بشارت از مبشرالملک

والعصر۔۔۔ وقت کی قسم!۔۔وقت کی ناقدری، سیاسی رویے اور اجتماعی زوال کا نوحہ۔۔تحریر: مبشراملک

وَالْعَصْرِ ۝ إِنَّ الْإِنْسَانَ لَفِي خُسْرٍ

قسم ہے زمانے کی! بے شک انسان خسارے میں ہے۔

سورۂ عصر کی یہ مختصر مگر جامع آیات انسانی زندگی کا ایسا آئینہ ہیں جس میں انفرادی کردار سے لے کر اجتماعی رویوں، قومی زوال اور تہذیبی انحطاط تک سب کچھ دیکھا جاسکتا ہے۔

وقت کی قسم! انسان خسارے میں ہے۔ مگر یہ خسارہ صرف مال و دولت، اقتدار یا دنیاوی کامیابی کے چھن جانے کا نام نہیں۔ یہ اس انسان کا خسارہ بھی ہے جس نے زمانے کا احساس نہیں رکھا، ماضی میں وقت کی قدر نہ کی، حال سے عبرت حاصل نہ کی کہ وقت نکلتا جا رہا ہے، اور مستقبل کے بارے میں غور و فکر نہ کیا کہ دنیا میں اس کا انجام کیا ہوگا اور اگر موت آگئی تو اپنے رب کے سامنے کیا جواب دے گا؟

بے شک وقت خشک ریت کی طرح ہاتھ سے نکلتا جا رہا ہے اور ہمیں کوئی احساس ہی نہیں۔ ہم گزرے ہوئے کل پر ماتم کرتے ہیں، آج کو تماشے میں گزار دیتے ہیں اور آنے والے کل کے لیے کوئی تیاری نہیں کرتے۔

اللہ تعالیٰ نے اسی سورۂ عصر میں خسارے سے نکلنے کے چار راستے بھی بتائے ہیں: ایمان، عمل صالح، حق کی تلقین اور صبر کی نصیحت۔ گویا محض وقت کا گزرنا خسارہ نہیں، بلکہ وقت گزرنے کے باوجود انسان کا اپنی اصلاح نہ کرنا اصل خسارہ ہے۔

یہ ٹرمپ، یاہو ٹائپ لوگ جو طاقت اور اقتدار کو اپنے لیے سب سے بڑا ہتھیار سمجھ کر انسانیت کے لیے ناسور بننے ہوئے ہیں، انہیں شاید یہ احساس نہیں کہ اقتدار دائمی نہیں ہوتا۔ طاقت کا نشہ بھی وقت کی گردش کے سامنے زیادہ دیر قائم نہیں رہتا۔ جب انسانیت نواز عوام ان کی جابرانہ پالیسیوں کو مسترد کرتے ہیں تو یہ بھی وقت کی گردش ہی ہے۔ کل کے طاقت ور آج عوامی نفرت اور عالمی تنقید کا نشانہ بن سکتے ہیں۔ تاریخ کا یہی سبق ہے کہ ظلم کی عمر کتنی ہی طویل کیوں نہ ہو، وہ ہمیشہ کے لیے نہیں ہوتا۔

پاکستانی بھی عجیب جذباتی لوگ ہوتے ہیں۔ امریکہ میں تبدیلیوں سے ایسی توقعات وابستہ کر لیتے ہیں کہ اپنا ہی بیڑا غرق کرتے ہیں۔ بائیڈن کے جانے پر نونی ماتم، ٹرمپ کے آنے پر انصافی مٹھائیاں، پھر شہباز شریف کی سفارتی کامیابیوں کے چرچے، نوبل تمغوں کی امیدیں، اور کبھی “وڈ لائک ٹو سلوٹ یو” کے نعرے!

اب حالات بدلیں تو ماتم اور جشن کے ملے جلے مناظر!

سوال یہ ہے کہ کیا کسی دوسرے ملک کے صدر کی آمد و رفت ہماری قومی تقدیر کا فیصلہ کرتی ہے؟ کیا ہماری خوش حالی، خود مختاری اور ترقی کا انحصار وائٹ ہاؤس کے مکینوں پر ہے؟ یا ہمیں اپنے گھر کی خبر بھی لینی چاہیے؟

پاکستان کی تاریخ بھی وقت کی ناقدری کی داستان رکھتی ہے۔ ہم نے تاریخ سے سبق سیکھنے کے بجائے تاریخ کو بار بار دہرایا ہے۔

جب سے ہوش سنبھالا، گھر میں رسالہ تکبیر، زندگی، حرمت اور نوائے وقت میں امیرالمؤمنین جنرل ضیاء کے چرچے تھے۔ قومی مفاد کے نام پر بھٹو، پھر نصرت، بے نظیر، غفار خان ،ولی خان غدار، کرپٹ، نہ جانے کیا کیا تھے۔ دوسری طرف فیڈر اور کئی چوسنیوں کے ساتھ نواز شریف کو نوازے جا رہے تھے۔ پھر وہ ہائی جیکر بنے، کرپٹ ٹھہرے۔

اچانک پالیسی ساز دونوں برائیوں کو دفنانے کے لیے خان اعظم تراش لاے ۔

لیکن جلد ہی وہ اسٹار فش کی طرح معدے کے لیے انگارے کا سبب بنے تو انگلیاں منہ میں ڈال کر اگلنا پڑا۔ قومی ہیرو پر کیا کیا الزامات تھے جو نہیں لگے!

