بشارت از مبشرالملک

واعتصموا بحبل اللہ جمیعا ولا تفرقوا۔۔۔تحریر۔مبشرالملک۔

آج کا سوشل میڈیا کاسب سے بڑا مسئلہ
دیوبند کےبزرگ عالم اور تحریک ختم النبوت کے عظیم قاید ۔فتنہ قادیان کے معروف شمشر زن ۔مولانا حضرت اللہ وسایا دام براکات نے ۔۔۔۔ علماء دیوبند پہ لگنے والے ۔۔۔ ناصبیت کے بہتان کو مٹانے کے لیے ’’احتسابِ ناصبیت‘‘ کے نام سے اکابر کی تحریریں بارہ جلدوں پر مشتمل ترتیب دی تو اس کے جواب میں بعض اہل علم ۔۔۔اسے یا اس کے موقف کو کفر، جہنم یا گستاخی سے جوڑ دیتے ہیں تو ہمیں رونا اتا ہے۔
گزشتہ تحریر ۔۔دعوت تبلیغ ۔۔۔ کے حوالے سے میں نے کچھ مدارس اور علماء کے حوالے گلہ کیا فرقہ واریت کا تو بہت سے دوست سیخ پا ہوگیے ۔کچھ نے گالیان کچھ نے دھمکیاں اور کچھ نے جہالت اور کچھ نے ادلم سے بے دخلی تک بات بڑھاءی تو نہت دکھ ہوا مگر اج اسی کی جھلک ۔۔۔ ان ہی کے میزایل بردار انی کے اکابیرین پر برسانے لگے تو خوشی ہوی کہ ہم مولانا حضرت اللہ وسایا دام براکات کے جوتے کے برابر نہ ہوتے ہوے بھی ان سے بھی پہلے یہ اعزاز پاگیے۔
میرے مسلمان بھایوں ہمیں رک کر سوچنا چاہیے۔
اگر اعتراض اس ضخیم کتب کے مواد پر ہے تو:
فلاں عبارت غلط ہے۔
کہنا چاہیے تھا۔
اگر عبارت کا مطلب غلط سمجھا گیا ہے تو:
اس کا سیاق و سباق یہ ہے۔
بتائیے۔
اگر کتاب میں حوالہ غلط ہے تو:
اصل کتاب کا درست حوالہ یہ ہے۔
پیش کیجیے۔
لیکن اگر جواب صرف یہ ہو:
’’یہ شخص گستاخ ہے، کافر ہے، جہنمی ہے‘‘
تو علمی سوال اپنی جگہ قائم رہتا ہے۔

سوال یہ ہے۔

کیا یہ اکابر سے اختلاف نہیں؟
اگر آج کوئی عالم حضرت علیؓ اور معاویہؓ کے معاملے میں ایسا موقف اختیار کرتا ہے جو اس کے اپنے مکتب کے سابق اکابر کی تحریروں سے مختلف ہے تو اسے اپنے موقف کی دلیل دینی چاہیے۔
یہ کہنا کافی نہیں کہ:
’’ہم بھی دیوبندی ہیں، اس لیے ہمارا موقف دیوبند کا موقف ہے۔‘‘
دیوبند کسی ایک موجودہ خطیب کا نام نہیں۔
دیوبند ایک صدی سے زیادہ پرانی تابندہ علمی روایت کا نام ہے۔
اس روایت میں قاسم نانوتویؒ بھی ہیں، رشید احمد گنگوہیؒ بھی، اشرف علی تھانویؒ بھی، حسین احمد مدنیؒ بھی اور بعد کے بے شمار علماء بھی۔
لہٰذا اکابر کے اختلافات کو چھپا کر ایک یک رنگ ’’دیوبندی موقف‘‘ بنا دینا خود تاریخ کے ساتھ انصاف نہیں۔

