ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

داد بیداد……ضرب مومن اور ضرب عضب

…….ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی ؔ ……


بری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے ایک بار پھر اس بات کا ذکر کیا ہے کہ ضرب عضب کو اس کے منظقی انجام تک پہنچا یا جائے گا۔ جنرل ضیاء الحق پاک فوج کے سربراہ تھے۔ بھارت نے براس ٹیکس کے نا م سے فوجی مشقوں کے لئے اپنی فوج پنجاب ، کشمیر اور سندھ کی سرحد پر لا کر ڈال دی۔ اور جنگی مشقوں کا آغاز کیا۔ اس کے جواب میں پاک آرمی نے ضرب مومن کے نام بھارتی سرحد پر فوجی مشقوں کا اہتمام کر کے اپنی فوج کو سرحد پر چوکس کر دیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ بھارت کو پاکستان پر حملے کی جرات نہ ہوئی۔ دشمن پسپا ہوا۔ 2002ء میں بھارت نے افغانستان میں 8قونصل خانوں کے ذریعے پاکستان کے خلاف مغربی سرحد پر حملوں کا آغاز کیا۔ ان حملوں میں وردی پوش فوج کی جگہ چھاپہ مار سویلین کو استعمال کیا گیا۔ خودکش حملہ آور تیار کئے گئے۔ 30فیصد حملے سرحدی چوکیوں پر کروائے گئے۔ 70فیصد حملے پاکستان کے اندر مسجدوں، بازاروں ، مزاروں، فوجی چھاؤنیوں اور دیگر دفاعی سہولیات پر کروائے گئے۔ اسکے خلاف ضرب مومن کی طر ح آپریشن کا آغاز جنرل راحیل شریف نے کیا۔ اور اسکا نام ضرب عضب رکھا۔ یہ نبی کریم ﷺ کی 9تلواروں میں سے ایک تلوار کا نام ہے۔ دوسری تلواروں کے نام بھی دلچسپ اور یاد رکھنے کے قابل ہیں۔ ایک کا نام عالم الصور ہے۔ ایک اور کانام الرّصوب ہے۔ ایک تلوار البطار ہے۔ ایک کا نام الحتف ہے۔ ایک کا نام القلائع ہے۔ ایک کا نام الذولفقار ہے۔ ایک کا نام المخزن ہے۔ ایک کا نام القضیب ہے۔ یہ تمام کی تمام 9تلواریں ترکی کے شہر استنبول کے عجائب گھر میں تبرکات نبوی ﷺ کے نام سے ایک گیلری میں رکھے گئے ہیں۔ یہ عجائب گھر اسلامی دور کی عثمانی سلطنت کی یادگار ہے۔ ان تلواروں میں الذولفقار سب سے زیادہ مشہور ہے۔ جسے نبی کریم ﷺ نے حضرت علی کم اللہ وجہ کو عطا کی۔ الحتف کا نام اس وقت مشہور ہوا جب جنرل ضیاء الحق کے دور میں ڈاکٹر اے کیو خان نے پاکستان کے ایٹمی میزائل کا نام نبی پاک ﷺ کی تلوار کے نام پر “الحتف”رکھا۔ العضب کو 2014ء میں ضرب عضب کے نام پر دشمن کے خلاف پاک فوج کے آپریشن کا آغاز ہونے پر میڈیا میں شہرت ملی۔ العضب کے نام کا ترجمہ ہے تیز دھار والی تلوار، یہ تلوار نبی کریم ﷺ کو انصاری صحابی سعد بن ابی عبادہؓ نے جنگ بدر سے واپسی کے بعد تحفے میں دی تھی۔ جنگ احد کا معرکہ پیش آیا۔ مجاہدین کو ہتھیاروں کی ضرورت پڑی تو نبی کریم ﷺ نے یہ تلوار ایک صحابی ابو دِجانہ انصاریؓ کو دی۔ نبی کریم ﷺ کی وصال کے وقت آپؐ کے حجرہ مبارک میں ایک وقت کا کھانا نہیں تھا۔ تن مبارک پر جو کپڑے زیب تن تھے۔ ان سے اضافی لباس نہیں تھا۔ دینار و درہم نہیں تھے۔ البتہ حجرہ مبارک میں ترکمانی ڈھال اور تلواریں رکھی ہوئی تھیں۔ 1960ء کی دہائی میں ایک صحافی آریا فلاسی نے اسرائیل کے وزیر اعظم گولڈا میر سے سوال کیا کہ تمہاری قوم ننگی بھوکی ہے۔ تم ایٹمی ہتھیار کیوں بنا رہے ہو ؟ دنیا بھر سے اسلحہ کیوں جمع کر رہے ہو؟ مسز گولڈا میرنے کہا یہ کا م میں نے مسلمانوں کے پیغمبر حضرت محمد ﷺکی سوانح حیات سے سیکھا ہے۔ جب انکا جنازہ اٹھایا گیا تو ان کے گھر میں اور کوئی دولت نہیں تھی۔ ایک وقت کا کھانا بھی نہیں تھا۔ مگر جنگ کا سامان تھا۔ ڈھال، تیر کمان اور نیزے تھے۔ کئی تلواریں رکھیں ہوئی تھیں۔ یہ تاریخ کا حصہ ہے۔ اور پاک آرمی نے اس تاریخ کو آگے بڑھا کر بد ترین دشمن کے خلاف اپنی دفاعی جنگ کو نبی کریم ﷺ کی تلوار کے نام پر ضرب عضب کا نام دیا ہے۔ اور یہ ضرب مومن کی طرح دشمن کو سبق سکھانے والی جنگ ثابت ہوگی۔ پاکستان کے اندر نبی کریم ﷺ کی تلواروں کے نام عام مسلمانوں کو معلوم نہیں۔ عام شہریوں کو یہ بھی علم نہیں کہ مغربی سرحد پر بھی پاکستانی فوج بھارت کے مقابلے میں وطن کا دفاع کر رہی ہے۔ ہماری مسجدوں سے لے کر بازاروں ، گلی کوچوں ، سکولوں اور فوجی چھاؤنیوں پر حملے کروانے والا دشمن بھی وہی ہے۔ جو 1948ء میں ہمارے خلاف لڑ رہا تھا۔ جس نے 1965ء اور 1971ء میں وطن پاک پر حملہ کیا تھا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ پاک فوج کی یونٹوں کے نام بھی نبی کریم ﷺ کی تلواروں کے نام پر رکھے جائیں۔ تبرکات نبوی ﷺ سے آگاہی کے ساتھ ساتھ یہ نام ہمارے دشمن کے لئے ضرب مومن، الحتف اور ضرب عضب کی طرح ہیبت ناک ثابت ہونگے۔ جنرل راحیل شرف قدم بڑھاؤ خدا تمہارے ساتھ ہے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق