
بدعت کا الجھن۔۔تحریر۔مبشر الملک
لگ بھگ تیس پینتیس برس سے مذہب، تاریخ اور معاشرتی موضوعات کے دشت کی طالب کی حیثیت سے صحرا نوردی کے بعد۔۔۔۔ ایک سوال بار بار ذہن میں آتا ہے: بدعت آخر ہے کیا؟ اور اس سے بھی اہم سوال یہ ہے کہ جو چیز ایک دور میں بدعت سمجھی گئی، وہی وقت گزرنے کے ساتھ مسلمانوں کے مذہبی معمولات کا حصہ کیسے بن گئی؟
رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے:
“وَإِيَّاكُمْ وَمُحْدَثَاتِ الْأُمُورِ، فَإِنَّ كُلَّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ”
یعنی دین میں نئے پیدا کیے گئے امور سے بچو، کیونکہ ہر بدعت گمراہی ہے۔ یہ حدیث اپنی جگہ بالکل واضح ہے۔ لیکن اسی کے ساتھ حضرت عمرؓ کا وہ مشہور قول بھی سامنے رکھنا چاہیے جب انہوں نے لوگوں کو تراویح کے لیے ایک امام کے پیچھے جمع دیکھا تو فرمایا:
“نِعْمَتِ الْبِدْعَةُ هَذِهِ”
“یہ کتنی اچھی بدعت ہے۔”
بظاہر دونوں باتیں متضاد محسوس ہوتی ہیں، مگر حقیقت میں ایسا نہیں۔ حدیث میں بدعتِ دینی یعنی دین میں ایسی نئی عبادت یا طریقہ ایجاد کرنے سے ممانعت ہے جس کی شرعی اصل نہ ہو، جبکہ حضرت عمرؓ نے “بدعت” کا لفظ لغوی معنی میں ایک نیا انتظام کے لیے استعمال کیا۔ تراویح کی اصل بہرحال نبی کریم ﷺ کے عمل سے ثابت تھی؛ نئی چیز اس کی مستقل باجماعت تنظیم تھی۔
یہ فرق سمجھنا نہایت ضروری ہے۔
اگر ہر نئی چیز صرف نئی ہونے کی وجہ سے بدعت اور گمراہی قرار پائے تو پھر مسلمانوں کی پوری علمی و انتظامی تاریخ سوال بن جائے گی۔ قرآن کو ایک مصحف میں جمع کرنا، اس پر اعراب و نقطے لگانا، پارے اور رکوع مقرر کرنا، حدیث کی کتابیں مرتب کرنا، مدارس قائم کرنا، مساجد میں مینار بنانا اور آج لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے اذان دینا—یہ سب بعد کے ادوار کی چیزیں ہیں۔
لیکن دوسری طرف یہ بھی درست ہے کہ عبادات میں اپنی طرف سے نیا انداز شامل کرنا ایک الگ مسئلہ ہے۔ کسی عبادت کی اصل موجود ہو، اس کے باوجود اس کے لیے کوئی خاص وقت، خاص تعداد، خاص طریقہ یا خاص فضیلت خود سے مقرر کر دینا دلیل کا محتاج ہے۔
یہاں ایک دلچسپ سوال پیدا ہوتا ہے۔
اگر تراویح جیسی نفلی عبادت کو اجتماعی طور پر ادا کرنا جائز ہے، تو قرآن خوانی، ذکر و اذکار، حدیث، وعظ و نصیحت اور نعت کی محافل کو صرف اجتماعی ہونے کی وجہ سے بدعت کیوں کہا جائے؟
نبی کریم ﷺ نے حضرت حسان بن ثابتؓ سے مسجد میں شاعری کے ذریعے دفاعِ رسول ﷺ فرمایا، اور آپ ﷺ نے ان کی حوصلہ افزائی فرمائی۔ اس سے کم از کم یہ ضرور معلوم ہوتا ہے کہ نعت یا مدحِ رسول ﷺ کا اصل تصور نیا نہیں۔ اختلاف اگر ہے تو کسی خاص محفل کی مخصوص شکل، طریقۂ کار یا بعض اضافی عقائد و رسوم پر ہونا چاہیے، نہ کہ محض اس بنیاد پر کہ لوگ اکٹھے ہوکر نعت پڑھ رہے ہیں۔
