بشارت از مبشرالملک

دنیا کہاں جارہی ہے۔۔۔ ہمیں محتاط رہنا ہوگا۔۔تحریر۔مبشرالملک

دنیا اس وقت ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں ایک طرف ترقی، تجارت اور جدید ٹیکنالوجی کا سفر جاری ہے، تو دوسری طرف جنگوں، طاقت کی کشمکش اور عالمی کشیدگی نے مستقبل کو غیر یقینی بنا دیا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان ہونے والی جنگ نے صرف خطے کو نہیں، پوری دنیا کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ اگلا بحران کہاں جنم لے سکتا ہے۔

ایران کو اس جنگ میں اپنی جوہری، فوجی اور میزائل تنصیبات کے ساتھ انسانی جانوں کا بھاری نقصان اٹھانا پڑا، جبکہ اسرائیل کو بھی میزائل حملوں سے جانی، صنعتی اور شہری نقصانات ہوئے۔ امریکہ نے ایران کی اہم جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا، لیکن امریکی فوجیوں کا جانی نقصان محدود رہا۔ جنگ کے نتیجے پر امریکی اور اسرائیلی خفیہ اداروں کے ابتدائی اندازوں میں بھی مکمل اتفاق نہیں تھا؛ بعض امریکی اندازوں کے مطابق ایرانی جوہری پروگرام کو چند ماہ پیچھے دھکیلا گیا، جبکہ اسرائیلی حکام نے نقصان کو کئی سال کا قرار دیا۔

اس جنگ نے ایک اور حقیقت واضح کردی: آج کی جنگ صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہتی۔ میزائل ایک ملک سے دوسرے ملک تک پہنچتے ہیں، آبنائے ہرمز جیسی سمندری گزرگاہیں خطرے میں آتی ہیں، تیل کی قیمتیں متاثر ہوتی ہیں اور اس کے اثرات پاکستان جیسے دور کے ممالک کی معیشت، پٹرول، بجلی اور مہنگائی تک پہنچ سکتے ہیں۔

اسی لیے ’’گریٹر اسرائیل‘‘ جیسے تصورات اور مغربی کنارے میں اسرائیلی کنٹرول بڑھانے کی کوششوں کو بھی دنیا تشویش کی نگاہ سے دیکھ رہی ہے۔ تاہم ہر نقشے یا سیاسی نعرے کو مستقبل کا یقینی نقشہ سمجھ لینا درست نہیں۔ اصل حقیقت زمینی اقدامات، عالمی ردعمل اور آنے والے سیاسی فیصلوں سے طے ہوگی۔

اب سوال پاکستان کا ہے۔

پاکستان کو اس بدلتی ہوئی دنیا میں جذبات سے زیادہ حکمت کی ضرورت ہے۔ ہمیں کسی ایسی جنگ کا حصہ نہیں بننا چاہیے جو ہماری اپنی سرزمین، معیشت اور عوام کے لیے نیا بحران پیدا کردے۔ ایران ہمارا ہمسایہ ہے، جبکہ سعودی عرب، امارات، قطر اور دوسرے خلیجی ممالک ہمارے معاشی اور انسانی تعلقات کے اہم مراکز ہیں۔ سعودی عربیہ۔اور امارت اسلامیہ جیسے پرکشش ریاستوں کے دو شیزادوں کے ذاتی معاشی مفاد کے کھیل نے بہت پیچیدگی پیدا کردی ہے۔اور عالمی طاقتین بھی ان ہی اختلافات کو ہوا دیتی بھی ہیں اور انہیں گلے بھی لگاتے ہیں اسلحہ بھی فروخت کرتے ہیں اور ان کے پیٹ میں چھرا بھی مارتے ہیں مگر یہ بیدار نہیں ہوتے کافر دوست پہ انحصار کے یہی نتایج نکل ہیں جو سعودیہ کو دہیش ہے کہ امریکہ ،برطانیہ ، اسرایل ۔بلکہ کیی اور دروازوں پہ دستک دی مگر مکار دوست امادہ نہیں ۔اب شعیہ سنی نفرت کی اگ بڑھکاءی جا چکی ہے جو کام نیٹو ۔امریکہ ۔اسرایل ایران ،یمن پر مدتوں کی بمباری سے حاصل نہ کر سکے وہ بیس فٹ کی چھتوں سے اپنے عراقی۔ایران ۔یمن۔خطہ عرب میں چھپے ایجنٹوں سے ڈرون اڑا کر سعودیہ اور شعیہ کے مایعین جنگ کروانے میں کا میاب ہوتے جارہے ہیں ۔

    خود کو مسلمان کہنے والا کتنا ہی گنہگار کیوں نہ ہو وہ کعبہ شریف کو اپنا قبلہ مانتا ہے وہ کبھی بھی مکہ و مدینہ کی جانب غلط نگاہ سے نہیں دیکھ سکتا۔

کسی بھی جنگ کو اسلامی ٹچ دینا مسلمان حکمراوں کی روایت ہی نہیں مجبوری رہی ہے ۔عرب اس میں صف اول میں رہے ہیں ۔صدام نے امریکہ کے اشارے پہ ایران پر حملہ کیا تو عالم اسلام کا ہیرو بنا جب کویت میں داخل ہوا تو یہی عرب حکمران اسے ۔۔۔ ابرہہہ ۔۔ کہنے لگے۔

         اسی طرح امریکہ اور چین بھی پاکستان کے لیے اہم عالمی شراکت دار ہیں۔ اس لیے ہماری خارجہ پالیسی میں توازن، سفارت کاری اور قومی مفاد بنیادی اصول ہونے چاہئیں۔جو اب تک کامیابی سے جاری رہے ہیں۔

اور اگر خدانخواستہ مسلم ممالک کے درمیان مفادات کا ٹکراؤ بڑھ جائے، یا شیعہ سنی اختلاف کسی بڑے مسلح تصادم کی شکل اختیار کرلے، تو پاکستان کو کسی ایک فریق کا حصہ بننے کے بجائے سفارت کاری کے ذریعے باہمی صلح اور کشیدگی کم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ پاکستان کا کردار آگ میں تیل ڈالنے والا نہیں بلکہ آگ بجھانے والے ملک کا ہونا چاہیے۔ کسی ایسے ’’یمنی ٹریپ‘‘ میں نہیں گرنا چاہیے جہاں دوسروں کی جنگ ہمارے لیے نئی جنگ بن جائے۔زیادہ سے زیادہ مکہ مدینہ کے دفاع کے لیے تیار رہنا چاہیے انہیں خطرہ امریکن اور اسرایل سے ہی ہیں اور وہ ضرور مسلمانوں کو اپس میں لڑانے کو یہ حرکت کریں گے۔

یہ احتیاط اس لیے بھی ضروری ہے کہ پاکستان پہلے ہی افغانستان اور بھارت کے ساتھ سرحدی کشیدگی جیسے چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔ ایسے ماحول میں ایک اضافی علاقائی یا فرقہ وارانہ محاذ پاکستان کی سلامتی اور معیشت دونوں کے لیے شدید مشکلات پیدا کرسکتا ہے۔اس اندرونی خلفشار سے ماما ٹرمپ بھی بلوچستان ۔کشمیر ۔خواریج کے ہاتھ انڈیا سے مل کے گرم رکھ سکتا ہے ۔اس نے عرب کے ساتھ جو کچھ کیا اس نوبل کے امیدوار سے خیر کی توقع رکھنا کم عقلی کی انتہاء تصور ہوگی۔

پاکستان کو خاص طور پر اپنے تیل کے ذخائر، زرمبادلہ، خوراک اور بیرونِ ملک پاکستانیوں کی ترسیلات کے بارے میں پہلے سے منصوبہ بندی کرنا ہوگی۔ جنگ ختم ہونے کا انتظار کرنے کے بجائے ممکنہ بحران سے پہلے تیاری کرنا ہی دانشمندی ہے۔

دنیا شاید کسی نئی عالمی جنگ کی طرف بڑھ رہی ہو، شاید موجودہ کشیدگیاں مذاکرات کے ذریعے کم ہوجائیں—اس کا حتمی فیصلہ آج کوئی نہیں کرسکتا۔ لیکن ایک بات ہمارے اختیار میں ضرور ہے: ہم حالات کو نظر انداز نہ کریں۔

دنیا بدل رہی ہے۔ طاقت کے مراکز بدل رہے ہیں۔ جنگ کا انداز بدل رہا ہے۔ ایسے وقت میں پاکستان کے لیے سب سے محفوظ راستہ یہی ہے کہ وہ اپنی معیشت مضبوط کرے، اپنے داخلی اختلافات کم کرے، اپنی سرحدیں محفوظ رکھے اور خارجہ پالیسی میں دانش مندی کا مظاہرہ کرے۔

کیونکہ مشکل وقت میں صرف بہادر قومیں نہیں، محتاط اور دوراندیش قومیں بھی زندہ رہتی ہیں۔

زر الذهاب إلى الأعلى
Ads Blocker Image Powered by Code Help Pro

Ads Blocker Detected!!!

We have detected that you are using extensions to block ads. Please support us by disabling these ads blocker.

Powered By
100% Free SEO Tools - Tool Kits PRO

اشتہارات بند کیوں ہیں؟۔

براہِ کرم ہمارے پلیٹ فارم کو سپورٹ کرنے کے لیے اشتہارات کو روکنے والی ایپ بند کر دیں۔ آپ کی معاونت ہمارے لیے اہم ہے۔