تازہ ترینمضامین

واپڈا کی غنڈہ ترنی بل سے الزام گردی تک…تحریر۔۔۔ شہزادہ مبشرالملک

# ۔۔۔ نامہ الفت۔۔
برادر عزیز۔۔۔۔ رحیم جان کا نامہ بر ایا ہے جو کچھ یوں ہے۔۔۔۔ سلام کے بعد عرض ہے اپ کی ثحریر بہت زوراور اور لذت سے بھرے ہوتے ہیں ۔۔۔لیکن کبھی کبھار اس میں بہت ثلخی آجاتی ہے اور ہم لوگ بھی یہ پڑھ کر بہت جذباتی ہوتے ہیں ۔لیکن چند دنوں بعد سب کچھ بھلا کر روز مرا کے کام میں لگ جاتے ہیں۔۔۔گز شتہ مہینے سے آپ کی تحریر۔۔۔ ہائی سکول چترال۔۔ مولویوں کی حمایت میں مضمون پھر گاینی وارڈ کے مطعلق تحریر زبردست تھے مگر واہ واہ کے علاوہ آگے بڑھ کے نہ آپ نے کجھ کیا کہ کسی اور نے اخر کیا بات ہے قوم کب بیدار ہوگی؟
دوسری بات یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ آپ کس پارٹی کو پسند کرتے ہیں کبھی فوج کے پیچھے پڑھتے ہیں۔ کبھی نواز لیگ کبھی پی پی کبھی پی ٹی آئی ۔جے یو ائی اور جماعت اسلامی۔۔۔ اخر کون آپ کو پسند ہے اور کیوں۔؟ جواب اخبار ہی میں دیں تاکہ دوسرے دوستوں کےلیے بھی سمجھنا آسان ہو کہ آپ کا دل کس کے ساتھ ہے۔
فقط رحیم جان چیوڈوک چترال

میرے محترم رحیم بھائی حضرت اقبال نے فرمایا تھا۔۔۔
میرا طریق امیری نہیں فقیری ہے
خودی نہ بیج غریبی میں نام پیدا کر۔۔۔
تو مجھ فقیر کا مشرب بھی کمزور لوگوں کے ساتھ ہے بچپن سے ہی ان ہی لوگوں کے ساتھ رہا ہوں اور چترال سمیت دنیا بھر میں انسانیت کے لیے توانا اواز اٹھانے والوں کی اواز میں کمزور ہی سہی اواز ملاتارہا ہوں۔۔
جہاں تک پارٹی واپستگی کا تعلق ہے وہ دلی اور تربیتی طور پر جماعت اسلامی کے ساتھ رہا ہے۔میرے والد اور بڑے بھائی کرنل افتخار بھی مولانا مودودی علیہ رحمہ کے متاثرین میں شامل رے اور میرا کالج لائف بھی ان۔۔۔ صف شکن۔۔۔ مجاہدوں کے ساتھ رہا جب لوٹ کے گھر انا پڑا تو بقو ل منیر نیازی۔۔۔
اب کون منتظر ہے ہمارے لیے وہاں
شام اگئی ہے لوٹ کے گھر جائیں ہم تو کیا
کے مصداق چترال میں وہ پرخلوص تحریکی ماحول میسر نہ اسکا جو سوات کے حسیں سالوں کا سرمایہ تھا۔۔۔ میرے خاندان کے بڑے بڑے اکابر اور چیدہ لوگ جو جماعت کے بانیوں میں شمار ہوتے تھے وہ شہزادہ محی الدین کی ساست کی وجہ سے۔۔۔ ہمیشہ شک کی نگاہ سے دیکھے جاتے رہے تھے ان کی دہائیوں پر محیط پر خلوص خدمات کو ہوا ہوتے دیکھ کر میں نے کنارہ کشی میں عافیت محسوس کی۔۔۔ قلم سے رشتہ کالج لائف میں ہی خاندانی بیماری کی طرح لاحق ہوچکا تھا اوراخبارات سے وابستگی بھی تھی اس لیے لکھاری کو کسی بھی وابستگی سے دور نہیں بہت دور ہونا چاہیے۔اور یہ بات بھی درست نہیں کہ پاکستان میں سب کچھ برا ہورہا ہے۔۔۔ تمام پارٹیوں میں اچھے لوگ اوراچھے کاموں کی طویل فہرست موجود ہے اور یہ بیانیہ بھی غلط ہے کہ کوئی بھی پارٹی ریاست پاکستان اور افواج پاکستان کی مخالف ہے۔۔۔البتہ یہ ضرور ہے کہ زاتی مفاد اوراخثیارات کی خواہش نے ملک کا بیڑہ غرق کیا ہوا ہے۔ ملک کی سلامتی اور نظام اسلام جو ملک کے وجود میں انے کا سبب ہے کے لیے میں علماء کی شرکت اوران کو مناسب مقام دینے کا داعی ہوں اب افغانستان میں طالبان کے انے کے بعد علماء خاص کر ۔۔۔ جے یو ائی۔۔۔ کی قد کاٹ اورریاست کی بہبود میں اضافہ ہونا وقت کا تقاضہ ہے۔ اس لیے اسے گلے لگانا اور بھی ضروری ہوگیا ہے اگر عمران خان یا فوجی حلقے اسے خان صاحب کے ساتھ شروع میں ہی جوڑ دیثے تو سیاسی ااستحکام اوراسلامی نظام کی نفاذ کے حوالے سے بہت سی منازل طے ہوچکے ہوتے۔ عمران کی حکومت سے اب بھی ہمارے توقعات وابسطہ ہیں اگرچہ مس مینچمنٹ اوراپس کی جوڑ توڑ اور مہنگائی نے اور بقایا وقت کی کمی ہے ہمیں بھی مایوسی میں مبتلا کر رکھا ہے۔۔۔پھر بھی یہ دور نواز اور زرد داری دور سے پہتر ہے پاکستان کی مستقبل کے لیے۔
جہاں تک عملی میدان کا تعلق ہے اس کے لیے ادارے۔۔این جی اوز۔۔۔ پریشر گروپ اور سیاسی رہنماء موجود ہوتے ہیں ایک غریب لکھاری کی اواز پہ کون عمل کرے گا جبکہ مسلمان اللہ تعالی اور اس کے رسول کے فرامین کو پس پشت ڈال کر رہی تو ۔۔۔ نااہلوں کے نرغے۔۔۔ میں پھسے ہیں۔۔۔ ہم لوگ قلمی جہاد جاری رکھیں گے جب مخلص قیادت سامنے اکے پکارے گی تو مجھ جیسے سارے قلم کار ۔۔۔قلم توڑ کر سر بھی کاٹانے سے دریغ نہیں کریں گے۔