اسی طرح قرآن پڑھنے، حدیث بیان کرنے، ذکر کرنے اور وعظ و نصیحت کے لیے لوگوں کا جمع ہونا بذاتِ خود کس طرح بدعت بن گیا؟ اگر ان اجتماعات میں کوئی ایسا مخصوص طریقہ یا عقیدہ شامل کر دیا جائے جو شریعت سے ثابت نہیں تو اس پر علمی بحث ضرور ہونی چاہیے، لیکن محض اجتماع کو بدعت قرار دینا شاید بہت وسیع معیار ہے۔
میلاد کا معاملہ بھی اسی اصول سے دیکھا جانا چاہیے۔
اگر کوئی مسلمان رسول اللہ ﷺ کی ولادت کا ذکر کرے، سیرت بیان کرے، درود پڑھے، نعت پڑھے اور اللہ کا شکر ادا کرے تو ان اعمال کی اپنی اپنی اصل شریعت میں موجود ہے۔ اختلاف اس بات پر ہوسکتا ہے کہ کیا ان سب کو کسی مخصوص تاریخ، مخصوص طریقے اور مخصوص مذہبی حیثیت کے ساتھ ہر سال لازم یا سنتِ مقررہ سمجھا جائے؟
اسی طرح محرم کے جلسے اور جلوس بھی ایک الگ بحث ہیں۔ اگر کسی جلوس کی وجہ سے سڑکیں بند ہوں، مریضوں، مسافروں اور عام شہریوں کو تکلیف پہنچے، کاروبار متاثر ہو یا امن و امان کا مسئلہ پیدا ہو تو اس عمل کی یہ صورت ناجائز ہونے کی وجہ سے قابلِ اعتراض ہوسکتی ہے۔ لیکن یہ فیصلہ صرف “بدعت” کے لفظ سے نہیں بلکہ حقوق العباد، ضرر اور اجتماعی مصلحت کے اصول سے بھی کیا جاسکتا ہے۔
یہی اصول میلاد، مذہبی جلوس، اجتماعات اور دوسری تمام مذہبی تقریبات پر یکساں لاگو ہونا چاہیے۔
افسوس یہ ہے کہ ہم نے بدعت کو اکثر علمی اصطلاح کے بجائے ایک دوسرے پر فتوے کا ہتھیار بنا لیا ہے۔
بریلوی، دیوبندی، اہلِ حدیث اور شیعہ—سب کے درمیان ایسے اعمال کی طویل فہرست موجود ہے جنہیں ایک گروہ دین، سنت، مستحب یا جائز سمجھتا ہے اور دوسرا بدعت قرار دیتا ہے۔
تو پھر سوال یہ ہے:
کیا ہر اختلافی مذہبی عمل کو بدعت، اور ہر بدعت کہے جانے والے عمل کو لازماً گمراہی قرار دینا ہی دین کی خدمت ہے؟
میری ناقص رائے میں اس کے بجائے ہمیں ایک واضح اصول اپنانا چاہیے:
جو چیز عبادت کی حیثیت سے دین میں ایجاد کی جائے اور اس کی کوئی شرعی اصل نہ ہو، اس پر “کل بدعة ضلالة” کا اطلاق زیرِ بحث آتا ہے۔ لیکن دین کی تعلیم، تبلیغ، تنظیم اور پہلے سے ثابت عبادتوں کی نئی انتظامی صورتوں کو محض نیا ہونے کی وجہ سے بدعت کہنا درست نہیں۔
اختلاف رہے، دلیل کے ساتھ رہے۔
فقہی اختلاف رہے، مگر ایک دوسرے کی نیتوں پر حملہ نہ ہو۔
کیونکہ دین ایک ہے، قرآن ایک ہے، رسول ﷺ ایک ہیں؛
اختلاف ہماری تاریخ میں ہے، اسلام کی بنیاد میں نہیں۔
