
عید میلاد النبی ﷺ — بدعت کا شور کیوں؟۔۔تحریر: مبشرالملک۔
ربیع الاول کا مہینہ آتے ہی ایک مرتبہ پھر ہمارے ہاں بحث چھڑ جاتی ہے کہ عید میلاد النبی ﷺ منانا بدعت ہے یا نہیں؟ بعض لوگ اس قدر شدت سے اسے بدعت قرار دیتے ہیں جیسے مسلمانوں نے کوئی نیا عقیدہ ایجاد کرلیا ہو۔ سوال یہ ہے کہ آخر بدعت کسے کہتے ہیں اور کیا ہر نیا طریقہ بدعت ہوتا ہے؟
دین صرف عبادات کا نام نہیں۔ دین ایمانیات، عبادات، اخلاقیات اور معاملات کا جامع نظام ہے۔ عبادات وہ اعمال اور احکام ہیں جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ نے مقرر فرمائے ہیں۔ ان میں اپنی طرف سے کسی نئی عبادت کا اضافہ کرنا یا کسی مقررہ عبادت میں تبدیلی کرنا یقیناً بدعت کے دائرے میں آتا ہے، کیونکہ عبادت کا طریقہ اپنی مرضی سے مقرر نہیں کیا جاسکتا۔
لیکن معاملاتِ دنیا میں اسلام نے انسان کو عقل، فہم اور تجربے کے استعمال کی آزادی دی ہے۔ زمانے کے ساتھ نئے طریقے اختیار کرنا، نئی ایجادات سے فائدہ اٹھانا اور جائز امور کو بہتر انداز میں انجام دینا بذاتِ خود بدعت نہیں۔ شرط صرف یہ ہے کہ وہ قرآن و سنت کے کسی صریح حکم سے متصادم نہ ہوں۔
پھر میلاد کا معاملہ کیا ہے؟
قرآن و حدیث میں کہیں یہ حکم نہیں ملتا کہ مسلمان ہر سال نبی کریم ﷺ کی ولادت کے دن ایک مخصوص مذہبی جشن منائیں۔ اسی طرح ایسی کوئی صحیح حدیث بھی نہیں جس میں ’’میلاد‘‘ کے نام سے اس کی صریح ممانعت وارد ہوئی ہو۔ ممانعت کرنے والے علماء عموماً اس حدیث سے استدلال کرتے ہیں کہ جو شخص دین میں ایسی چیز داخل کرے جو اس میں نہیں، وہ مردود ہے۔ یہ اصول اپنی جگہ مسلم ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا میلاد کی ہر موجودہ صورت کو ایک نئی عبادت قرار دینا درست ہے؟
دوسری طرف صحیح مسلم کی نہایت معروف حدیث ہے۔ رسول اللہ ﷺ سے پیر کے روزے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا:
’’یہ وہ دن ہے جس میں میری ولادت ہوئی۔‘‘
(صحیح مسلم، 1162)
یہاں رسول اللہ ﷺ نے اپنی ولادت کے دن کو اللہ کی نعمت کے طور پر یاد کیا اور اس دن شکرانے کے طور پر روزہ رکھا۔ البتہ آپ ﷺ نے سالانہ میلاد کی کوئی باقاعدہ محفل یا جشن مقرر نہیں فرمایا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں سے اہلِ علم کے درمیان اختلاف پیدا ہوتا ہے۔
تاریخ کی کتابوں سے معلوم ہوتا ہے کہ موجودہ شکل کی باقاعدہ عوامی میلاد تقریبات عہدِ صحابہؓ میں رائج نہیں تھیں۔ فاطمی مصر میں ایسی تقریبات کا ذکر ملتا ہے، جبکہ اہلِ سنت کی دنیا میں اربل کے حکمران مظفر الدین کوکبری کے دور میں چھٹی صدی ہجری کے آخر اور ساتویں صدی کے آغاز میں بڑی عوامی میلاد تقریب کا اہتمام نمایاں طور پر سامنے آتا ہے۔ بعد کے علماء اور مؤرخین نے اس کے بارے میں تفصیل سے لکھا۔