۔ #۔۔ غنڈہ ترنی ٹیکس۔۔
کل سے واپڈا بل کی برسات ہے سارے مساجد میں لوگوں کی بحث وتکرار ۔حکومت خصوصا عمران خان صاحب کے لیے ۔۔۔۔ بددعاوں کے بنڈل اور گالیوں کے گلدستوں نے مساجد کے نورانی ماحول کو الودہ کیے رکھا ہے۔۔۔۔ گزشتہ دو سالوں سے چترال واپڈا جو کے لوکل پاور ہاوس گولین سے چترال بھر کو اور اضافی بجلی دیر کو دے رہا ہے۔ مگر ۔۔۔ فیول۔۔۔ کی مد میں دو سالوں سے چترال کے باسیوں سے بھی فیول چارجیز وصول کر رہا ہے جو لاکھوں نہیں کڑوروں میں ہے۔میں نےچالیس پچاس غریبوں کے بل ایسے دیکھے جو تین تین سو سے زیادہ نہ تھے جبکہ ۔۔۔ غنڈہ ترین۔۔۔ فیول ٹیکس چار سو پچاس سے زیادہ تھے اور ہزار سے اوپر بل والوں پر ڈبل ٹرپل ڈالے گئے تھے۔اج معلومات لینے واپڈا افیس گیا تو اہلکاروں نے اسے ظلم و زیادتی اور ۔۔۔۔ غنڈہ ترنی ٹیکس قرار دیا جو چترال میں وصول کرنا سراسر ناانصافی ہے۔۔۔ ہمارے نمائند گان جناب ایم این اے صاحب اورایم پی صاحب کو چاہیے کہ پشاور میں اسلام اباد میں جلسہ جلوس کریں یا عدالتوں میں رٹ دائر کریں اور سوشل میڈیا والے بھی اس کار خیر میں ۔۔۔ تبدلی والے سرکار کی اس۔۔۔ غنڈہ ترنی ۔۔۔ تلغار ۔۔۔ کو بے نقاب کریں بلز کی تصاویردیکھا کر ورنہ ہم پیچارے لوگ ۔۔۔۔ کوٹاکی کی دنیا میں گھس کر ۔۔۔۔ گالیوں کے گلدستے اور بددعاوں کے بنڈل ۔۔۔ بیجھنے سے زیادہ کچھ کرنے کا حوصلہ نہیں رکھتے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