تازہ ترین

اے کے آر ایس پی کی طرف سے برم میں ایری گیشن چینل کی تعمیر کو مسترد کرتے ہیں؛ سابقہ کرپشن کا حساب دیا جائے/مولانا محمد عمر چترالی

چترال (نمائندہ چترال ایکسپریس)آغا خان رورل سپورٹ پروگرام (AKRSP)کی طرف سے یونین کونسل (وارڈ) اوویر کے گاؤں بروم میں ایریگیشن چینل کی تعمیر کو یکسر مسترد کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام رابطہ کمیٹی پشاور کے سربراہ و مدرسہ حبیب ابن زید اوویر کے مہتمم مولانا محمد عمر چترالی نے کہا ہے کہ اس علاقے کے اکثریتی عوام اے کے آرایس پی کی طرف سے مجوزہ منصوبے کوبوجوہ مسترد کرتے ہیں اور ادارے کو خبردار کرتے ہیں کہ وہ علاقے کے عوام جذبات کے ساتھ کھیلنے کا سلسلہ بند کردے۔ میڈیا کو جاری کئے گئے اپنے ایک بیان میں مولانا محمد عمر نے کہا کہ ماضی میں بھی اس AKRSPاور اسکے زیر انتظام چلنے والے LSOکی طرف سے عوام کیساتھ ناانصافیاں ہوئی ہیں اور ان دونوں اداروں نے کرپشن کا بازار گرم کر رکھا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ان دو اداروں کے کئی منصوبے صرف کاغذوں کی حد تک ہیں جبکہ عملاً انہوں نے عوام کو گمراہ کرکے صرف چند افراد کو مالی فوائد پہنچایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے قبل ان دونوں اداروں نے شا برونز میں پن بجلی گھر کی تعمیر کے نام پر مختلف مد میں لوگوں سے بھاری رقم وصول کرلئے، مقامی لوگوں نے کئی دنوں تک بلامعاوضہ کام کیا مگر آج تک نہ اس بجلی گھر کا پتہ ہے اور نہ ہی عوام سے لئے گئے پیسوں کا کچھ پتہ چل سکا ہے اور اب ایک مرتبہ پھر اسی طریقے سے عوام سے کمیونٹی شیئر کے نام نقد رقم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ مفت کام بھی کروانے کی تیاریاں ہورہی ہیں جوکہ علاقے کے عوام کو کسی بھی صورت قابل قبول نہیں۔ مولانا محمد عمر نے AKRSP اور مقامی LSOپر زور دیا کہ وہ اوویر میں کوئی بھی نیا منصوبہ شروع کرنے سے قبل اپنے سابقہ منصوبوں کے بارے میں احتساب کریں اور حقائق عوام کے سامنے رکھیں جسکے بعد مقامی لوگ اس ادارے سے کسی بھی قسم کے استفادہ کرنے یا نہ کرنے کے بارے میں سوچیں گے مگر اس وقت ماضی کے کرپشن اور بدعنوانیوں کو سامنے رکھتے ہوئے یہاں کے عوام بالخصوص اکثریتی گاؤں پچھان شوک کے عوام مکمل طور پر اس منصوبے کو مسترد کرتے ہیں اور مزید عوامی استحصال کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ انہوں نے کہا AKRSPاور اسکے زیر نگرانی کام کرنے والے LSOکی وجہ سے علاقے میں تصادم کی فضا پیدا ہورہی ہے کیونکہ یہ دونوں ادارے عوامی مطالبات اور عوامی جذبات کے ساتھ کھیلتے ہوئے من مانیوں میں مصروف ہیں جو کہ قابل افسوس اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے خبر دار کیا کہ خدا نخواستہ کسی ناخوشگوار واقعے کی مکمل طور پر ذمہ داری ان دونو ں اداروں پر عائد ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس سلسلے میں عدالتی چارہ جوئی کا بھی حق محفوظ رکھتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ماضی کے عوامی استحصال، سنگین بد عنوانیوں اور بے ضابطگیوں کے بنیاد پر مقامی کمیونٹی کسی بھی صورت اے کے آرایس پی اور اسکے ایل ایس او کیساتھ ملکر کام کرنے کے لئے تیار نہیں تاہم کوئی بھی دوسرے ادارے کے ساتھ تعاون کے لئے تیار ہیں مگر AKRSPاپنے سابقہ بد عنوانیوں اور عوامی استحصال کا جواب دیں۔


اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق