بشارت از مبشرالملک

یہ کیسا یہودی ایجنٹ ہے؟..تحریر: مبشرالملک

پاکستان کی سیاست میں شاید ہی کوئی ایسا رہنما گزرا ہو جس پر اتنے متضاد الزامات لگے ہوں جتنے عمران خان پر لگائے گئے۔ ایک طرف انہیں “یہودی ایجنٹ”، “مغربی منصوبہ” اور “صہیونی لابی کا نمائندہ” قرار دیا گیا، جبکہ دوسری طرف انہی پر “طالبان خان”، “انتہاپسندوں کا حامی” اور “مغرب مخالف” ہونے کے الزامات بھی عائد ہوتے رہے۔ یہی تضاد اس پورے معاملے کو مزید دلچسپ اور پیچیدہ بنا دیتا ہے۔

پاکستان میں عمران خان کے ناقدین کی سب سے بڑی دلیل ان کی سابق اہلیہ جمائما گولڈ اسمتھ کا پس منظر رہا ہے۔ چونکہ ان کا تعلق ایک معروف یہودی النسل خاندان سے تھا، اس لیے بعض مذہبی اور سیاسی حلقوں نے اس تعلق کو سیاسی رنگ دیتے ہوئے عمران خان کے خلاف استعمال کیا۔

مولانا فضل الرحمٰن اور بعض دیگر سیاسی رہنما مختلف مواقع پر عمران خان کو “یہودی لابی کا آدمی” قرار دیتے رہے۔ اسی طرح سوشل میڈیا اور عوامی مباحث میں بھی یہ الزام بار بار دہرایا جاتا رہا کہ عمران خان دراصل مغربی اور صہیونی مفادات کے نمائندہ ہیں۔

بعض حلقے مرحوم ڈاکٹر اسرار احمد کے بعض بیانات اور خطابات کا حوالہ دیتے ہیں جن میں انہوں نے عمران خان کے بعض نظریات، طرزِ فکر اور مغربی اثرات پر تنقید کی تھی۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ ڈاکٹر اسرار احمد کی تنقید کا محور زیادہ تر فکری اور تہذیبی مسائل تھے، نہ کہ کسی فرد کے خلاف کوئی عدالتی یا تحقیقی نوعیت کا الزام۔

اسی طرح مرحوم حکیم محمد سعید نے اپنی تحریروں اور خطابات میں صہیونیت، تہذیبی یلغار اور مسلم دنیا کے خلاف جاری فکری جنگ کے خطرات سے خبردار کیا تھا۔ تاہم دستیاب تاریخی ریکارڈ میں ایسا کوئی مستند ثبوت موجود نہیں کہ انہوں نے عمران خان کو براہِ راست “یہودی ایجنٹ” قرار دیا ہو۔ ان کی تشویش افراد سے زیادہ نظریات اور عالمی رجحانات کے بارے میں تھی۔

دوسری جانب عمران خان کے حامی ایک بالکل مختلف تصویر پیش کرتے ہیں۔ ان کے مطابق اگر کسی شخصیت کا جائزہ لینا ہو تو اس کے خلاف لگائے گئے نعروں اور الزامات کی بجائے اس کے عملی اقدامات کو دیکھا جانا چاہیے۔

ان کے حامی یاد دلاتے ہیں کہ عمران خان نے سیرتِ نبوی ﷺ کے فروغ کے لیے تعلیمی اور فکری اقدامات کی حوصلہ افزائی کی، سیرت النبی ﷺ کے موضوع کو قومی سطح پر اجاگر کیا، اور نوجوان نسل کو حضور اکرم ﷺ کی تعلیمات سے جوڑنے کی کوشش کی۔ اسی دور میں رحمت اللعالمین ﷺ اتھارٹی کے قیام کا تصور بھی سامنے آیا تاکہ معاشرے میں سیرتِ طیبہ کے مطالعے کو فروغ دیا جا سکے۔

بین الاقوامی سطح پر عمران خان نے ناموسِ رسالت ﷺ کے مسئلے کو اقوامِ متحدہ اور دیگر عالمی فورمز پر بار بار اٹھایا۔ اسلاموفوبیا کے خلاف آواز بلند کی اور مسلم ممالک کو اس مسئلے پر متحد کرنے کی کوشش کی۔ بعد ازاں اقوامِ متحدہ کی جانب سے اسلاموفوبیا کے خلاف عالمی دن منانے کی قرارداد کی منظوری کو بھی ان کے حامی ایک اہم سفارتی کامیابی قرار دیتے ہیں۔

ریاستِ مدینہ کے تصور کو بھی ان کے حامی ان کے دورِ حکومت کا نمایاں پہلو قرار دیتے ہیں۔ احساس پروگرام، پناہ گاہیں، لنگر خانے، صحت کارڈ، غریب خاندانوں کے لیے مالی امداد اور فلاحی منصوبے اسی سوچ کا حصہ سمجھے جاتے ہیں۔ لاکھوں افراد کو علاج معالجے کی سہولت فراہم کی گئی اور معاشرے کے کمزور طبقات کو سہارا دینے کی کوشش کی گئی۔

ختمِ نبوت ﷺ کے معاملے میں عمران خان نے بارہا واضح اور دوٹوک مؤقف اختیار کیا اور اسے اپنے ایمان کا حصہ قرار دیا۔ ان کے حامیوں کے مطابق اس معاملے پر انہوں نے کبھی ابہام پیدا نہیں ہونے دیا۔

خارجہ پالیسی کے میدان میں عمران خان نے بار بار یہ مؤقف اختیار کیا کہ پاکستان کو کسی طاقت کے تابع بننے کے بجائے برابری اور باہمی احترام کی بنیاد پر تعلقات استوار کرنے چاہئیں۔ امریکی فوجی اڈوں کے بارے میں ان کا مشہور “ایبسولوٹلی ناٹ” کا جواب آج بھی ان کے حامیوں کے نزدیک قومی خودداری کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

ان کے حامی یہ بھی استدلال کرتے ہیں کہ عمران خان نے بڑی طاقتوں کے سامنے جھکنے کے بجائے آزاد خارجہ پالیسی اختیار کرنے کی کوشش کی، جس کے نتیجے میں بعض طاقتور ممالک اور علاقائی اتحادی ان سے ناخوش ہوئے۔ ان کے نزدیک اقتدار سے محرومی بھی اسی آزاد مؤقف اور قومی خودمختاری پر اصرار کی قیمت تھی، نہ کہ کسی بیرونی ایجنڈے کی تکمیل کا نتیجہ۔

عمران خان کے حامی ایک اور نکتہ بھی اٹھاتے ہیں جو ان کے نزدیک “یہودی ایجنٹ” کے الزام کو مزید کمزور کرتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جمائما گولڈ اسمتھ کے یہودی پس منظر کو بنیاد بنا کر عمران خان پر اعتراض کرنے والے عموماً اس حقیقت کو نظر انداز کر دیتے ہیں کہ شادی کے وقت جمائما نے اسلام قبول کیا، پاکستانی معاشرے کا حصہ بنیں، اردو سیکھی، پاکستانی لباس اور روایات اختیار کیں اور ایک عرصے تک اسلامی ماحول میں زندگی بسر کی۔

خان کے چاہنے والوں کے مطابق اگر کوئی شخص ایک غیر مسلم خاتون کو اسلام سے روشناس کرائے، اسے اسلامی اور پاکستانی معاشرے کا حصہ بنائے اور اس کی دینی تربیت کا اہتمام کرے تو اسے “یہودی ایجنٹ” قرار دینا ایک عجیب تضاد معلوم ہوتا ہے۔ ان کے نزدیک یہ پہلو بھی انصاف کا تقاضا کرتا ہے کہ اسے تعصب کے بغیر دیکھا جائے۔

