تازہ ترین

گلگت بلتستان انتظامیہ کی طرف سے شندور میں خیبر پختونخواہ کی زمین پر غیر قانونی شلٹر تعمیر کرنے کی کوشش ناکام بنادی گئی

چترال(نمائندہ چترال ایکسپریس)آج گلگت بلتستان انتظامیہ کی طرف سے شندور میں خیبر پختونخواہ کی زمین پر غیر قانونی شلٹرتعمیر کرنے کی کوشش ناکام بنادی گئی۔تاہم علاقے میں کشیدگی برقرار ہے۔تفصیلات کے مطابق گلگت بلتستان انتظامیہ نے اتوار کے روز چترال لیویز پوسٹ کے قریب اپنا شلٹر تعمیر کرنے کے لئے زمین کھودنا شروع کیا موقع پر موجود حکام نے اُن کو روکا مگر اُنہوں نے بات نہیں مانی اس پر مقامی لوگ مشتعل ہوگئے اور دو گھنٹوں کے اندر سینکڑوں لوگ جمع ہوگئے۔جس سے آمن وامان کا مسئلہ پیدا ہوگیا۔تاہم 146ونگ چترال سکاؤٹس کے حکام نے 24 گھنٹے کی مہلت مانگی اور اگلے دن تک معاملے کو ٹھنڈا کردیا۔ادھر چترال میں ضلع ناظم حاجی مغفرت شاہ نے20160724_171608[1] منتخب ناظمین اور لاسپور کے عمائدین کے ہمراہ ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے گلگت انتظامیہ کو آمن وامان میں خلل ڈالنے کا ذمہ دار قرار دیا۔ضلع ناظم نے دھمکی دی ہے کہ اگر گلگت بلتستان انتظامیہ اپنی ہت دھرمی سے باز نہیں آئی تو خیبر پختونخواہ کی حکومت اور چترال کی ضلعی انتظامیہ راست قدم اُٹھائی گی۔درین اثنا چترال میں آل پارٹیز کانفرنس پیر25جولائی کو طلب کی گئی ہے جسمیں مستقبل کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائیگا۔ایم پی اے سلیم خان نے گلگت بلتستان کی انتظامیہ کی طرف سے کاروائی کی بھرپور الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ شندور میلہ ہو نہ ہو لیکن ہم اپنی ایک انچ زمین کوکسی کو دینے نہیں دینگے۔اُنہوں نے کہا کہ اس سازش میں ملوث ہاتھوں کو بہت جلد بے نقاب کیا جائیگا۔
شندور سے آمدہ اطلاعات کے مطابق یوسی لاسپور کے ناظم اور مقامی عمائدین نے کہا ہے کہ1914سے شندور پولو چترال انتظامیہ کی میزبانی میں ہورہاہے۔2010سے پہلے کبھی اس پر اعتراض نہیں ہوا۔لاسپور کے عوام نے گلگت بلتستان انتظامیہ کی طرف سے بے جا مداخلت کو پڑوس ملک کی شرارت قرار دیا ہے اور اس کو بلوچستان کی طرح چترال اور گلگت بلتستان میں را (RAW)کی کارستانی سے تعبیر کیا ہے۔


اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق