تازہ ترین

محکمہ تعلیم زنانہ میں سابق دور میں کئے گئے گھپلوں کا شفاف انکوائری ہونا چاہیئے۔سجاد احمد

چترال(نمائندہ چتر ال ایکسپریس ) پاکستان تحریک انصاف چترال کے سرگرم کارکن سابق امیدوار تحصیل یوسی دنین سجاد احمد نے ایک اخباری بیان میں کہا ہے کہ ضلع چترال کے محکمہ تعلیم زنانہ میں کافی عرصے بعد مثبت تبدیلی آگئی ہے کیونکہ سابقہ جتنے بھی محکمہ تعلیم زنانہ چترال میں جو بھی زمہ داران تھے انہوں نے سیاسی دباؤ ، اقربا پروری اور ذاتی پسند و نا پسند کی بنیاد پر چترال میں محکمہ تعلیم زنانہ کو تباہی کے دہانے پر پہنچایا تھا۔ جن کے خلاف بار بار عوامی شکایات پر نوٹس لینے پر صوبائی حکومت اور ڈایریکٹر ایجو کیشن کے پی کے اقدام کا بے حد مشکور ہے کہ انہوں نے حالات کی نزاکت اور تعلیمی ایمر جنسی کا خیال رکھتے ہو ئے محکمہ تعلیم زنانہ چترال کو تما م ما فیاز سے پاک کردیا۔اُنہوں نے کہا کہ ان کے تبادلے سے کچھ نہیں ہو گا بلکہ انکے دور میں کئے گئے گھپلوں کا بھی شفاف انکوائری ہونی چاہیئے ۔انہوں نے موجودہ حکام سے امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سابقہ زمہ داروں کی غلطیوں کا اصلاح کے ساتھ تمام زنانہ استانیوں کی محرومیوں اور ظلم و زیادتی کا بھی ازالہ کریں گے۔ اُنہوں نے کہا کہ جب تک ہم تعلیم میں سیاسی مداخلت ، اقربا ء پروری کو قانون پر فوقیت دیں گے تب تک تعلیمی ایمر جنسی کا خواب پورا نہیں ہو سکتا ۔انہوں نے کہا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ موجودہ حکام چترال کی پسماندگی ،مسائل اور خواتین ٹیچرز کی قانونی حقوق کو مد نظر رکھتے ہو ئے اپنے زمہ داریوں سے عہدہ برا ہو تے ہوئے اس سلسلے میں کسی بھی قسم کی دباؤ کو خاطر میں نہیں لا ئیں گے۔اور تعلیمی ایمر جنسی کے خواب کو شرمندہ تعبیر ہونے تک ہم ان کے ساتھ رضاکارانہ طور پر ہر قسم کے ممکن تعاون کے لئے تیار ہیں۔


اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق