گورنر انسپکشن ٹیم کا یونیورسٹی آف چترال کا دورہ، جامعہ کی مجموعی کارکردگی پر اظہار اطمینان

چترال (نمائندہ چترال ایکسپریس ) صوبے کے جامعات کی مجموعی کیفیات معلوم کرنے اور ان کے مسائل کا تعین کرکے کوئی قابل عمل حل ڈھونڈنے کی غرض سے موجودہ گورنر خیبرپختونخواہ و چانسلر پبلک سیکٹر یونیورسٹیز حاجی غلام علی کی ہدایات کی روشنی میں گورنرانسپکشن ٹیم نے سینیر ممبر شکیل اصغر کی سربراہی میں 6 دسمبر کو یونیورسٹی آف چترال کا دورہ کیا۔ یونیورسٹی پہنچنے پر وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ظاہر شاہ نے ٹیم کو جامع بریفنگ دی اور مختلف جہتوں میں یونیورسٹی کی جانب سے پیشرفت اورجامعہ کی مجموعی کارکردگی سے آگاہ کیا۔اور بتایا کہ انتہائی قلیل مدت میں جامعہ نے گیارہ شعبوں میں بی ایس کے ساتھ چھ شعبہ جات میں روان سمسٹر سے ایم فل پروگرام شروع کیا ہے جبکہ بقیہ شعبوں میں بھی جلد ایم فل پروگرام شروع کئے جارہے ہیں۔ اس کے علاوہ اعلی تعلیم کے فروغ اور تحقیق و ترقی کیلئے جامعہ کی مختلف قومی و بین الاقوامی جامعات اور تعلیمی اداروں سے روابط سے بھی آگاہ کیا۔درپیش مسائل کا ذکر کرتے ہوئے وفد کو بتایاگیا کہ جامعہ کے قیام کا ساتواں سال شروع ہے لیکن جاری اخراجات کی مد میں ابھی تک وفاقی حکومت کی جانب سے کوئی باقاعدہ مالی اعانت کا بندوبست نہیں ہوپایا ہے۔ جبکہ سکالرشپ کی بندش کی بناء پر جامعہ میں داخلوں میں خاطرخواہ کمی ہوئی ہے۔ جس کی وجہ سے جامعہ کے مسائل میں روز افزوں اضافہ ہورہاہے۔

جامعہ میں جاری پی ایس ڈی پی پراجیکٹ کے حوالے سے چیدہ چیدہ باتوں پر پراجیکٹ ڈائیریکٹر انجنئیر محمد ضیاء اللہ نے جی آئی ٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ڈیزائن فیز کی تکمیل کے بعد ٹینڈر ہوچکے ہیں جن کی جانچ پڑتال جاری ہے۔
بعد ازاں مذکورہ ٹیم نے کیمپس کا مفصل دورہ کیا جن میں مرکزی لائیبریری، ہائیرایجوکیشن کمشن کے تعاون سے قائم کردہ سمارٹ کلاس روم اور یوتھ ڈیولپمنٹ سینٹر قابل ذکر ہیں۔ٹیم نے صوبائی حکومت کی جانب سے فراہم کردہ زمینات کا بھی دورہ کیا جہاں یونیورسٹی کی مرکزی کیمپس قائم کی جارہی ہے۔ اپنے اختتامی تاثرات میں ٹیم نے مالی و انتظامی مشکلات کے باوجود یونیورسٹی کی جانب سے تعلیم و تحقیق کے فروغ، بنیادی تعلیمی سہولیات کی فراہمی اور قومی و بین الاقوامی سطح پر جامعات سے تعلقات استوار کرنے کے حوالے سے جامعہ کی کوششوں کو سراہا اور مسائل کے حل کیلئے اپنی بھرپورتعاون کا یقین دلایا۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