حامیوں کا مؤقف ہے کہ بدقسمتی سے یہ رشتہ شروع ہی سے سیاسی مخالفت، سماجی دباؤ اور بعض مذہبی و مسلکی حلقوں کی تنقید کا نشانہ بنتا رہا۔ ان کے خیال میں ایک نومسلم خاتون کو وہ قبولیت اور حوصلہ افزائی نہ مل سکی جس کی اسلام ہمیں تعلیم دیتا ہے۔ چنانچہ وہ یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ کہیں ہم نے اپنی تنگ نظری اور سیاسی عداوتوں کے باعث ایک نومسلم بہن کے لیے زندگی کو دشوار تو نہیں بنا دیا؟

دوسری طرف ناقدین اس تجزیے سے اتفاق نہیں کرتے اور ان کے سیاسی، معاشی اور انتظامی فیصلوں پر سخت تنقید کرتے ہیں۔ لیکن ایک سوال اپنی جگہ موجود رہتا ہے کہ اگر کسی شخص پر “یہودی ایجنٹ” ہونے کا الزام لگایا جائے تو اس الزام کو ثابت کرنے کے لیے محض سیاسی مخالفین کے بیانات کافی نہیں ہوتے بلکہ ٹھوس، قابلِ تصدیق اور ناقابلِ تردید شواہد درکار ہوتے ہیں۔

آج تک نہ کسی عدالت نے عمران خان کو “یہودی ایجنٹ” قرار دیا، نہ کسی سرکاری تحقیقاتی ادارے نے ایسا نتیجہ اخذ کیا، اور نہ ہی کوئی ایسی دستاویز منظرِ عام پر آئی جو اس الزام کو ثابت کرتی ہو۔ چنانچہ تاریخی اور تحقیقی معیار کے مطابق یہ دعویٰ اب تک ایک سیاسی الزام ہے، ثابت شدہ حقیقت نہیں۔

اگر تمام تر اختلافات، سیاسی غلطیوں اور کمزوریوں کے باوجود کسی شخص کے دامن میں ناموسِ رسالت ﷺ کی حمایت، ختمِ نبوت ﷺ سے وابستگی، فلاحی ریاست کا تصور، غریب پروری، قومی خودمختاری اور بیرونی دباؤ کے سامنے مزاحمت جیسے پہلو موجود ہوں، تو پھر تاریخ کا طالب علم یہ سوال پوچھنے پر حق بجانب ہے:

“یہ کیسا یہودی ایجنٹ ہے؟”

کہ تین سال سے مشق ستم ہے اور قید تنہاٴی کاٹ رہاہے مگر اس کے حوصلے پست نہیں ہورہے اور اس کی مقبولیت بݱھتی جارہی ہے اور نہ عالمی یہودی دنیا اس کی مدد کو ارہی ہے؟

اس یہودی ایجنٹ کو گرانے اور قیدی بنانے کے بعد أزاد حکمرانوں نے ملک اور یہود کی مفادات کے لیے کیا کیا نہ کیااس کا جواب ہر قاری اپنے علم، شعور اور ضمیر کی روشنی میں خود تلاش کر سکتا ہے۔

🎁 روزانہ مفت پوائنٹس اور انعامات!

خبریں پڑھیں، کوئز کھیلیں اور انعامات جیتیں۔ اپنے پوائنٹس حاصل کرنے کے لیے ہمارے ریوارڈ پورٹل پر جائیں۔

اپنا انعام حاصل کریں ➔
زر الذهاب إلى الأعلى
Ads Blocker Image Powered by Code Help Pro

Ads Blocker Detected!!!

We have detected that you are using extensions to block ads. Please support us by disabling these ads blocker.

Powered By
Best Wordpress Adblock Detecting Plugin | CHP Adblock