یہاں سے ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے: اگر یہ تقریب صحابہؓ اور تابعین کے دور میں نہیں تھی تو پھر اسے بدعت کیوں نہ کہا جائے؟
اس سوال کا جواب بھی اہلِ علم نے مختلف انداز میں دیا ہے۔ امام ابن تیمیہؒ نے میلاد کو شرعی عید بنانے کی مخالفت کی اور یہ استدلال کیا کہ اگر یہ مستقل دینی عمل ہوتا تو صحابہؓ ضرور اسے اختیار کرتے۔ دوسری طرف امام سیوطیؒ نے حُسن المقصد فی عمل المولد میں میلاد کی ایسی صورت کو جائز بلکہ باعثِ اجر قرار دیا جس میں قرآن خوانی، سیرتِ رسول ﷺ کا بیان، درود و سلام، صدقہ اور کھانا کھلانا ہو اور کوئی خلافِ شرع کام شامل نہ ہو۔
اس لیے اصل اختلاف کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ایک فریق اسے ایک نئی مذہبی تقریب اور شرعی عید سمجھ کر بدعت قرار دیتا ہے، جبکہ دوسرا فریق اسے عبادت کی نئی قسم نہیں بلکہ اظہارِ محبت، ذکرِ سیرت اور شکرِ نعمت کے ایک جائز اجتماعی طریقے کے طور پر دیکھتا ہے۔
اگر کوئی شخص میلاد کو فرض، واجب یا نبی ﷺ کی مقرر کردہ شرعی عید سمجھتا ہے تو اس دعوے کے لیے دلیل مطلوب ہوگی۔ لیکن اگر مسلمان اسے عبادت کی نئی قسم قرار دیے بغیر نبی کریم ﷺ کی ولادت کی خوشی میں قرآن پڑھتا ہے، درود بھیجتا ہے، سیرت بیان کرتا ہے، صدقہ کرتا ہے، کھانا کھلاتا ہے اور لوگوں کو محبتِ رسول ﷺ اور اتباعِ سنت کی دعوت دیتا ہے، تو اس کے ہر عمل کو محض ’’بدعت‘‘ کہہ کر رد کرنا بھی اتنا سادہ معاملہ نہیں۔
ہاں، اگر میلاد کے نام پر کوئی ایسا کام کیا جائے جو شریعت کے واضح احکام کے خلاف ہو، غلو ہو، فرض عبادات ترک ہوں، فضول خرچی ہو یا نبی ﷺ کے بارے میں ایسے عقائد اختیار کیے جائیں جن کی شریعت میں کوئی بنیاد نہیں، تو اس کی اصلاح ضرور ہونی چاہیے۔
ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ محبتِ رسول ﷺ کسی ایک دن کی محتاج نہیں۔ میلاد ہو یا نہ ہو، اصل کامیابی اس وقت ہے جب ہماری زندگی میں رسول اللہ ﷺ کی سنت، اخلاق، رحم، عدل، امانت اور انسانوں سے حسنِ سلوک نظر آئے۔
اختلاف اپنی جگہ، مگر ایک دوسرے پر فتوے اور طعن و تشنیع سے بچنا چاہیے۔ جو لوگ میلاد مناتے ہیں وہ اسے شریعت کی فرض کردہ عبادت نہ بنائیں، اور جو نہیں مناتے وہ میلاد منانے والوں کی محبتِ رسول ﷺ پر شبہ نہ کریں۔
آخرکار سوال یہ نہیں کہ چراغ کتنے جلائے گئے، بلکہ یہ ہے کہ محمد ﷺ کی محبت کا چراغ ہمارے دل میں کتنا روشن ہے۔
