تازہ ترین

چترال میں “ماؤنٹین بایو ڈائیورسٹی اینڈ کلائمیٹ چینج” پر قومی سمپوزیم کا کامیاب انعقاد

چترال(نمائندہ خصوصی) چترال میں “ماؤنٹین بایو ڈائیورسٹی اینڈ کلائمیٹ چینج: رسکس، ایڈاپٹیشن اینڈ اپرچونیٹیز اِن چترال” کے عنوان سے ایک اہم قومی سمپوزیم کامیابی کے ساتھ منعقد ہوا، جس میں ملک بھر سے ماہرینِ ماحولیات، محققین، حکومتی نمائندوں، اساتذہ، سماجی کارکنوں، طلبہ اور مقامی کسانوں نے شرکت کی۔ سمپوزیم میں موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث پہاڑی ماحولیاتی نظام کو درپیش خطرات، حیاتیاتی تنوع کے تحفظ اور مقامی آبادی کے لیے پائیدار ترقی کے امکانات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
یہ سمپوزیم ورچوئل یونیورسٹی آف پاکستان اور یونیورسٹی آف چترال کے اشتراک سے منعقد کیا گیا، جبکہ دونوں جامعات کے آفس آف ریسرچ، انوویشن اینڈ کمرشلائزیشن (ORIC)، شعبہ نباتیات، شعبہ حیوانیات، یاک اینڈ کیمل فاؤنڈیشن جرمنی، محکمہ لائیو اسٹاک اینڈ ڈیری ڈویلپمنٹ خیبرپختونخوا اور محکمہ وائلڈ لائف خیبرپختونخوا نے بھی تعاون کیا۔
سمپوزیم کے فوکل پرسنز میں پروفیسر ڈاکٹر تنویر حسین، ڈائریکٹر ORIC ورچوئل یونیورسٹی، ڈاکٹر حافظ اللہ چیئرمین شعبہ نباتیات یونیورسٹی آف چترال اور ڈاکٹر شاہ فہد علی خان ڈائریکٹر ORIC یونیورسٹی آف چترال شامل تھے۔
تقریب کا آغاز تلاوتِ کلام پاک اور قومی ترانے سے ہوا، جبکہ مہمانوں کو خوش آمدید کہتے ہوئے ڈاکٹر شاہ فہد علی خان نے سمپوزیم کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالی۔ پروفیسر ڈاکٹر تنویر حسین نے اپنے خطاب میں کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث پہاڑی علاقوں کی حیاتیاتی تنوع کو سنگین خطرات لاحق ہیں، جن سے نمٹنے کے لیے مشترکہ تحقیق اور مقامی سطح پر اقدامات ناگزیر ہیں۔
تقریب سے ضلع ڈائریکٹر لائیو اسٹاک اینڈ ڈیری ڈویلپمنٹ چترال ڈاکٹر غلام محمد، محکمہ وائلڈ لائف کے نمائندوں اور یونیورسٹی آف چترال کے وائس چانسلر کے نمائندے ڈاکٹر ثناء اللہ نے بھی خطاب کیا۔ مقررین نے ماحولیاتی تحفظ، جنگلی حیات کے تحفظ اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے مربوط حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
سمپوزیم کے پہلے تکنیکی سیشن میں مختلف ماہرین نے تحقیقی مقالے اور پریزنٹیشنز پیش کیں۔ پروفیسر ڈاکٹر تنویر حسین نے شمالی پاکستان میں یاکس اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات پر تفصیلی گفتگو کی، جبکہ ڈاکٹر صفیر اللہ نے چترال میں مویشیوں کی حیاتیاتی تنوع کو درپیش خطرات اور مواقع بیان کیے۔
اس کے علاوہ اعجاز الرحمن SDFO نے چترال کی جنگلی حیات، ان کے مساکن، تحفظ اور ٹرافی ہنٹنگ فارسٹ کے بارے میں آگاہ کیا۔ ڈاکٹر حافظ اللہ نے ہربیریم، سیڈ بینکس اور نباتاتی تحفظ کی حکمت عملی پر روشنی ڈالی، جبکہ ڈاکٹر شاہ فہد علی خان نے “تمام جانور برابر ہیں لیکن کچھ زیادہ اہم ہیں” کے موضوع پر موسمیاتی تبدیلی کے دور میں اہم انواع کے تحفظ پر دلچسپ مباحثہ پیش کیا۔
دوسرے تکنیکی سیشن میں مشترکہ تحقیقی منصوبوں، بین الشعبہ جاتی تعاون اور پالیسی سازی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ شرکاء نے سوال و جواب کی نشست میں مقامی علم، حیاتیاتی نگرانی، جنگلی و گھریلو جانوروں کے تحفظ اور کمیونٹی بیسڈ کنزرویشن کے مختلف پہلوؤں پر اپنی آراء پیش کیں۔
اختتامی تقریب میں مقررین اور منتظمین میں شیلڈز اور یادگاری تحائف تقسیم کیے گئے، جبکہ ڈاکٹر ثناء اللہ نے اظہارِ تشکر کرتے ہوئے تمام اداروں اور شرکاء کی خدمات کو سراہا۔
سمپوزیم کے اختتام پر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ یونیورسٹیوں، حکومتی اداروں اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کے درمیان تحقیقی تعاون کو مزید مضبوط بنایا جائے گا تاکہ چترال سمیت پہاڑی علاقوں میں حیاتیاتی تنوع کے تحفظ، موسمیاتی تبدیلی سے مطابقت اور مقامی کمیونٹیز کی استعداد کار میں اضافہ ممکن بنایا جا سکے۔

زر الذهاب إلى الأعلى
Ads Blocker Image Powered by Code Help Pro

Ads Blocker Detected!!!

We have detected that you are using extensions to block ads. Please support us by disabling these ads blocker.

Powered By
100% Free SEO Tools - Tool Kits PRO