اکابر کے بعد کیا بدلا؟

یہاں اصل سوال شروع ہوتا ہے۔
اگر ابتدائی دیوبندی اکابر اہلِ بیت کی محبت اور حضرت علیؓ کی عظمت کے قائل تھے، تو پھر بعد کے بعض حلقوں میں ایسا سخت بیانیہ کیوں پیدا ہوا جس میں حضرت معاویہؓ کے دفاع کو اس حد تک بڑھایا گیا کہ حضرت علیؓ کے تاریخی موقف پر گفتگو بھی قابلِ اعتراض قرار دی جانے لگی؟
اس تبدیلی کے اسباب ایک نہیں تھے۔
پاکستان کی سیاسی تاریخ، ایران کے انقلاب، سعودی عرب اور ایران کی علاقائی کشمکش، افغانستان کی جنگ، ضیاء الحق کا دور، مدارس کی سیاست اور فرقہ وارانہ تنظیموں کا ابھرنا—سب نے اس ماحول کو متاثر کیا۔
لیکن ان تاریخی عوامل کا مطلب یہ نہیں کہ ہر دیوبندی عالم یا ہر دیوبندی مدرسہ اس سیاست کا حصہ تھا۔
یہ فرق قائم رکھنا ضروری ہے۔

امت کو کہاں کھڑا ہونا چاہیے؟

امت کو دو انتہاؤں سے بچنا ہوگا۔
ایک طرف:
اہلِ بیت کی تنقیص۔
دوسری طرف:
صحابہ کی تنقیص۔
دونوں کے بجائے ایک متوازن راستہ اختیار کیا جاسکتا ہے:
اہلِ بیت سے محبت، صحابہ کا احترام، قرآن و سنت کی پیروی اور تاریخ کے واقعات میں علمی انصاف۔
حضرت علیؓ سے محبت کے لیے کسی صحابی کو برا کہنا ضروری نہیں۔
حضرت معاویہؓ کا احترام کرنے کے لیے حضرت علیؓ کے مقام کو گھٹانا بھی ضروری نہیں۔
اور صفین کے تاریخی واقعات پر گفتگو کرنے کے لیے کسی صحابی کی توہین بھی ضروری نہیں۔

بات جو میرے دل کی ہے وہ یہی ہے کہ
ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم شخصیات کے دفاع کے لیے تاریخ کو بدلیں گے یا تاریخ کو سمجھنے کے لیے شخصیات کے بارے میں انصاف کریں گے۔
اگر حدیث میں ’’فئۃ باغیہ‘‘ کا لفظ موجود ہے تو اسے پڑھا جائے۔
اگر حضرت علیؓ خلیفۂ راشد تھے تو اس حقیقت کو تسلیم کیا جائے۔
اگر حضرت معاویہؓ صحابی تھے تو ان کی صحابیت اور حرمت کا احترام کیا جائے۔
اگر اکابرِ دیوبند نے اہلِ بیت کے دفاع میں کچھ لکھا ہے تو اسے بھی پڑھا جائے۔
اور اگر بعد کے کسی عالم نے اپنے اکابر سے مختلف رائے اختیار کی ہے تو اسے اختلاف کی علمی بنیاد بیان کرنی چاہیے۔
امت اس وقت نہیں ٹوٹتی جب ہم تاریخ کے مشکل سوال پوچھتے ہیں؛ امت اس وقت ٹوٹتی ہے جب ہم سوال پوچھنے والے کو دشمن، کافر یا جہنمی قرار دے کر سوال ہی ختم کردیں۔
اہلِ بیت اور صحابہ کو ایک دوسرے کے مقابل کھڑا کرنا رسول اللہ ﷺ کی امت کی ضرورت نہیں۔
ہمیں ایسی زبان چاہیے جو کہے:
علیؓ سے محبت بھی ہماری ہے، اہلِ بیت کی عظمت بھی ہماری ہے، صحابہ کا احترام بھی ہماری ذمہ داری ہے، اور تاریخ میں جو کچھ ہوا اسے قرآن و سنت کے میزان پر سمجھنا بھی ہمارا حق ہے۔
یہی وہ راستہ ہے جس سے اللہ کی رسی دوبارہ مضبوطی سے تھامی جاسکتی ہے، اور امت کو شخصیتوں کی جنگ سے نکال کر حق، عدل اور محبت کی طرف لایا جاسکتا ہے۔

زر الذهاب إلى الأعلى
Ads Blocker Image Powered by Code Help Pro

Ads Blocker Detected!!!

We have detected that you are using extensions to block ads. Please support us by disabling these ads blocker.

Powered By
100% Free SEO Tools - Tool Kits PRO

اشتہارات بند کیوں ہیں؟۔

براہِ کرم ہمارے پلیٹ فارم کو سپورٹ کرنے کے لیے اشتہارات کو روکنے والی ایپ بند کر دیں۔ آپ کی معاونت ہمارے لیے اہم ہے۔