اب حضرت مولانا اور ان کے رفقا پر یہ دور ابتلا آیا ہوا ہے کہ دہشت گرد، خائن، کرپٹ، مافیا، غرض جتنے بھی جرائم کے تمغے ہیں، وہ مولانا اور ان کی جماعت کے سینے پر لگائے جا رہے ہیں۔ حالانکہ مولانا کو نوازنے والے بھی کوءء اور نییں ییی حکمران ہیں ۔جس طرح دہشت گردی کے بیانیے جے اندر تجاویزات مہم جاری ہے بناتے وقت بھی یہی ادارے موجود تھے مگر خاموش اب شہر غزا کا منظر کیوں؟

یہی تو ہماری سیاسی تاریخ کا المیہ ہے کہ کل کا ہیرو آج کا ولن اور آج کا نجات دہندہ کل کا مسئلہ بن جاتا ہے۔ کردار بدلتے ہیں، چہرے بدلتے ہیں، نعرے بدلتے ہیں، مگر ہماری سیاسی سوچ اور رویے نہیں بدلتے۔

کیوں کہ ہم وقت کی قدر نہیں جانتے۔ ہم شخصیات کے سحر میں مبتلا رہتے ہیں، اصولوں کو بھول جاتے ہیں۔ ہم اپنے پسندیدہ رہنما کی ہر غلطی کو قومی مفاد اور مخالف کی ہر خوبی کو سازش قرار دیتے ہیں۔ یہی رویہ قوموں کو فکری غلامی کی طرف لے جاتا ہے۔

یہ جارحانہ پالیسیاں، بیرونی یلغار، نسلی، قومی، سیاسی، مذہبی اور مسلکی تعصبات کے میزائل اگر واقعی کسی قوم کی ترقی کا راستہ ہوتے تو آج دنیا کے طاقت ور ترین ممالک بھی امن و سکون کی تلاش میں نہ ہوتے۔ ٹرمپ ہو یا یاہو، خان ہو یا کوئی اور، تاریخ کسی کو ہمیشہ کے لیے طاقت ور نہیں رکھتی۔ وقت کا پہیہ گھومتا ہے اور تخت و تاج زمین بوس ہو جاتے ہیں۔

قرآن ہمیں بار بار قوموں کے عروج و زوال کی داستانیں سناتا ہے۔ فرعون کے پاس اقتدار تھا، لشکر تھے، خزانے تھے، مگر تکبر نے اسے عبرت کا نشان بنا دیا۔ قارون کے پاس دولت تھی، مگر دولت اسے بچا نہ سکی۔ قوم عاد اپنی قوت پر نازاں تھی، قوم ثمود اپنی تعمیرات پر فخر کرتی تھی، مگر جب انہوں نے حق سے منہ موڑا تو ان کی طاقت اور شان و شوکت تاریخ کے صفحات میں عبرت بن کر رہ گئی۔

یہی وقت کا پیغام ہے!

اقتدار، دولت، شہرت اور طاقت سب عارضی ہیں۔ باقی وہی رہتا ہے جو انسانیت کے لیے نفع بخش ہو۔ کسی حکمران کا اصل امتحان اس کی تقریروں، نعروں اور تصویروں سے نہیں بلکہ اس کے اعمال، انصاف اور عوام کی زندگیوں سے ہوتا ہے۔

لہٰذا وقت کی قسم!

اپنے اندرونی معاملات درست کیجیے۔ اپنے اختلافات کو دشمنیوں میں تبدیل نہ کیجیے۔ سیاسی اختلاف کو ذاتی عداوت، مذہبی اختلاف کو نفرت اور قومی شناخت کو تعصب کا ذریعہ نہ بنائیے۔

ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ قومیں بیرونی دشمنوں سے اتنا نقصان نہیں اٹھاتیں جتنا اندرونی انتشار، ناانصافی، بدعنوانی اور باہمی نفرت سے اٹھاتی ہیں۔

محبت، امن، برداشت اور بھائی چارے کو فروغ دیجیے۔ اپنے بچوں کو نفرت نہیں، شعور دیجیے۔ اپنے نوجوانوں کو شخصیت پرستی نہیں، کردار سازی سکھائیے۔ حکمرانوں سے سوال کیجیے، مگر اپنے گریبان میں جھانکنا بھی نہ بھولیے۔

وقت کسی کے لیے نہیں رکتا۔ نہ ٹرمپ کے لیے، نہ یاہو کے لیے، نہ کسی جنرل، سیاست دان، عالم یا حکمران کے لیے۔ آج جس کے ہاتھ میں اختیار ہے، کل وہ تاریخ کا ایک باب ہوگا۔

ایسا نہ ہو کہ ہم دوسروں کے زوال پر جشن مناتے رہ جائیں اور اپنی تباہی کی آہٹ بھی نہ سن سکیں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ کل ہماری دھرتی ماں بھی برباد ہو اور ہماری آخرت بھی!

والعصر! وقت کی قسم، ابھی بھی وقت ہے کہ ہم سنبھل جائیں۔

زر الذهاب إلى الأعلى
Ads Blocker Image Powered by Code Help Pro

Ads Blocker Detected!!!

We have detected that you are using extensions to block ads. Please support us by disabling these ads blocker.

Powered By
100% Free SEO Tools - Tool Kits PRO