
حوثی ہیں کون؟ یمن، زیدیہ اور مستقبل کا سوال؟۔۔تحریر۔مبشرالملک
آج کل یمن اور حوثی دنیا بھر کے میڈیا کی زینت بنے ہوئے ہیں۔ فلسطین اور غزہ کے معاملے میں حوثیوں نے اسرائیل کے خلاف میزائل اور ڈرون حملے کیے اور فلسطینیوں کی حمایت کو اپنی علاقائی پالیسی کا نمایاں حصہ بنایا ہے۔
دوسری طرف سعودی عرب کے ساتھ تقریباً ایک دہائی تک جاری رہنے والی جنگ نے یمن کو شدید انسانی اور بنیادی ڈھانچے کے بحران سے دوچار کیا۔ اس جنگ میں ہزاروں لوگ مارے گئے اور شہری آبادی، مساجد، اسکولوں اور دیگر تنصیبات کو بھی نقصان پہنچا۔ یمن آج بھی اس طویل جنگ کے اثرات سے نکلنے کی کوشش کر رہا ہے۔
حالیہ برسوں میں حوثی ایک مقامی یمنی تحریک سے بڑھ کر خطے کی ایک نمایاں مسلح قوت بن چکے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ آخر یہ حوثی ہیں کون؟
حوثیوں کا اصل نام انصار اللہ ہے۔ ان کی جڑیں شمالی یمن کے زیدی شیعہ معاشرے میں ہیں اور تحریک کا نام حوثی خاندان سے نکلا۔ اس تحریک کے ابتدائی نمایاں رہنما حسین بدرالدین حوثی تھے، جبکہ آج عبدالملک حوثی اس کے قائد ہیں۔
یہاں زیدیہ کو سمجھنا ضروری ہے۔ زیدیہ شیعہ اسلام کی ایک قدیم شاخ ہے، لیکن اثنا عشری شیعہ سے اس کے عقائد مختلف ہیں۔ زیدی بارہ مخصوص ائمہ اور ائمہ کی عصمت کے قائل نہیں۔ ان کی مذہبی و سیاسی روایت شمالی یمن میں صدیوں تک قائم رہی اور 1962ء میں زیدی امامت کے خاتمے کے ساتھ اس دور کا اختتام ہوا۔
حوثیوں کی موجودہ تحریک اسی زیدی ماحول سے نکلی، اگرچہ موجودہ حوثی تحریک کو قدیم زیدیت کا عین تسلسل سمجھنا بھی درست نہیں۔ وقت کے ساتھ اس میں نئے سیاسی اور علاقائی عناصر شامل ہوئے۔ ایران کی حمایت نے بھی ان کی عسکری صلاحیت میں اضافہ کیا، تاہم حوثیوں کو محض ایران کی ایک شاخ قرار دینا ان کی مقامی تاریخی جڑوں کو نظرانداز کرنا ہوگا۔
یمن اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی کی ایک وجہ سرحدی اور علاقائی تنازعات بھی رہی ہے، جبکہ مذہبی اور سیاسی اختلافات نے اس کشمکش کو مزید پیچیدہ کیا۔ اس لیے موجودہ تنازع کو صرف سنی شیعہ جنگ کہنا بھی یمن کی پوری تاریخ کی ترجمانی نہیں کرتا۔
لیکن یمن کی تاریخ کا ایک روحانی پہلو بھی ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے اہل یمن کے بارے میں فرمایا:
«الإيمان يمان والحكمة يمانية»
یعنی ایمان یمنی ہے اور حکمت یمانی ہے۔
آج جب فلسطین، غزہ، اسرائیل، امریکہ اور مشرق وسطیٰ کی جنگیں ایک دوسرے سے جڑتی دکھائی دیتی ہیں اور یمن ایک مرتبہ پھر علاقائی طاقت کے طور پر نمایاں ہے، تو بعض ذہنوں میں آخری زمانے کی روایات بھی تازہ ہوتی ہیں: دجال، حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور امام مہدی کا ظہور۔
سوال پیدا ہوتا ہے:
کیا یمن کا یہ ابھرتا ہوا کردار مستقبل کے کسی بڑے دینی واقعے سے بھی متعلق ہوسکتا ہے؟
یہاں احتیاط ضروری ہے۔ احادیث میں امام مہدی کے ظہور کا ذکر ضرور ملتا ہے، لیکن ایسی صحیح اور صریح حدیث موجود نہیں جس کی بنیاد پر یہ کہا جائے کہ امام مہدی لازماً یمن ہی سے ظاہر ہوں گے۔ اس لیے موجودہ حوثی طاقت کو امام مہدی کے ظہور کی قطعی علامت قرار دینا درست نہیں۔
البتہ یمن کے بارے میں رسول اللہ ﷺ کے ارشادات، اس سرزمین کی قدیم دینی روایت، اہل بیت سے وابستہ زیدی ائمہ کی صدیوں پر محیط تاریخ اور آج کے یمن کا دوبارہ عالمی سیاست کے مرکز میں آنا، یقیناً ایک ایسا موضوع ہے جس پر تاریخ، حدیث اور سیاست کے طالب علم مزید غور کر سکتے ہیں۔
سوال اب بھی وہی ہے: حوثی ہیں کون؟
شاید اس سوال کا جواب صرف آج کی جنگ میں نہیں، بلکہ یمن کی صدیوں پرانی تاریخ میں پوشیدہ ہے۔
