
امام زین العابدینؓ کی شہادت — صبر، عبادت اور استقامت کا استعارہ..تحریر۔ مبشرالملک
محرم الحرام کا مہینہ ہمیں اہلِ بیتِ رسول ﷺ کی ان عظیم قربانیوں کی یاد دلاتا ہے جنہوں نے اسلام کی حقیقی روح کو زندہ رکھا۔ انہی مقدس ہستیوں میں حضرت امام علی بن حسینؓ، جو امام زین العابدین اور سجاد کے لقب سے مشہور ہیں، تاریخِ اسلام کا ایک روشن باب ہیں۔
روایات میں آتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت امام حسینؓ کی اولاد کے بارے میں بشارتیں عطا فرمائیں، اور حضرت علی بن حسینؓ کو اہلِ بیت کے اس مبارک سلسلے کی ایک عظیم کڑی قرار دیا جاتا ہے۔ آپ حضرت امام حسینؓ کے فرزند تھے اور علم، عبادت، تقویٰ اور اخلاق میں اپنی مثال آپ تھے۔
واقعۂ کربلا کے وقت آپ شدید علیل تھے۔ اسی بنا پر حضرت امام حسینؓ نے انہیں میدانِ جنگ میں جانے کی اجازت نہ دی تاکہ خاندانِ نبوت کی نسل اور امامت و علم کا سلسلہ باقی رہے۔ یوں آپ کربلا کے المناک سانحے کے عینی شاہد بنے۔
شہادتِ امام حسینؓ کے بعد آپ کو اہلِ بیت کی خواتین اور دیگر افراد کے ساتھ قیدی بنا کر کوفہ اور پھر شام لے جایا گیا۔ اس اسیری کے دوران اہلِ بیتِ رسول ﷺ نے جن مظالم، اذیتوں اور بے حرمتیوں کا سامنا کیا، وہ اسلامی تاریخ کا نہایت دردناک باب ہے۔ ان حالات میں بھی امام زین العابدینؓ نے صبر، وقار اور اللہ پر کامل بھروسا کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا۔ آپ سے منقول دعائیں اور مناجات آج بھی روحانی ادب کا قیمتی سرمایہ ہیں، جن میں بندۂ مومن کی عاجزی، صبر اور اللہ سے تعلق نمایاں نظر آتا ہے۔
رہائی کے بعد آپ نے اپنی پوری زندگی کربلا کی یاد تازہ رکھتے ہوئے گزاری۔ روایت ہے کہ جب بھی پانی، کھانا یا شہداء کا ذکر آتا تو آپ کی آنکھیں اشکبار ہو جاتیں۔ اس کیفیت کو علماء حضرت یعقوب علیہ السلام کے اپنے بیٹے حضرت یوسف علیہ السلام کے غم میں مسلسل گریہ سے تشبیہ دیتے ہیں۔ آپ کا غم ذاتی نہیں بلکہ حق، عدل اور دین کی سربلندی کے لیے دی گئی عظیم قربانی کی یاد تھا۔
آپ عبادت کی کثرت کی وجہ سے زین العابدین (عبادت گزاروں کی زینت) اور سجاد (بہت زیادہ سجدے کرنے والے) کے لقب سے مشہور ہوئے۔ آپ نے سیاسی کشمکش سے دور رہ کر علم، اخلاق، تربیت اور روحانیت کے ذریعے امت کی اصلاح کا فریضہ انجام دیا۔
اس کے باوجود اموی حکومت آپ کے غیر معمولی روحانی اثر و رسوخ اور عوام میں مقبولیت سے مطمئن نہ تھی۔ متعدد تاریخی روایات کے مطابق 95 ہجری میں آپ کو زہر دیا گیا، جس کے نتیجے میں آپ کی شہادت ہوئی، اگرچہ اس واقعے کی بعض تاریخی تفصیلات میں اختلاف بھی پایا جاتا ہے۔
حضرت امام زین العابدینؓ کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ تلوار سے بڑھ کر کردار کی قوت، اقتدار سے بڑھ کر تقویٰ، اور انتقام سے بڑھ کر صبر انسان کو تاریخ میں زندہ رکھتا ہے۔ آج قومی مفاد اور امت کے اتحاد کا تقاضا بھی یہی ہے کہ ہم اہلِ بیتِ رسول ﷺ کی محبت، ان کے اخلاق، صبر، عبادت اور انسانیت کے پیغام کو اپنائیں، اختلافات کو ہوا دینے کے بجائے مشترک اسلامی اقدار کو فروغ دیں۔ یہی امام زین العابدینؓ کے لیے بہترین خراجِ عقیدت ہے۔
