
ہم منہ دیکھتے رہ گئے… افغان یورپ و چین پہنچ گئےتحریر..۔مبشرالملک!
ستم ظریفی اور وقت کی بے رحم رفتار دیکھنی ہو، تو اسلام آباد کے اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے “تجربہ کار” سیاستدانوں پالیسی سازوں اور معاشی ماہرین کے دہاییوں پر محیط فیصلوں کا جائزہ لیں۔
وہ پاکستان، کے جغرافیائی اہمیت کے گیت گاتے ہمارے حکمرانوں کی زبانیں نہیں تھکتی أءی ہیں۔،لیکن ان ہی غلط فیصلوں اور منصوبوں کے پیش نظر آج اپنے ہی بوئے ہوئے کانٹوں کی فصل کاٹنے میں مصروف عمل ہیں۔ ہم ملکی سیاست کی چودھراہٹ، ناختم ہونے والے معاشی بحران، دہشت گردی کی بھیانک دلدل اور اندرونی و بین الاقوامی مسائل کی ایسی بھول بھلیوں میں الجھ چکے ہیں کہ عوام تو دور، ریاست کی ترجیحات سے بھی “ترقی” کا لفظ ہی غائب ہو چکا ہے۔
حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس اندرونی خلفشار کا سب سے بڑا نقصان ہمیں اپنے پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات کی بگاڑ کی صورت میں اٹھانا پڑا۔ جس افغانستان کو ہم کبھی اپنا “بیک یارڈ” سمجھتے تھے، آج اسی افغانستان نے پاکستان پر انحصار ختم کر کے چین، وسطی ایشیا اور یورپ تک تجارت کی ایسی نئی شاہراہوں پر اپنے قدم جما لیے ہیں کہ ہمارے نام نہاد دانشور اور تجربہ کار بس ہاتھ ملتے رہ گئے ہیں۔
افغانستان اور چین کے درمیان قائم ہونے والا نیا ریلوے کوریڈور محض ایک تجارتی راستہ نہیں، بلکہ خطے کی بدلی ہوئی جیو-پولیٹکس کا واضح ثبوت ہے۔ جہاں ہم اپنی سرحدوں پر باڑ لگانے اور اکھاڑنے کے عمل میں مصروف رہے، وہیں افغان-چین تعلقات ایک بالکل نئی اور جدید شاہراہ پر گامزن ہو چکے ہیں۔
اس پورے تجارتی نیٹ ورک کا جامع خلاصہ اور حقیقت کچھ یوں ہے:
• چین سے افغانستان کا سفر (وسطی ایشیائی کوریڈور): چین کے صنعتی شہروں (لینی اور کاشغر) سے مال بردار ٹرینیں روانہ ہوتی ہیں یہ کارگو قازقستان اور ازبکستان کے جدید ریلوے ٹریکس سے گزرتا ہوا، ازبک سرحد پر واقع ترمذ کے راستے براہِ راست افغانستان کی حیرتان بندرگاہ (بلخ) تک پہنچ رہا ہے۔ اس روٹ نے پاکستان کے راستے ہونے والی روایتی افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کی افادیت کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔
• افغانستان سے ترکیہ اور یورپ کا راستہ (خواف-ہرات لنک): افغانستان اب صرف چین تک محدود نہیں رہا۔ مغرب کی جانب افغانستان نے ایران کے تعاون سے خواف-ہرات ریلوے لائن کو فعال کر دیا ہے ۔ ہرات سے چلنے والی افغان ٹرینیں ایران کے مرکزی ریلوے نیٹ ورک کو عبور کرتی ہوئی ترکیہ کی اہم ترین تجارتی بندرگاہ مرسین (Mersin) تک جا رہی ہیں۔ یہاں سے یہ سامان بحری اور زمینی راستے کے ذریعے چند دنوں میں یورپ کی مارکیٹوں میں اتر جاتا ہے۔
• پانچ قوموں کا ریلوے کوریڈور (FNRC): اس نیٹ ورک کو مستقل اور مزید تیز رفتار بنانے کے لیے چین، کرغیزستان، تاجکستان، افغانستان اور ایران مل کر ایک مشترکہ کوریڈور پر کام کر رہے ہیں، جو مستقبل میں جنوبی ایشیا (پاکستان) کو بائی پاس کرتے ہوئے براہِ راست مشرقِ وسطیٰ اور یورپ کو چین سے جوڑ دے گا۔
یہ صورتحال پاکستان کے لیے ایک بہت بڑا لمحہ فکریہ ہے۔ جب تک ہم دہشت گردی کے خاتمے، سیاسی استحکام اور معاشی خود انحصاری کی طرف سنجیدہ قدم نہیں اٹھائیں گے اور اپنے پڑوسیوں کے ساتھ اقتصادی روابط کو ترجیح نہیں دیں گے، تب تک دنیا ہمیں اسی طرح پیچھے چھوڑ کر آگے بڑھتی رہے گی۔ افغانوں نے ثابت کر دیا ہے کہ راستے بند نہیں ہوتے، بس نیت اور درست حکمتِ عملی کی ضرورت ہوتی ہے۔
اللہ کرے گوربر راج ایمرجینسی کے بعد فیلڈ مارشل کی کوششیں امن اور معاشی حوالے سے رنگ لے أییں تاکہ یہاں کے باسی بھی خوشحالی کا چہرہ دیکھ سکیں۔
بشکریہ عدنان بلخی
