو موس کے مذہبی امور کی انجام دہی کے آخری مراحل میں داخل ہو گئے ہیں

چترال (محکم الدین) کالاش قبیلے کے لوگ رسم” شیشاؤ” PURIFICATION DAYاور رسم گوشنک انتہائی اہتمام کے ساتھ ادا کرتے ہوئے معروف کالاش تہوار چو موس (CHO MOS) کے مذہبی امور کی انجام دہی کے آخری مراحل میں داخل ہو گئے ہیں ۔ چو موس (چترمس) تہوار کالاش قبیلے کا سب سے طویل ترین تہوار ہے۔ جس کی ابتدا ماہ دسمبر کے آغاز سے ہی کیا جاتا ہے۔ تاہم اہم رسومات کی ادائیگی 16 سے شروع ہوتی ہیں۔ گذشتہ روز حسب روایت رقص اور تالیوں کی گونج میں شیشاؤ کی رسم ادا کی گئی۔ اور تمام خواتین نے اپنے نئے اور پُرانے کپڑے اور گھر کے برتن مذہبی پیشاؤں کے حکم پر دھو ڈالے۔ اور گھروں میں آخروٹ کی گری پر مشتمل معروف موٹی روٹی (پیزا) تیار کرکے تقسیم کی۔ یہ پیزا نما موٹی روٹی ہرگھر میں موجود خواتین اور بچیوں کیلئے فی کس پانچ کے حساب سے تیار کی جاتی ہیں۔ شیشاؤ کا یہ دن در اصل اُس صفائی (Purification) کا آغاز ہے۔



SHaira Wagairaجس کے بعد کالاش لوگ صرف اپنے گاؤں تک محدود ہو جاتے ہیں۔ اور اُن کی مسلمانوں کے ہاں آمدورفت اور مسلمانوں کا اُن کے ایریے میں داخل ہونے پر پابندی لگ جاتی ہے۔ اور گاؤں کے مرد اور نوجوان خواتین سے علیحدہ ہو کر مشترکہ طور پر مختلف کمیونٹی ہالوں اور مویشی خانوں میں رہائش اختیار کرتے ہیں۔ جہاں مردوں کیلئے بکرے اور خواتین کیلئے گھروں میں بکری ذبح کرکے اکیس دسمبر تک کمروں تک محدود ہو کر چلہ کشی کی جاتی ہے۔ اس دوران انگور کے شراب اور گوشت کی فراوانی ہوتی ہے۔ اور ڈھول کی تھاپ پر رقص و سرور کی محفلیں جمائی جاتی ہیں۔ پیوریفیکیشن کے روز کالاش مذہب کے پیرو کار وں کو ہر حال میں اپنے گاؤں پہنچنا اشد ضروی ہے۔ اگر کسی وجہ سے کوئی فرد اس دن اپنے گاؤں یا گھر نہیں پہنچ سکا۔ تو کالاش مذہب میں اُسے تہوار میں شرکت کی اجازت نہیں ہے۔ اور بکرے کی قربانی دے کر اگر شامل بھی ہو جائے۔ تو اُسے اچھا خیال نہیں کیا جاتا۔ بلکہ کسی وجہ سے علاقے میں یا کالاش قبیلے پر کوئی تکلیف آئے۔ تو قصوروار اُس بندے کو ٹھہرایا جاتا ہے۔ کہ اُس بندے کی مذہبی امور کی پابندی نہ کرنے

IMG_20140515_142800کے سبب قبیلے کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اس سال کالاش ویلی رمبور، بمبوریت اور بریر میں کئی بچوں کی “گوشنک “کی رسم ادا کی گئی۔ جسے مقامی کھوار زُبان میں پچ انجیک کا نام دیا جاتا ہے۔ یہ در اصل کالاش بچے بچیوں کی اُن کے مذہب میں داخلے کا اعلان ہے۔ ان بچے بچیوں کو نئے کالاش روایتی کپڑے پہنا کر قبیلے میں شامل کیا جاتا ہے۔ بچوں کو کپڑے پہنانے کے موقع پر اُن کے ماموں کی طرف سے بکرا تحفے میں دیا جاتا ہے۔ جبکہ بچے بچی کا والد اُس کا بدلہ دیگچی کی صورت میں واپس کرتا ہے۔ یہ رسم معروف کمیونٹی ہال جشٹکان میں ادای کی گئیں۔اور گوشنک کے رسم کی ادائیگی کے بعداُن کی درازی عمر اور کامیابی کیلئے قافلے کی شکل میں “سجی گور “دیوتا کے سامنے پیش کیا گیا۔ کالاش عقائد کے مطابق سجی گور دیوتا اُن کی دعائیں اور مناجات اللہ کے دربار تک پہنچانے کی طاقت رکھتا ہے۔ اور اس سے اُن کی تمام مرادیں پوری ہوتی ہیں۔ گوشنک کے موقع پر سجی گور دیوتا کے سامنے درجنوں بکروں کی قربانی دی گئی۔ اور گوشت آپس میں تقسیم کئے گئے۔ کالاش قبیلے کے معروف سیاسی و سماجی شخصیت سیف

DSC09939 - Copyاللہ نے ایکسپریس سے بات چیت کرتے ہوئے کہا۔ گو کہ کالاش تہوار چوموس منا یا جاتا ہے۔ تاہم آرمی پبلک سکول پشاور کے الم ناک سانحے کی وجہ سے کالاش قبیلے کے لوگ بھی افسردہ ہیں۔ اور فیسٹول میں وہ جوش و جذبہ نہیں پایا جا تا۔ جو 2014سے پہلے تھا۔ اور ہم اُن بچوں کے والدین کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔ انہوں نے کہا۔ کہ کالاش قبیلے کا یہ تہوار ہزاروں سالوں پر محیط ہے۔ اور اس تہوار کو منانے میں مقامی مسلم کمیونٹی کا بھر پور تعاون انہیں حاصل ہے۔ اور یہ واحد اقلیتی فیسٹول ہے۔ کہ لوگ انتہائی آزادنہ طور پر اپنی مرضی کے مطابق بلا کسی خوف و خطر کے مناتے ہیں۔ کالاش کمیونٹی کے ایک اور سماجی نوجوان وزیر زادہ نے چوموس تہوار کے موقع پر ملک پاکستان اور چترال کیلئے نیک تمناؤں کا اظہار کیا ہے۔ اور کہا ہے۔ کہ کالاش ایک نہایت قدیم اور منفرد مذہب ہے۔ جس کی حفاظت چترال کے صدیوں سے رہائش پذیر پُرامن اور انتشار سے پاک ذہنیت کے حامل یہاں کے مقامی باشندوں نے کیا۔اور اب بھی اس مذہب کا تحفظ مقامی لوگوں کی رواداری اور احترام ہی کی وجہ سے ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا۔ کہ اس سال چوموس (چتر مس) تہوار تمام لوگوں کیلئے خوشیوں کا پیغام لائے گا۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
اظهر المزيد

مقالات ذات صلة

اترك تعليقاً

إغلاق